Ticker

6/recent/ticker-posts

تونے اپنے در بلایا میں تو اس قابل نہ تھا

 
سفر نامۂ حرمین
         تحریر:مفتی محمد عامر یاسین ملی  
         کون ایسا بندۂ مومن (مردوعورت) ہوگا،جس کے دل میں اللہ کے مقدس گھر کعبۃ اللہ کے دیدار و طواف اور محبوب خدا جناب رسول اللہ کے روضہ مطہرہ پر حاضر ہوکر درود وسلام کا نذرانہ پیش کرنے کی تمنا نہ ہو!اس گناہ گار کے دل میں بھی برسوں سے یہ تڑپ تھی کہ خدا وہ موقع دے کہ نماز کی نیت کرتے ہوئے جب کہیں کہ ’’منہ میرا کعبہ شریف کی طرف‘‘توکعبہ نگاہوں کے سامنے ہو،اسی طرح رب کریم وہ سعادت بھی دے کہ جب درود شریف پڑھتے ہوئے کہیں ’’اللھم صل علی محمد‘‘(اے اللہ! حضرت محمدﷺ پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرما)تو سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک روضہ نظر کے سامنے ہو،اسی جذبہ اور شوق سے سرشار ہوکر حج وعمرہ کی تربیتی کلاسوں میں حاضری ہوتی رہی،وہاں لوگ دیکھتے تو پوچھتے بھی کہ کیا آپ کا بھی نمبر لگ گیا ہے؟آپ بھی عمرہ کے لیے جارہے ہو؟میں مسکراکر کہہ دیتا’’جائیں گے ان شاء اللہ ! اپنی جانب سے تیاری ہے ،اب اللہ پاک جب بلالے‘‘۔گویا عازمین حج وعمرہ کے درمیان اس احساس کے ساتھ حاضری ہوتی ۔۔ 
احب الصالحین ولست منھم
لعل اللہ یرزقنی صلاحاً
ترجمہ:میں نیک لوگوں سے محبت کرتا ہوں ،گرچہ میں ان کی طرح نہیں ہوں ،ہوسکتا ہے اس محبت کی وجہ سے اللہ مجھے بھی نیک بنادے۔
قارئین! دنیا دار الاسباب ہے ،اس لیے کسی کام کی انجام دہی کے لیے نیت اور دعا کے ساتھ ظاہری تیاری بھی ضروری ہے ،چنانچہ ہمارے مخلص مکرم جناب ساجد سر کی خصوصی دلچسپی اور جدوجہد کے نتیجہ میں ۲۰۱۸ء میں پاسپورٹ بھی بن کر مل گیا،اب تو زیارت حرمین کا شوق دوبالاہوگیا،رہ رہ کر ایسے مواقع بھی آتے رہے جب مسجد کا کوئی مصلی یا کوئی عزیز حج یا عمرہ کے سفر پر روانہ ہونے والاہوتا اور گزارش کرتا کہ آپ دعا کرا کے رخصت کردیں ،ایسے موقع پر محرومی کا احساس مزید شدت اختیار کرجاتا اور پھر دل سے یہ فریاد نکلتی’’بارالہا! کعبۂ مشرفہ تیراگھر ہے ،تو جس کو چاہتا ہے اپنے گھر پر بلاتاہے،اپنے کرم سے اس عاجز اور گناہ گار بندے کو بھی اپنے در کی حاضری کا موقع نصیب فرما!ساتھ ہی عازمین سے گزارش بھی کرتا کہ حرمین شریفین میں دعا کریں کہ اللہ مجھے بھی اپنے در پر بلائے،اس لیے کہ حج اور عمرہ ایسی سعادت ہے جس کا حصول بغیر توفیق الٰہی کے ممکن نہیں ۔
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
(یہ وہ سعادت ہے جسے انسان اپنی طاقت وقوت سے نہیں بلکہ پاک پروردگار کی بخشش سے حاصل کرتا ہے۔)
اسی کیفیت اور شوق کے ساتھ انتظار میں وقت گزرتا رہا یہاں تک کہ گزشتہ رجب کا مہینہ آگیا،معلوم ہوا کہ المنورہ حج وعمرہ ٹور کی جانب سے ۱۱؍شعبان سے ایک خصوصی ٹور علماء کرام اور ائمہ مساجد کے لیے روانہ ہونے والاہے،رفیق محترم مفتی محمد اسحاق ملی ،عزیزمکرم جناب ابو سفیان ایم آر صاحب اور مخدوم گرامی مفتی حسنین محفوظ نعمانی وغیرہ کے تعلق سے خبر ملی کہ یہ حضرات بھی اسی ٹور سے سفر عمرہ کے لیے روانہ ہونے والے ہیں ،اب تو شوق اور چاہت نے بے چینی کی شکل اختیار کرلی ،چنانچہ المنورہ ٹور کے ذمہ داران جناب کامران بھائی اور قاری زبیر عثمانی وغیرہ سے بات چیت کی ،ان حضرات نے حوصلہ بڑھایا اور تدبیر بھی کی توفوری طور پر والدہ محترمہ ،بڑی ہمشیرہ اور پھر اہلیہ اسی طرح مشیر خاص مفتی محمد ناظم ملی صاحب سے مشورہ کیا،اور بظاہر مکمل اسباب نہ ہوتے ہوئے بھی یہ عزم کرلیا کہ المنورہ ٹور کے ذریعہ سفر عمرہ کے لیے روانہ ہونا ہے۔اللہ کے بھروسے یہ پختہ عزم ارادہ کرنا تھا کہ اسباب وسائل مہیا ہوتے گئے بقول شاعر

کس قدر تاریک تھی راہیں مگر جب چل پڑے
خاک کے ذروں سے پیدا روشنی ہونے لگی

    چنانچہ 5 مارچ 2023ء اتوار کے روز ممبئی ایئرپورٹ سے سفر عمرہ کے لیے روانگی ہوئی اور 20 مارچ کو بخیر و عافیت واپسی ہوئی ۔ بہت سارے متعلقین اور قارئین خصوصا برادر مکرم مفتی محمد ناظم ملی صاحب کا اصرار رہا ہے کہ سفر عمرہ تحریر کیا جائے ، انہیں کے اصرار پر یہ سفر نامہ ( جو درحقیقت کارگزاری اور آپ بیتی ہے ) کی پہلی قسط لکھی گئی ہے ۔ آئندہ مضامین میں اپنے مشاہدات و تجربات کی روشنی میں ہم سفر عمرہ کی ایسی اہم باتوں پر روشنی ڈالیں گے جو عازمین حج و عمرہ کے لیے مفید ہیں اور جن پر توجہ دینا ضروری ہے ۔
(جاری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے