Ticker

6/recent/ticker-posts

رمضان کے بعد

رمضان المبارک کے بعد !!

تحریر : مفتی محمد عامر یاسین ملی

عربی زبان کا مشہو ر شعر ہے 
حیاتک انفاس تعد فکلما
مضت نفس منھا انتقضت بہِ جزء ً
(تمہاری زندگی چند سانسوں کا ذخیرہ ہے، جوں جوں تم سانس لئے جا رہے ہو،وہ ذخیرہ بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔)
 
    قارئین ! یقیناخالق کائنات نے انسان کو بڑی مختصر زندگی عطا فرمائی ہے، جو ہر گزرتے ہوئے پل کے ساتھ ختم ہو رہی ہے، اور رفتہ رفتہ انسان اس فانی دنیا سے دور اور قبر اور آخرت سے قریب ہو رہا ہے۔ یہ ایک ایسی ناقابلِ تردید حقیقت ہے جس کا اعتراف وہ قومیں بھی کرتی ہیں جو اﷲ پاک کی منکر ہیں ، حالا ں کہ اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اس کو بنانے والے خالق و مالک کا وجود ہے جو تن تنہا عبادت کے لائق ہے۔ 
  اﷲ پاک نے اس دنیا میں کسی کو بھی ہمیشہ کی زندگی عطا نہیں کی ،بلکہ ہر ایک کے لئے موت مقدر کی ہے۔ یہاں تک کہ جس ذات کے صدقہ میں یہ کائنات وجودمیں آئی ، یعنی ہمارے آقا جناب محمد رسول اللہ ﷺ انہیں بھی موت آ کر رہی۔

انساں کو چاہئے کہ خیالِ قضا رہے 
ہم کیا رہیں گے جب نہ رسولِ خدا رہے 

 طبرانی شریف کی روایت ہے حضرت سہل ابن سعد ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت جبرئیل ؑ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے محمد !(ﷺ)آپ جتنے دن بھی زندہ رہیں ایک دن موت آنی ہے،آپ جو چاہیں عمل کریں اس کابدلہ آپ کو دیا جائے گا، جس سے چاہیں محبت کریں آخر ایک دن اس سے جدا ہونا ہے۔جان لیجئے کہ مومن کی بزرگی تہجد پڑھنے میں ہے اورمومن کی عزت لوگوں سے بے نیازرہنے میں ہے۔ 
  جن لوگوں نے زندگی اور موت کے اس فلسفہ کو سمجھ لیا ،انہوں نے ہر دن کو زندگی کاآخری دن سمجھا اور ہر رمضان کو زندگی کا آخری رمضان تصور کیا۔ وہ اس فانی دنیا کے بجائے باقی رہنے والی آخر ت کو بنانے کی فکر کرتے رہے،وہ آنے والے ایام کی چاہت رکھنے کے بجائے گزرے دنوں کامحاسبہ کرتے رہے اور حال کو ماضی سے بہتر بنانے کاعزم ہی ان کا شیوہ رہا۔ نہ وہ زندگی کے شیدائی بنے نہ ہی موت سے خائف ہوئے بلکہ فکر آخرت اور مرنے سے پہلے موت کی تیاری کی جستجو نے انہیں جینے کا ایک نرالا انداز عطا کیا جو ہرلحاظ سے نفع بخش تھا۔ ایک بزرگ سے کسی شخص نے سوال کیا کہ عبادت کرنے کا بہترین دن کو ن سا ہے؟ انہوں نے کہا کہ موت سے ایک دن پہلے…!پوچھنے والے نے حیرت سے کہا : ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ یہی دن موت کاآخری دن ہے؟بزرگ نے جواب دیا :تو پھر ہر دن زندگی کاآخری دن سمجھو۔ یقینا یہ وہی کامیاب افراد ہیں جنہیں حدیث شریف میں سب سے زیادہ ہوشیار اور عقلمندکہا گیا ہے۔ ارشاد نبوی ہے: عقلمند انسان وہ ہے جو موت سے پہلے موت کی تیاری کرے۔
اس کے برعکس بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جو موت سے غافل ہوکر زندگی گزارتے ہیں ، وہ رمضان میں تو کچھ عبادت کرلیتے ہیں لیکن عید کا چاند نظر آتے ہی مسجد سے غائب ہوجاتے ہیں اور پھر بقیہ پورا سال فرض نمازوں اور تلاوت سے بڑی حد تک دور رہتے ہیں ، ظاہر ہے کہ اسی غفلت کی حالت میں موت آئے گی تو انجام اچھا نہیں ہوگا ۔ رمضان کا مہینہ تو دراصل سال بھر عبادت کی عادت بنانے کے لیے آتا ہے ۔ لہذا سال کے بقیہ گیارہ مہینوں میں بھی اسی طرح نماز اور دیگر عبادات کا اہتمام کرنا چاہئے ۔ یہی اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے اور اسی میں بندہ مومن مرد و عورت کی نجات پوشیدہ ہے ۔
*-*-*

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے