شہر مالیگاؤں کو مسجدوں او ر مدرسوں کا شہر کہاجاتا ہے ،یہاں لڑکوں کے علاوہ لڑکیوں کے لیے بھی بڑے بڑے مدارس قائم ہیں، جن میں ہزاروں لڑکیاں علم دین حاصل کررہی ہیں ،شہر کے مشرقی علاقے پوارواڑی میں دارالیتمیٰ کے نام سے ایک دینی ادارہ قائم ہے،جو اس لحاظ امتیازی شان کا حامل ہے کہ اس میں قوم کی یتیم اور بے سہارا بچیوں کو نہ صرف یہ کہ علم دین کے زیور سے آراستہ کیا جاتا ہے بلکہ ان کی اچھے انداز میں تربیت اور پرورش بھی کی جاتی ہے،یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جاتی ہیں تو مناسب جگہ رشتہ طے کر کے ان کا نکاح بھی کرادیا جاتا ہے ۔بلاشبہ یہ ایک اہم ،قابل قدر ،لائق تقلید اور بے مثال خدمت ہے۔اس لیے کہ جب کوئی بچی یتیم ہوجاتی ہے تو نہ صرف یہ کہ وہ اپنے باپ کی شفقت سے محروم ہوتی ہے بلکہ تعلیم وتربیت سے محرومی بھی اس کا مقدر بن جاتی ہے اور پھر افلاس و تنگ دستی اور ظلم وستم سہنے کے سوا کوئی چیز اس کے حصے میں نہیں آتی ،اس طرح ایک یتیم بچی کی زندگی گویا ضائع اور برباد ہوجاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام میں یتیم بچوں اور بچیوں کی کفالت، پرورش، ان کے ساتھ حسن سلوک کے بڑے فضائل بیان کیے گئے ہیں اور ان کی حق تلفی اور ان کے ساتھ بدسلوکی پر وعیدیں بھی وارد ہوئی ہیں ۔قرآن کریم میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے :
اور یتیموں کو اُن کے مال دے دو اور اچھے مال کو خراب مال سے تبدیل نہ کرو ، اور اُن( یتیموں) کا مال اپنے مال کے ساتھ ملاکر مت کھاؤ! بے شک یہ بڑا گناہ ہے۔‘‘(سورۃ النساء)
اور یتیموں کو جانچتے رہو، یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے لائق عمر کو پہنچ جائیں تو اگر تم یہ محسوس کروکہ اُن میں سمجھ داری آچکی ہے تو اُن کے مال اُن ہی کے حوالے کردو! ‘‘(سورۃ النساء)
زمانۂ جاہلیت کا ایک دستور تھا کہ یتیم بچے بچی کے عاقل بالغ ہونے سے پہلے پہلے ہی محض اِس غرض اور نیت سے اُن کے مال کو جلدی جلدی ہڑپ کرلیا جاتا کہ کہیں سن شعور کو پہنچنے کے بعد اُن کو یہ مال واپس نہ کرنا پڑجائے، اِس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:
اور یہ مال فضول خرچی کرکے اور یہ سوچ کر جلدی جلدی نہ کھا بیٹھو کہ وہ کہیں بڑے نہ ہوجائیں۔اور (یتیموں کے سرپرستوں میں سے) جو خود مال دار ہو وہ تو اپنے آپ کو (یتیم کا مال کھانے سے) بالکل پاک رکھے ۔ ہاں! اگر وہ خود محتاج ہو تو معروف طریقہ کار کو ملحوظ رکھتے ہوئے کھالے۔پھر جب تم اُن کے مال اُنہیں دو تو اُن پر گواہ بنالو اور اللہ حساب لینے کے لئے کافی ہے۔‘‘(سورۃ النساء:06)
احادیث میں بھی نبی کریم ﷺ نے یتیموں کے ساتھ شفقت اور صلہ رحمی کی ترغیب دی ہے ۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضور اکرمﷺسے اپنے دل کی سختی کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا کہ: ’’ یتیم کے سرپر ہاتھ پھیرا کرواور مسکین کو کھانا کھلایا کرو۔‘‘ (مسند احمد: 7577)
حضرت بشیر بن عقبہ جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ اُحد کے دن میری حضور اکرم ﷺسے ملاقات ہوئی ، میں نے پوچھا میرے والد کا کیا ہوا؟‘‘حضورﷺ نے فرمایا: ’’وہ تو شہید ہوگئے، اللہ تعالیٰ اُن پر رحم فرمائے۔‘‘ میں یہ سن کر رونے لگ پڑا۔ حضورﷺنے مجھے پکڑ کر میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے اپنے ساتھ اپنی سواری پر سوار کرلیااور فرمایا کہ: ’’کیا تم اِس پر راضی نہیں ہوکہ میں تمہارا باپ بن جاؤں اور عائشہ ؓ تمہاری ماں؟‘‘(شعب الایمان للبیہقی:10533)حضرت اُم سعید بنت مرہ الفہری رضی اللہ عنہا اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا شخص جنت میں اِس طرح ہوں گے، اس کے بعد آپ نے درمیان والی انگلی اور شہادت والی اُنگلی سے اشارہ فرمایا۔‘‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریمﷺنے ارشاد فرمایا: ’’مسلمانوں کا سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہواور اُس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہواور سب سے برُا گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اُس کے ساتھ برُا سلوک کیا جاتا ہو۔ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اِس طرح ہوں گے اور آپ نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ فرمایا۔‘‘
قارئین! اس وقت مسلم معاشرے میں نہ جانے کتنی بڑی تعداد میں یتیم بچے اور بچیاں موجود ہیں جن کے سر پر دست شفقت پھیرنے والا کوئی نہیں ہے،خدا غریق رحمت کرے دارالیتمی کے بانی قاری محمد اسحاق قاری محمد عمر ؒ کو جنہوں نے قوم کی بے سہارا اور یتیم بچیوں کی کفالت اور تعلیم وتربیت کا بیڑہ اٹھایااور اپنے والد قاری محمد عمر ؒ کی سرپرستی اور اپنی ہمشیرہ قاریہ قمر النساء صاحبہ کی نگرانی میں ۲۰۰۰ء میں دارالیتمیٰ کی بنیادی رکھی۔۲۰۰۶ء میں اس ادارے میں یتیم بچیوں کے لیے باضابطہ ہاسٹل قائم کیا گیا،تب سے لے کر آج تک یہ ادارہ یتیم بچیوں کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے اور منظم انداز میں ان کی تعلیم وتربیت اورکفالت کا فریضہ انجام دے رہا ہے ،فی الوقت دارالیتمیٰ میں تقریباً ۱۵۰ بچیاں زیر تعلیم ہیں جن کے قیام وطعام ،کپڑے ،علاج و معالجہ ، دینی وعصری تعلیم کا بہترین نظم ادارے کی جانب سے کیاجاتا ہے،اب تک اس مدرسے سے ۲۱؍عالمات ۳؍حافظات کے علاوہ چالیس یتیم بچیوں کا نکاح ہوچکا ہے اور تقریباً ۲۰سے ۳۵ ایسی بیوہ عورتیں ہیں جنہوں نے اپنی بچیوں کو دارالیتمیٰ میں داخل کر کے دوسرانکاح کیا اور خوشگوار زندگی گزار رہی ہیں، ورنہ بچیوں کی موجودگی میں ان کے لئے نکاح ثانی کا مرحلہ آسان نہ تھا ۔
قاری محمد اسحاق ؒ نہ باضابطہ عالم دین تھے اورنہ اعلی تعلیم یافتہ،انہوں نے محض گیارہویں جماعت تک عصری تعلیم حاصل کی تھی ،جب کہ ناظرہ قرآن پاک بالتجوید اپنے والد قاری محمد عمرؒ کے پاس مکمل کیا تھا، لیکن ان کے دل میں قوم کی یتیم بچیوں کی تئیں فکر اور کڑھن موجود تھی ،جس نے ان کو ایسی عظیم الشان خدمت کی انجام دہی پر آمادہ کیا ۔لمبے قد ،قدرے کشادہ پیشانی ،گندمی رنگ،گھنی سفید داڑھی اور متوازن جسم کے مالک قاری محمد اسحاق ؒ کو عوام وخواص قاری صاحب کہہ کر پکارتےتھے ، وہ بااخلاق اور سخی شخص تھے ، چنانچہ بیرون شہر سے آنے والے بہت سارے سفراء کی ضیافت کا اہتمام وہ اپنے مدرسے اور اپنے ذاتی مکان میں کیا کرتے تھے ۔وہ علماء کرام کے بھی بڑے قدر داں تھے ،چنانچہ ان کی زندگی میں ان کی دعوت پر ملک کے اکابر علماء کرام دارالیتمیٰ میں تشریف لائے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔اب تک جن قابل قدر علماء کرام نے اپنی حاضری سے دارالیتمیٰ کو اعزاز بخشا ہے ان میں، حضرت مولانا سید محمدرابع حسنی ندوی ؒ، حضرت مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی ؒ، حضرت مولانا ابوظفر حسان ندوی ؒ،حضرت مولانا غلام محمد وستانوی،حضرت مولانا قاری صلاح الدین سیفی، نقشبندی،حضرت مولانا بدرالدین اجمل قاسمی،حضرت مولانا خالد غازی پوری، حضرت مولانا کلیم صدیقی،حضرت مولانا مفتی محمد عمر صاحب جونپوری، حضرت مولانا منیر احمد (کالینہ والے) دامت برکاتہم شامل ہیں۔
ماشاءاللہ دارالیتمیٰ اپنے قیام کے روز اول سے اچھے انداز میں یتیم بچیوں کی تعلیم وتربیت اور کفالت کا فریضہ انجام دے رہا ہے،فی الحال قاری صاحب کے بڑے بیٹے قاری محمد سلمان صاحب اس ادارے کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری بحسن و خوبی نبھا رہے ہیں ۔موصوف اپنے والد ہی کی طرح خوش مزاج ،ملنسار ،کم گو اور علماء کرام کے قدر داں اور حوصلہ مند نوجوان ہیں،اللہ تعالیٰ انہیں مزید ہمت وحوصلہ اور قوت بخشے۔
۲۰۱۵ء میں قاری محمد عمر ؒ رمضان کے بابرکت مہینے میں عارضہ قلب پیش آنے کے سبب اللہ تعالیٰ کی جوار رحمت میں پہنچ گئے،عام طریقے پر جب کسی شخص کا انتقال ہوتا ہے تو اس کے بچے یتیم ہوجاتے ہیں لیکن قاری صاحب مرحوم کے انتقال پر ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں بچیاں یتیم ہوگئی تھیں ۔آج ان کے وصال کو آٹھ سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے لیکن خلوص و للہیت کے ساتھ یتیم بچیوں کی تعلیم و تربیت اور پرورش کے لیے قائم کیا گیا ان کا ادارہ شاد وآباد ہے اور حضرت قاری صاحب کی خدمات کا گواہ بنا ہوا ہے، جس کو دیکھ کر عوام وخواص قاری صاحب ؒ کو یاد کرتے اور ان کے حق میں دعا خیر کرتے ہیں ۔
خوشی ومسرت کی بات ہے کہ حضرت قاری صاحب ؒ کی یاد میں مجلس ابنائے قدیم مدرسہ اسلامیہ کے زیر اہتمام مورخہ ۲۲؍اکتوبر کو جمہور ہائی اسکول میں پانچواں عظیم الشان آل مالیگاؤں مسابقۂ اذان ،پارۂ عم ،سورہ یاسین اور سورہ واقعہ حفظ منعقد کیا جارہا ہے ۔اپنے بزرگوں کو یاد رکھنے اور ان کی خدمات سے آنے والی نسلوں کو واقف کرانے کا یہ ایک بہترین ذریعہ ہے ،اس پروگرام کے انعقاد پر مجلس ابنائے قدیم مدرسہ اسلامیہ قابل مبارکباد ہے ،دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت قاری صاحب ؒ کی خدمات کو شرف قبولیت بخشے ان کے قائم کردہ ادارے دارالیتمیٰ کو مزید ترقیات سے نوازے اور ہونے والے مسابقے کو اپنے مقصد میں کامیاب فرمائے ۔آمین
0 تبصرے