(سفر نامہ حرمین ، گزشتہ سے پیوستہ)
ممبئی ایئرپورٹ سے 5 مارچ 2023ءاتوار کے روز شام میں روانگی ہوئی تھی اور پیر کے روز فجر کے وقت مکہ مکرمہ پہنچے، یہاں ٹور کے ذمہ دار جناب حاجی شفیق صاحب موجود تھے، جس وقت ہم لوگ حرم کے قریب اپنی رہائش گاہ تک پہونچے ، فجر کی اذان ہورہی تھی ، دل توچاہ رہا تھا کہ سب کچھ چھوڑ کر رب کے دربار کی طرف دوڑ پڑیں ، حرم میں داخل ہوکر کعبۃ اللہ کا جی بھر کے دیدار کریں ، وہیں سجدے میں گر کر اس مقدس مقام کی حاضری پر اپنے رب کا شکر ادا کریں اور پھر اس سے فریاد میں مشغول ہوجائیں ،ملتزم سے چمٹ جائیں ،حجر اسود کو بوسہ دیں اور دیوانہ وار طواف کرنے لگیں ،یہ دل کی چاہت تھی لیکن دماغ یہ کہہ رہا تھا کہ اپنے محبوب سے جب ملاقات کرنی ہوتو یوں خستہ حال اور تھکے ماندے نہیں بلکہ ہشاش بشاش چہرے کے ساتھ اور زیب وزینت اختیار کر کے جایا کرتے ہیں ، اسی لیے تو ہر نماز کے وقت زیب و زینت اختیار کرنے کا حکم خود قرآن کریم میں دیا گیا ہے ، لہذا علماء کرام کی ہدایت کے مطابق ہم لوگ پہلے محلہ اجیادالمصافی میں واقع ہوٹل عابد المسعودی پہنچے،(ماشاء اللہ اس ہوٹل سے حرم کا فاصلہ پیدل چل کر محض دس منٹ میں طے ہوجایا کرتا تھا) فجر کی نماز وہیں ادا کی گئی اور پھر ظہر تک آرام ہوا۔ظہر کے بعد کھانے وغیرہ سے فارغ ہوکر جناب ابو سفیان صاحب ایم آر کے ساتھ ہم لوگ حرم شریف پہونچے ،بابِ عبد العزیز سے نگاہ جھکائے ہوئے داخل ہوئے یہاں تک کہ مطاف میں کعبۃ اللہ کے بالکل سامنے جاپہنچے ،اب جو نگاہ اٹھائی تو کعبہ مقدسہ کی پرشکوہ عمارت اور اس کا نورانی منظر سامنے تھا، اللہ اللہ کیسا سہانا منظر تھا! قابل دید لیکن ناقابل بیان ، سب کی آنکھیں بھر آئیں اور آنسو رواں ہوگئے ،اللہ کی عظمت وکبریائی اور اپنی بے مائیگی اور کمزوری کے احساس کے ساتھ فقیروں اور محتاجوں کی طرح خود بخود ہاتھ اٹھ گئے اور زبان پر بادشاہ کے بادشاہ احکم الحاکمین کی تعریف و توصیف، اس کے شکر و امتنان اور اپنی حاجت و ضرورت کے کلمات جاری ہوگئے ،بہت ساری دعائیں سوچ رکھی تھیں اپنے لیے ،اپنے والدین ،اہل خانہ، رشتے داروں ،دوست واحباب اور بالعموم پوری امت کے لیے ،جلدی جلدی ساری دعائیں مانگ لیں ،یوں لگ رہا تھا کہ ہاتف غیبی صدا لگا رہا ہے ’’مانگتا جا لیتا جا‘‘دعائیں تو بہت ساری کی گئیں دنیا کی بھلائی اور آخرت کی نجات کے لیے ،البتہ اس جامع دعا کا بطور خاص اہتمام کیا گیا جو امام اعظم ابو حنیفہ ؒ نے کعبۃ اللہ پر پہلی نگاہ پڑنے کے وقت کی تھی:
اے اللہ ! میں اپنی زندگی میں جب بھی جہاں بھی جو بھی دعا کروں ،تو اس دعا کو قبول فرما! ( پروردگار تمام دعاؤں کو شرف قبولیت بخشے !)
دعا سے فارغ ہوکر حجر اسود کے سامنے پہونچے ،طواف عمرہ کی نیت کی ،حجر اسود کا استلام کیا ( کیونکہ بوسہ لینے کی گنجائش نہیں تھی) اور پھر نگاہ جھکائے طواف جیسے عظیم الشان اور بے مثال عمل کی انجام دہی میں مشغول ہوگئے ،اس احساس کے ساتھ ؎
تیرے در کے پھیرے لگاتا رہوں
سدا شہر مکہ میں آتا رہوں
کیا بتاؤں کہ اس وقت دل کی کیسی کیفیت تھی ،زندگی کی ایک دیرینہ حسرت پوری ہورہی تھی ،خدا کے مقدس گھر پہونچنے اور کھلی آنکھوں سے کعبہ مشرفہ کو دیکھنے کی آرزو پایۂ تکمیل کو پہنچ رہی تھی ،برسوں سے جس مبارک گھر کو تصویروں میں دیکھتے آئے تھے آج وہ نگاہوں کے سامنے تھا،یوں محسوس ہورہا تھا کہ ایک طویل اور صبر آزما جدائی کے بعد ایک عاشق کو اپنے محبوب کے در پر آنے ، اس کی زیارت کرنے اور ہم کلام ہونے کا موقع ملا ہے ،بچپن سے یہ نعتیہ شعر سنتے چلے آئے ہیں ؎
کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر کیا چیز ہے دُنیا بھول گیا
یوں ہوش و خرد مفلوج ہوئے دل ذوقِ تماشہ بھول گیا
پھر روح کو اذنِ رقص ملا، خوابیدہ جنوں بیدار ہوا
تلوؤں کا تقاضہ یاد رہا نظروں کا تقاضہ بھول گیا
احساس کے پردے لہرائے ایماں کی حرارت تیز ہوئی
سجدوں کی تڑپ اللہ اللہ سر اپنا سودا بھول گیا
پہنچا جو حرم کی چوکھٹ تک اک ابرِ کرم نے گھیر لیا
باقی نہ رہا پھر ہوش مجھے کیا مانگ لیا کیا بھول گیا
جس وقت دعا کو ہاتھ اُٹھے یاد آ نہ سکا جو سوچا تھا
اظہارِ عقیدت کی دُھن میں اظہارِ تمنّا بھول گیا
ہر وقت برستی ہے رحمت کعبے پہ جمیلؔ اللہ اللہ
خاکی ہوں میں کتنا بھول گیا عاصی ہوں میں کتنا بھول گیا
آج ان نعتیہ اشعار کی حقیقت مجسم شکل میں سامنے آرہی تھی ،مطاف میں کافی مجمع تھا، ہر وقت ہزاروں بندگان خدا دیوانہ وار کعبہ کا چکر لگارہے ہوتے ہیں ، ہر لمحہ کسی نہ کسی کا دھکا لگتا ہے لیکن کسی کو کیا فرصت کہ وہ کسی کی طرف دیکھے ، سب اپنے پروردگار کی دھن میں آہستہ اور بلند آواز سے دعائیہ کلمات پڑھتے ہوئے طواف میں مشغول رہتے ہیں ، اس دھن میں میں کب اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گیا محسوس ہی نہیں ہوا ،البتہ اس کا افسوس بھی نہیں ہوا ،اس لیے کہ اللہ کے دربار میں عبد اللہ ( اللہ کا بندہ)کی کیا پرواہ کرنا ،لہذا بے فکر اور مطمئن ہو کر طواف کعبہ میں مشغول رہا یہاں تک کہ سات چکر مکمل ہوئے اور طواف پورا ہوا ،اس کےبعد دو رکعت واجب الطواف ادا کر کے دعا کی اور پھر زم زم پی کر صفا اور مروہ کی جانب چل پڑا۔
مطاف ہی میں سے صفا کی طرف جانے کا راستہ ہے ،مقام ابراہیم سے کچھ آگے ایک جگہ جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا ’’الی الصفا‘‘(صفا کی طرف)اسی راستے سے صفا پہاڑی پر پہونچا،یہاں سے کعبۃ اللہ صاف نظر آتا ہے ،چنانچہ دعا کر کے سعی کی نیت کی اور پھر بے مثال خاتون حضرت ھاجرہ رضی اللّٰہ عنھا کی پیروی میں صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا کی جانب چلتا رہا ،میلین اخضرین کے درمیان سے گزرتے ہوئے اس دعا کے اہتمام کے ساتھ
رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَتَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ
میرے پروردگار! میری مغفرت فرمائیے اور رحم فرمائیے، اور درگزر کیجئے ان گناہوں سے جن سے آپ واقف ہیں ، آپ ہی سب سے زیادہ عزت و غلبے والے اور سب سے زیادہ مہربانی کرنے والے ہیں۔
قریب ایک گھنٹہ میں سعی کا عمل مکمل ہوا ،اب صرف حلق(سر منڈانے) کا عمل باقی رہ گیا تھا ۔حرم کے قریب ایک دکان پر حلق کروانے کے بعد احرام کھول دیا اور عمرہ کی سعادت ملنے پر دو رکعت نماز شکرانہ ادا کرکے دعا کی کہ
بار الہا ! عمرہ کا یہ مبارک عمل آپ کے انبیاء کرام علیہم السلام اور برگزیدہ بندوں نے کیسے جذبے، کتنے اخلاص اور آداب کی کس قدر رعایت کے ساتھ کیا ہوگا ، لیکن ہماری عبادات میں نہ ویسا خلوص ہوتا نہ آداب کی رعایت ہوتی ہے ! البتہ آپ ہمارے ٹوٹے پھوٹے اعمال کو قبول کرلیں تو یہ آپ کی نوازش ہوگی اور ہماری سعادت مندی کہلائے گی ۔
گر قبول افتد زہے عز و شرف
اس طرح عمرہ کا عمل مکمل ہوا ۔(جاری)
٭…٭…٭
0 تبصرے