Ticker

6/recent/ticker-posts

حرمین شریفین کے چند خوشنما مناظر


(سفر نامہ حرمین قسط نمبر 5)

تحریر:مفتی محمد عامر یاسین ملی
8446393682

      حرمین شریفین یوں توہر وقت ہی زائرین، طائفین اور عبادت کرنے والوں سے آباد رہتاہے، لیکن نمازوں کے اوقات میں دونوں یہ جگہوں پر مجمع کئی گنا بڑھ جاتاہے اور حرمین کی رونق دو چند ہو جاتی ہے۔ہمارا حال تو یہ ہے کہ اذان ہوجانے کے بعد بھی ہم لوگ کاموں میں مشغول رہتے ہیں اور اطمینان سے مسجد میں حاضر ہوتے ہیں ، یہاں تک کہ ایک دو رکعت فوت ہوجاتی ہے ، حالانکہ بندہ مومن کی شان یہ ہونی چاہیے کہ
آواز اذاں سن لے تو ہوشیارہو مسلم
مسجد کی طرف مائلِ رفتار ہو مسلم
     مکہ اور مدینہ میں اذان سے گھنٹہ بھر پہلے ہی لوگ جوق در جوق حرمین کی جانب بڑھنے لگتے ہیں، یہاں تک کہ نصف شب کو بھی ہم حرم جاتے تو یہی منظردیکھنے کو ملتا، ایک روز ہمشیرہ محترمہ مجھ کہنے لگیں کہ بھائی دیکھو!دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں لاکھ مرد اور عورتیں کس طرح دیوانہ وار اللہ کے دربار کی طرف اس کے آگے سجدہ کرنے ،اپنے گناہوں کی بخشش اور دعا کرنے کے لیے دوڑ رہے ہیں، اس منظر کو دیکھ کر خدا کی بلند شان اور اس کی بے نیازی بھی سمجھ میں آتی ہے کہ اگر کوئی شخص اس کی عبادت نہ کرے توخداکا کیا نقصان ، اس کی عبادت کرنے والے مردوں اور عورتوں کی کوئی کمی نہیں ہے، نقصان توبندے کاہی ہے ۔ 
مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِہٖ وَ مَنۡ اَسَآءَ فَعَلَیۡہَا وَ مَا رَبُّکَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ 
ترجمہ: جو کوئی نیک عمل کرتا ہے، وہ اپنے ہے فائدے کے لیے کرتا ہے اور جو کوئی برائی کرتا ہے، وہ اپنے ہی نقصان کے لیے کرتا ہے اور تمہارا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والانہیں ہے۔
(سورہ فصلت آیت نمبر ۴۶)
      قارئین ! خدا آپ کو بھی وہاں کی حاضری نصیب کرے ، تو آپ دیکھیں گے کہ مطاف تو ہمہ وقت بھرا رہتاہے، مسجد نبوی خصوصا ریاض الجنہ کا بھی یہی عالم ہوتاہے،اذان سے پہلے ہی حرم مکی اور نبوی کی نچلی منزل بھر جاتی ہے اورپھر بعد والوں کو اوپری منزل میں اورباہر صحن میں جگہ ملتی ہے ۔یہاں تک کہ لوگ سڑکوں او ر فٹ پاتھ پربھی نماز ادا کرتے ہیں۔ مکہ اور مدینہ میں قیام کے دوران راقم کو حرمین شریفین کے مختلف مقامات (مطاف ، مسعیٰ، حطیم، صحن، اور چھت )پرنماز کی ادائیگی کا موقع میسر آیا۔ہر جگہ عبادت کا ایک الگ ہی لطف آیا اور ہر مقام پر بندگان خدا کاقابل دید نظارہ دیکھنے کو ملا۔فرض نمازوں کی ادائیگی کا منظر توانتہائی خوبصورت اور روحانی ہوتا ہے ، جس وقت اذان ہوتی ہے اور حرم مکی کے مؤذن اپنی خوبصورت آواز اور عمدہ لب و لہجہ میں صدائے اللہ اکبربلند کرتے ہیں تو گویا خدا کی عظمت اور کبریائی کا احساس دوبالا ہوجاتاہے اور جب امام حرم اپنی لحن داؤدی میں تلاوت کرتے ہیں تو دل و دماغ جھوم اٹھتے ہیں ، محسوس ہوتا ہے کہ قرآن پاک نازل ہورہاہے اور خدائے ذوالجلال اپنے بندوں سے مخاطب ہے،قرآن کریم کے معانی اور مطالب سمجھنے والوں کوقرآن سننے میں اور بھی زیادہ لذت وحلاوت محسوس ہوتی ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا ؎
قرآں کی حلاوت کو کیسے سمجھاؤں زبیراب دنیا کو
جس نے بھی مزہ پایا اس کا محسوس کیا سمجھا نہ سکا
    من تو کرتاہے کہ وہ پڑھتے رہیں اور ہم ہاتھ باندھیں دل کے کانوں سے سنتے رہیں۔ہمارے یہاں مغرب کی نماز میں تیسویں پارے کی چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھی جاتی ہیں، امام حرم نماز مغرب میں بھی صفحہ دو صفحہ پڑھ جاتے ہیں لیکن من نہیں بھرتا۔ جو لوگ کعبۃ اللہ کے سامنے اور اس کے قریب نماز ادا کرتے ہیں ان کو اور بھی زیادہ لطف آتا ہے، دیگر جگہوں پر نماز ادا کرنے پر کعبہ نگاہوں سے اوجھل ہوتا ہے تو ایک کمی اور کسک محسوس ہوتی ہے ۔ اسی طرح حرم نبوی میں جب مؤذن اشھد ان محمد ا رسول اللہ کہتاہے تو یہ سوچ کراس کی قسمت پر رشک آتاہے کہ روضہ ٔ اطہر میں سرکار دو عالم ﷺ براہ راست اس کی آواز سن رہے ہیں۔ بہرحال ہر عازم کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ فرض نمازوں سے آدھا ایک گھنٹہ پہلے ہی حرم میں پہنچ جائے اور کعبۃ اللہ اور امام حرمین سے قریب ہوکر پوری یکسوئی کے ساتھ عبادات انجام دینے کی کوشش کرے، اس لئے کہ وہاں کی حاضری کا اصل نفع اور مزہ اسی سبقت اور اہتمام میں پوشیدہ ہے ۔ (جاری) 
٭…٭…٭

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے