از:مفتی محمد عامر یاسین ملی
(گزشتہ سے پیوستہ)
عمرہ کی تکمیل کے چند روز بعد ٹور کے منتظمین کی جانب سے بس کے ذریعہ تمام عازمین کو مکہ مکرمہ کے اطراف میں واقع مختلف مقامات مقدسہ کی زیارت کرائی گئی ،سب سے پہلے ہم لگ مسجد حرام سے جنوب کی سمت میں چار کلو میٹر کی دوری پر واقع جبل ثور کے پاس پہنچے،اس پہاڑ کی اونچائی 759 میٹر ہے۔ہم نے نیچے ہی سے اس تاریخی پہاڑ کی زیارت کی ،مکہ مکرمہ سے ہجرت کرتے ہوئے انتہائی نازک موقع پر آقا ئے نامدار ﷺ اور آپ کے رفیق غار حضرت ابو بکر صدیقؓ نےاسی پہاڑ کے غار میں پناہ لی تھی ،یہ غار پہاڑ کی چوٹی سے کچھ نیچے واقع ہے اور زمین سے چار سو اٹھاون میٹر کی اونچائی پر موجود ہے۔ غار کا طول اٹھارہ بالشت اور عرض گیارہ بالشت ہے ۔غار میں سیدھے کھڑے ہوں تو سر چھت سے لگتا یے۔ جبل ثور عام پہاڑوں کی طرح ایک پہاڑ ہے ،لیکن کائنات کی سب سے عظیم ہستی کی تین روزہ صحبت نے اس کو پوری دنیا کے پہاڑوں میں ایک امتیازی شان عطا کردی ہے اور دیکھنے والے اس کو رشک کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں گویا اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پناہ دینے پر اس کا شکریہ ادا کررہے ہوں ۔پہاڑ کے اوپر چڑھنے کی نہ اجازت تھی اور نہ موقع ،یوں بھی اس پہاڑ پر چڑھنا کافی دشوار عمل ہے،البتہ نوجوان اور با ہمت لوگ اوپر تک پہنچ ہی جاتے ہیں ،کیونکہ ہم لوگوں کے پاس وقت بھی کم تھا اس لیےہمارا قافلہ یہاں سے آگے بڑھا اورمیدان عرفات پہنچا،میدان عرفات مسجد حرام سے بائیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہےاور ایک سو چار مربہ کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے،حج کے موقع پر عرفات کی حاضری حج کا بنیادی رکن ہے ،اسی میدان کے بیچ میں واقع جبل رحمت نامی اس پہاڑ کی بھی ہم لوگوں نے زیارت کی جس پرآقاﷺ نے حج کے موقع پر وقوف کیا تھا،جبل رحمت ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے ،جس کی اونچائی تیس میٹر سے زیادہ نہیں ہے ۔میدان عرفات میں مفتی محمدحسنین محفوظ نعمانی صاحب نے دعا کرائی ،رحیم و کریم پروردگار سے سب نے بطور خاص یہ التجا کہ بارالہا! آج ہم اس میدان میں زیارت کی غرض سے حاضر ہوئے ہیں ،تو ہمیں حج کے موقع پریہاں وقوفہ عرفہ کی غرض سے حاضری کا موقع نصیب فرما ۔(آمین)یہاں مسجد نمرہ بھی نظر آئی،جس کا کل رقبہ ایک لاکھ دس ہزار مربہ میٹر ہےاور جس میں بیک وقت ساڑھے تین لاکھ افراد نماز ادا کرسکتے ہیں ۔میدان عرفات سے نکل کر ہم لوگ منی کے راستے ہوتے ہوئے مزدلفہ پہنچے ،راستے میں حاجیوں کے بے شمار خیمے بھی نظر آئے اور وہ نہر زبیدہ کے باقیات بھی دکھائی دئیے جو آج بھی زبیدہ نامی خاتون کے اخلاص اور جذبہ خدمت کو بیان کررہے ہیں۔ کچھ آگے بڑھے تو مقام بھی نظر آیا جہاں حجاج کرام رمی کرتے ہیں ۔اسی طرح راستے میں کافی دور سے جبل نور بھی نظر آیا جس کی چوٹی پر غار حرا واقع ہے ،یہ غار زمین سے دو سو اکیاسی کلومیٹر کی بلندی پر ہے۔بڑی چاہت تھی کہ اس غار تک پہنچا جائے ،لیکن پندرہ روزہ سفر عمرہ میں اس کی گنجائش نہیں تھی ۔یوں بھی حرمین شریفین کو چھوڑ کر دیگر مقامات پر جانا بہر حال ایک عازم عمرہ کے لیے اجر وثواب کے لحاظ سے مفید نہیں ۔
جعرانہ سے دوسرے عمرہ کا احرام:
واپسی میں ہم لوگوں نے مسجد جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا مسجد جعرانہ مکہ مکرمہ سے چھبیس کلومیٹر پر واقع ہے ،فتح مکہ کے بعد نبی کریم ﷺ نے یہاں سے عمرہ کا احرام باندھا تھا ،یہی وجہ ہے کہ بہت سارے لوگ اس مقام سے عمرہ کا احرام باندھتے ہیں ،اسی طرح ایک روز مسجد عائشہ (جو مسجد حرام سے بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے)سے بھی احرام باندھ کر عمرہ کی سعادت حاصل ہوئی ۔
مسئلہ:جو لوگ مکہ مکرمہ میں قیام پذیر ہوں اور وہ عمرہ کرنا چاہتے ہوں، یا ہندوستانی حاجی اور معتمر جو عمرہ یا حج کرکے وہاں ٹھہرے ہوئے ہوں اور وہ مزید عمرہ کرنا چاہتے ہوں تو ان پر لازم ہے کہ حدودِ حرم سے باہر جاکر احرام کی نیت کریں ، خواہ ’’تنعیم‘‘ (مسجدِ عائشہ) سے یا جعرانہ وغیرہ سے ۔(جاری)
٭…٭…٭
0 تبصرے