حشر کی گرمی سے بچاؤ کا سامان کر لے!
تحریر : مفتی محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں
8446393682
قرآن کریم میں ﷲ پاک نے انسان کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَخُلِقَ الْاِنْسَان ُ ضَعِیفًا ’’اورانسان کمزورپیداکیا گیا ہے‘‘ (سورہ نساء آیت ۲۸) اس ارشادربانی کی حقیقت انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ مثلاً :موسم کی معمولی تبدیلی انسان کی صحت پراثر انداز ہوتی ہے، سرد ی میں اضافہ ہو جائے،تو وہ تھر تھر کانپنے لگ جاتا ہے،اور حرارت حاصل کرنے کے لئے تگ ودوشروع کر دیتا ہے، اوراگر گرمی اپنے عروج پر ہو تو وہ پسینہ میں شرابور ہو کر پریشان ہو جاتا ہے اورپھر ہر ٹھنڈی چیز اس کی محبوب چیز بن جاتی ہے۔بارش اگر کم ہو تو اس کی زندگی کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے،اور اگر حد سے زیادہ ہو جائے تواس کی جان اورمال پر بن آتی ہے۔
حیرت ہے کہ اس قدر کمزور بے بس اورعاجز ہونے کے باوجو انسان اپنی حقیقت اور حیثیت پر غور نہیں کرتااوراپنے انجام سے بے خبرہو کر من چاہی زندگی بسرکرتارہتا ہے،آخرت سے غافل ہو کر اپنے پروردگار کی نا فرمانیوں میں مبتلارہتا ہے، حالانکہ آخرت کی سزائیں اورتکلیفیں دنیاوی سزاؤں اور تکلیفوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت اور طویل ہیں، حضرت مقدادؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ’’ قیامت کے دن میدان حشر میں سورج کو مخلوق کے نزدیک کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل کے فاصلہ پر رہ جائے گا،تمام لوگ اپنے اعمال کے بقدر پسینہ میں شرابور ہوں گے‘‘۔(مسلم)
قارئین ! اس وقت سورج ہم سے لاکھوں کروڑوں میل کی دوری پر ہے، اس کے باوجود ہم اس کی تپش برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہیں، بھلا اس وقت ہماراکیاحال ہوگا، جب یہی سورج ہم سے ایک میل کے فاصلے پر رہ جائے گا؟اس وقت اگر کوئی سایہ ہو گا تو وہ رحمتِ الٰہی کا سایہ ہوگا، اور جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہو گی وہ حوض کوثر کاپانی ہوگا، جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے،اور اس کے آب خورے (اپنی چمک دمک اور کثرت کے اعتبارسے )آسمان کے ستاروں کی طرح ہیں، جو شخص اس کا پانی پی لے گا اس کو پھر کبھی پیاس نہ لگے گی‘‘۔(بخاری و مسلم)
دوسری حدیث میں ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم اپنے امتیوں کو ایک خاص علامت کے ذریعہ پہچان لیں گے اور انہیں حوض کوثر پر آنے دیں گے،وہ علامت یہ ہو گی کہ ان آنے والوں کی پیشانیاں اور ہاتھ پیر وضو کی نورانیت کے سبب روشن اور چمکدار ہوں گے۔(مسلم)
اسی طرح جن خوش نصیب افراد کو رحمت الٰہی کے سایہ میں جگہ حاصل ہوگی ، حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ سات آدمی ہیں، جنہیں اللہ پاک اپنی رحمت کے سایہ میں ایسے دن جگہ عطا فرمائیں گے، جس دن اس کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا، (1) انصاف پرور بادشاہ، (2)وہ جوان جوجوانی میں اﷲ کی عبادت کرتاہوں ،(3) وہ شخص جس کادل ہر وقت مسجد میں لگا رہتاہے،(4) دو ایسے شخص جو اﷲ کے لئے آپس میں محبت رکھتے ہوں، ان کے ملنے اور جدا ہونے کی بنیاد یہی ہو،(5)وہ شخص جس کو کوئی اونچے خاندان والی حسین عورت اپنی جانب متوجہ کرے اوروہ کہہ دے ’’میں تو اﷲ سے ڈرتاہوں۔‘‘ (6)وہ شخص جو اس طرح چھپا کر صدقہ کرے کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ داہنے ہاتھ نے کیاخرچ کیا ہے، (7) وہ شخص جو اللہ کا ذکر تنہائی میں کرے اوراس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگیں۔ (بخاری)
اس وقت پوراملک شدید گرمی کی آگ میں جھلس رہا ہے، مختلف ریاستوں میں درجۂ حرارت چالیس ڈگری کے اوپرپہنچ چکا ہے، جب گرمی اپنی شدت کو پہنچتی ہے تو لو لگنے سے اموات واقع ہونے لگتی ہیں۔ آبی ذخائر ختم ہوجاتے ہیں، اور کھیتیوں اور مویشیوں کے علاوہ انسانوں کے لئے بھی پانی کاحصول مشکل ہوجاتا ہے۔خشک سالی سے پریشان حال کسانوں میں مایوسی اور خود کشی کے واقعات بڑھ جاتے ہیں، بیروزگاری میں اضافہ ہوجاتا ہے، پانی کے حصول کے لئے لوگ ایک دوسرے کی جان لینے پر آمادہ ہوجاتے ہیں، حالانکہ یہ ساری تکالیف اور سختیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے مقابلے میں آخرت کی سختیاں دائمی ہیں اور شدید تر بھی ! ان سے بچنے کی شکل اس کے علاوہ اور کیاہو سکتی ہے کہ دنیا کی ان معمولی سختیوں سے عبرت حاصل کی جائے اور حشر کی گرمی اور پریشانی سے بچنے کے لئے ان اعمال صالحہ کو اختیار کیا جائے جو رحمت الٰہی کے سایہ اورجام کوثر کا ہمیں حقداربنا سکیں۔ رمضان المبارک کا مہینہ ہمارے سروں پر سایہ فگن ہے، اب بھی اس کے بارہ روز باقی ہیں ، اگر ہم ان بقیہ ایام کو پورے اہتمام کے ساتھ بسر کریں اور عید کی تیاریوں میں لگ کر ان کو ضائع نہ کریں تو عجب نہیں کہ اللہ پاک ہماری مغفرت اور آخرت میں نجات کا فیصلہ کردیں اور اس طرح ہم حشر کی گرمی اور جہنم کے عذاب سے محفوظ ہو جائیں۔
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ رِضَاکَ وَ الْجَنَّۃَ وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ سَخَطِکَ وَ النَّار
ترجمہ : اے اللہ میں آپ کی رضا اور جنت مانگتا ہوں ، اور آپ کی ناراضگی سے اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں۔
٭٭٭
0 تبصرے