تحریر : مفتی محمد عامر یاسین ملی
( مالیگاؤں 9028393682)
اولاد اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے جو نیک ہو تو والدین کے لیے دنیا میں نیک نامی اورآخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔اس کے برعکس نافرمان اولاد کا وجود نہ صرف والدین کے لیے دکھ اور تکلیف کا باعث ہے بلکہ معاشرے کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ صاحب اولاد ہیں ان کی شرعا یہ بنیادی ذمہ داری قرار دی گئی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ کریں۔نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ کسی باپ نے اپنی اولاد کو اچھی تعلیم وتربیت سے بہتر کوئی تحفہ نہیں دیا ۔ (ترمذی) افسوس کہ آج اکثر والدین اولاد کی تعلیم وتربیت کے سلسلے میں کوتاہی برت رہے ہیں قور اپنے بچوں کو کسی اسکول یا مدرسہ میں داخل کر کے مطمئن ہوگئے ہیں ،اسی طرح یہ بات بھی محسوس کی جارہی ہے کہ بعض اساتذہ اور معلمین میں بھی اب اپنے طلبہ اور طالبات کی تعلیم وتربیت کے سلسلے میں پہلے جیسی فکر مندی اور محنت کا جذبہ نہیں پایا رہا، اب اپنے آپ کو مربی اور معلم کے بجائے تنخواہ دار ملازم خیال کر کے طے شدہ وقت کے لحاظ سے ذمہ داری(ڈیوٹی ) پوری کرنے کا مزاج بنتا جارہا ہے۔یقیناً یہ چیز معاشرے کے لیے فکر اور تشویش کا باعث ہے۔
آج کل بعض اسکولوں سے بھی گیدرنگ اور سالانہ ثقافتی پروگرام کے عنوان سے منعقد کیے جانے والےپروگراموں میں میوزک اور گانے کی دھن پر طلبہ وطالبات کے رقص کرنے کی خبریں موصول ہورہی ہیں جن کے نتیجے میں طلبہ اور طالبات کے اخلاق اور کردار خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔’’یہ ذمہ داری اساتذہ کرام کی ہے کہ وہ ثقافتی پروگراموں میں شرعی حدود اور اسلامی تعلیمات کا خیال رکھیں۔ اسی طرح والدین کا بھی یہ فریضہ ہے کہ وہ اس بات کی خبر رکھیں کہ ان کے بچے کس طرح کے پروگراموں میں حصہ لے رہے ہیں ۔واضح ہو کہ ہم اسکولوں میں منعقد ہونے والے ثقافتی پروگراموں کے مخالف نہیں ، بلا شبہ ان کے ذریعے طلبہ کی خوابیدہ صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں ،لیکن اگر ثقافتی پروگرام کے عنوان سے ناچ گانے کا پروگرام ہو تو یقیناً یہ چیز طلبہ وطالبات کے اخلاق وکردار کو بگاڑنے کا ذریعہ بنے گی۔
اس سلسلے میں گزشتہ دنوں رفیق محترم مفتی عامر عثمانی صاحب نے ایک سوال کے جواب میں لکھے گئے اپنے فتوی میں تحریر کیا ہےکہ
’’اسکولوں میں ہونے والے ثقافتی پروگرام (گیدرنگ) اگر شرعی حدود میں ہوں تو بلاشبہ ان کی اجازت ہوگی۔ یعنی اس میں تقریر، نعت، حمد اور نظمیں پڑھی جائیں اور اس میں ہاتھ سے کچھ ایکشن ہوں جسے دیکھتے ہی یہ محسوس نہ ہو کہ یہ ڈانس ہے تو اس کی گنجائش ہوگی۔ البتہ دن بدن ان پروگراموں میں شرعی قباحتیں در آرہی ہیں، اب باقاعدہ اس میں Singing اور Dancing کا مظاہرہ بھی ہورہا ہے۔ حب الوطنی یا دیگر گیتوں کے Music اور Lyrics پر چھوٹے اور بڑے بچے بچیاں باقاعدہ تھرک رہے ہیں، اسے دیکھتے ہی یہی محسوس ہوگا کہ یہ رقص اور ڈانس ہی ہے۔ لہٰذا اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ موسیقی (Music) اور گانوں کا سننا، سنانا اور ناچ (Dance) کرنا، دیکھنا اور سیکھنا سکھانا سب ناجائز اور حرام ہے۔اگرایسے پروگراموں میں حصہ لینے والے بچے بالغ ہیں تو اس کا گناہ خود ان پر اور انہیں تیار کرنے والے ٹیچرس پر ہوگا، اور اگر نابالغ ہوں تو ان کا گناہ انہیں برضا ورغبت اس کام کی اجازت دینے والے والدین کو اور انہیں تیار کرنے والے ٹیچرس کو ملے گا۔ لہٰذا اسکولوں کے ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ اس طرح کے آرڈر جاری کریں کہ فنون لطیفہ اور گیدرنگ کے نام پر غیرشرعی افعال کا صدور قطعاً نہ ہو، ورنہ اس طرح کی غیرشرعی تعلیم آخرت میں تو وبال ہوگی ہی اور دنیا میں بھی اس کا نقصان دیکھنے کو ملے گا۔‘‘(ماخوذ عثمانی دارالافتاء بلاگ )
قارئین!یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اولاد کی تربیت کی ذمہ داری ان کے والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ پر بھی عائد ہوتی ہے۔اسی طرح طلبہ وطالبات کی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم کے ذمہ دار والدین بھی ہیں۔
اپنے بچوں اور طلبہ کی نیک نامی یا بدنامی میں ہی درحقیقت والدین اور اساتذہ کی نیک نامی یا بدنامی پوشیدہ ہے ۔ لوگ بچوں اور طلبہ کو دیکھ کر اندازہ لگاتے ہیں کہ ان کے والدین اور اساتذہ نے ان کی تعلیم و تربیت پر کیسی توجہ دی ہے ۔ بقول شاعر
ان چراغوں میں ہے لہو کس کا
روشنی خود بخود بتادے گی
لہذا اساتذہ اور والدین کو مل کر نئی نسل کی تربیت کا فریضہ انجام دینا ہوگا اور بے راہ روی کا شکار ہورہے طلبہ وطالبات کی اصلاح ودرستگی کی فکر کرنی ہوگی ،اس لیے کہ اولاد اور ہمارے عزیز طلبہ وطالبات ہماری قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں ،جن کی صلاح وفلاح پر ہی قوم مسلم کی ترقی اور روشن مستقبل کا دارومدار ہے۔لہذا والدین اور اساتذہ نئی نسل کی تعلیم وتربیت کے سلسلے میں آگے آئیں اور اپنا کردار ادا کریں۔
گزشتہ جمعہ کو مقررین کی تنظیم گلشن خطابت کی جانب سے اسی موضوع پر شہر مالیگاؤں کی تقریباً پچاس مساجد میں خطاب کے ذریعہ بھی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ،آئندہ جمعہ (20جنوری) کو بھی شہر مالیگاؤں کی مساجد میں اس موضوع پر مشترکہ خطاب ہوگا ان شاء اللہ! برادران اسلام سے گزارش ہے کہ وقت مقررہ پر مساجد میں پہنچ کر جمعہ کا بیان سنیں ۔ اللہ پاک اس سلسلے میں ہمیں اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کی توفیق بخشے اور نئی نسل کو نیک ہدایت عطا فرمائے!
*-*-*
0 تبصرے