از : مفتی محمد عامر یاسین ملی
آج متعدد دیہاتوں سے فون آئے اور مقامی طور پر بھی کچھ لوگوں نے میسج کرکے پوچھا کہ
(۱) امسال شب برأ ت کب ہوگی ؟(۲) ۱۵؍شعبان کا روزہ کس دن رکھنا ہوگا ؟(۳)جمعہ کے دن ۱۵؍شعبان کا روزہ رکھ سکتے ہیں یا نہیں ؟
مذکورہ سوالات کے جوابات بالترتیب ملاحظہ فرمائیں :
امسال جمعہ کی شب ہی شب برأت ہوگی ،یعنی جمعرات کا دن گزر جانے کے بعد جو شب آئے گی وہ شب برأت کہلائےگی ۔
شب برأت گزر جانے کے بعد جو دن آئے گا ،وہ جمعہ کا دن ہوگا اور جو حضرات اس دن یعنی ۱۵؍شعبان کو روزہ رکھنا چاہتے ہیں، وہ رکھ سکتے ہیں ۔۱۵؍شعبان کے سلسلے میں حضرات علماء کرام کے مختلف اقوال ہیں ،بعض حضرات نے اسے مستحب قرار دیا ہے ،اور بعض نےخاص ۱۵؍شعبان کے روزے کی کسی فضیلت کا انکار کیا ہے ،البتہ تمام حضرات اس بات پرمتفق ہیں کہ نبی کریم ﷺ شعبان کے مہینے میں بکثرت روزہ رکھا کرتے تھے ،اسی طرح ایام بیض یعنی ہر ہجری مہینے کی ۱۳،۱۴ ؍اور ۱۵ ؍تاریخ کو بھی رسول اللہ ﷺ روزے کا اہتمام فرماتے تھے اور صحابہ کوروزہ رکھنے کی ترغیب دیتے تھے ،لہذا اگر کوئی شخص یہ سوچ کر کہ میں شعبان میں بکثرت روزہ نہیں رکھ پاتا ہوں ،کم ازکم اسی دن روزہ رکھ لوں،اور پھر وہ اس نیت سے ۱۵؍شعبان کو روزہ رکھ لے تو بالکل جائز اور درست ہے اور اسےروزہ رکھنے کا ثواب ملے گا۔اسی طرح اگر اللہ توفیق اور ہمت دے تو شعبان کے دیگر دنوں میں بھی روزے کا اہتمام کریں ۔
حدیث شریف کے اندر تنہا جمعہ کا دن نفل روزے کے لیے خاص کرنے کی ممانعت آئی ہے ،لیکن اگر ایام بیض (ہجری ماہ کی تیرہ ، چودہ ، پندرہ تاریخ)جمعہ کے دن آجائیں یا یوم عرفہ ،عاشوراءیا ۱۵؍شعبان جمعہ کے دن آجائے تو جمعہ کے دن ان ایام کی مناسبت سے روزہ رکھنا درست ہوگا اور ان روزوں کے جو فضائل ہیں، وہ بھی حاصل ہوں گے۔فقط واللہ اعلم
امید ہے کہ اس وضاحت کے ذریعے جو حضرات اس سلسلے میں کشمکش میں مبتلا ہیں، وہ مطمئن ہوجائیںگے ۔یہ بھی گزارش ہے کہ دینی معاملات اور مسائل میں باہمی بحث ومباحثہ نہ کریں اور بغیر علم کے دوسروں کو مسئلہ بتانے سے گریز کریں ،بہتر یہی ہے کہ معتبر اہل علم سے رجوع کریں۔
0 تبصرے