از: مفتی محمد عامر یاسین ملی
الحمدللہ! درس قرآن کے اس انداز کو عوام وخواص بطور خاص درس قرآن کے افتتاحی پروگرام میں دھولیہ کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا مختارسعید مدنی صاحب نے پسند فرمایا اور اسے قرآن کا فطری انداز قرار دیا ۔ماشاء اللہ! ہر ہفتہ بدھ کے روز اچھی تعداد میں باذوق مرد حضرات اور خواتین مجلس درس میں شریک ہورہے ہیں ۔ مشاغل کی کثرت اور وقت کی تنگی کا خیال رکھتے ہوئے درس قرآن کا دورانیہ محض تیس منٹ مقرر کیا گیا ہے ، اس کے علاوہ دس منٹ دینی سوال وجواب کے لیے بھی مختص ہیں، اس طرح کم وبیش چالیس منٹ میں درس قرآن کی مجلس مکمل ہوجاتی ہے ۔
اب تک جن عنوانات پر درس قرآن دیا گیا ان میں
(۱)قرآن سمجھنے اور عمل کرنے کے دینی ونیوی فوائد
(۲)میراث کے مسائل اور ان کا حل
(۳)ہبہ ، وصیت اور مرحوم کے قرض سے متعلق شرعی احکام
(۴)سیرت طیبہ قرآن کی روشنی میں
قابل ذکر ہیں ۔درس قرآن کی اگلی مجلس 16 ؍ستمبر بدھ کے روز منعقد ہوگی ،جس کا عنوان ’’صحت کی قدر اور بیماریوں پر صبر‘‘طے کیا گیا ہے ۔
قارئین! کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سب کی سربلندی اپنے کلام پاک سے وابستگی اور اس پر عمل میں پوشیدہ رکھی ہے ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"بے شک اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن مجید) کے ذریعے بہت سے لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کے ذریعے بہت سے لوگوں کو پست کرتا ہے"۔(مسلم)
قرآن پاک پر ایمان لانے کے بعد اس کی تلاوت، اس کو سمجھنا ، اس پر عمل کرنا اور اس کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانا ایمان والوں کے لیے دنیا و آخرت میں کامیابی و سرخروئی کا ذریعہ ہے، اور اس سلسلے میں غفلت دونوں جہانوں میں ذلت و ناکامی کا باعث ہے ۔ یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ قرآن کریم کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کے لیے محض اس کی تلاوت کافی نہیں، بلکہ اس کی تعلیمات و ہدایات اور نصیحتوں کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا بھی ضروری ہے ۔ موجودہ دور میں قرآن فہمی اور اس کے احکام کو سمجھنے کا ایک آسان ذریعہ درس قرآن کی مجالس ہیں ، جو درحقیقت اپنے پرودگار سے ہم کلام ہونے کی مجالس ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر آپ رب سے باتیں کرنا چاہتے ہیں تو نماز پڑھیں اور اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ رب خود آپ سے بات کرے تو اس کا کلام(قرآن)پڑھیں۔
قارئین غور کریں، ہفتے میں ایک سو اڑسٹھ (168)گھنٹے ہوتے ہیں، نہ جانے کتنے گھنٹے غیر ضروری مشاغل اور سوشل میڈیا کی نذر ہو جاتے ہیں، اگر ہم ہر ہفتہ محض آدھا گھنٹہ اپنے رب کی باتیں سننے کے لیے فارغ کرلیں اور پابندی کے ساتھ درس قرآن کی کسی مجلس میں شرکت کا معمول بنالیں، تو آہستہ آہستہ ہمارا تعلق قرآن سے اور پھر اس کے واسطے سے رب سے مضبوط ہوتا چلا جائے گا اور قرآن اور اس کی تعلیمات پر عمل کی برکتیں ہماری زندگی میں نظر آنا شروع ہو جائیں گی ان شاءاللہ ! بقول شاعر
پاجائیں گے ہم آج بھی کھویا ہوا اعزاز
ہو جائیں دل و جان سے گر عامل قرآن
جو خالق عالم سے ملاتا ہے وہ حافظؔ
قرآن ہے قرآن ہے قرآن ہے قرآن
لہذا ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنا اور عام مسلمانوں کا رشتہ قرآن پاک سے جوڑنے کی فکر اور کوشش کریں، بطور خاص وقت فارغ کرکے مجلس درس قرآن میں شرکت کریں۔ اسی طرح اپنے متعلقین اور اہل خانہ کو بھی شرکت کی ترغیب دیں اور مجلس درس قرآن میں جو پیغام دیا جائے اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں ۔
*-*-*
0 تبصرے