Ticker

6/recent/ticker-posts

مساجد اور بچوں کی شرارت

مساجد میں بچوں کی شرارت اور ہماری ذمہ داریاں

تحریر: مفتی محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں
8446393682

       رمضان المبارک میں مسجدیں نمازیوں سے بھری ہوتی ہیں، بڑی عمر کے افراد کے علاوہ معصوم اور نابالغ بچے بھی بڑے ذوق و شوق کے ساتھ نماز کے لیے مسجد میں حاضر ہوتے ہیں، اس لیے عام دنوں کی بہ نسبت مساجد میں بچوں کا شور شرابہ بھی بڑھ جاتا ہے ،جو بعض مصلیان خصوصاً بڑی عمر کے افرادکو ناگوار گزرتاہے اور وہ نماز سے فارغ ہوتے ہی بچوں پر برس پڑتے ہیں اور ان کوسخت انداز میں ڈانٹنا شروع کر دیتے ہیں، جس سے بعض بچے سہم جاتے ہیں اورپھر مسجد میں آنے سے کترانے لگتے ہیں۔ 
     یہ با ت سمجھنی چاہئے کہ بچے ’’بچے" ہوتے ہیں۔ بچوں سے بڑوں جیسی سنجیدگی کی توقع رکھنا فضول ہے۔اس لیے بچے اگر مسجد میں شرارت کریں تو ان کو ڈانٹنے کی بجائے نرمی اور محبت کے ساتھ سمجھائیں خصوصاً وہ افراد جو اپنے ساتھ اپنے بچوں کو مسجد میں لے کر آتے ہیں ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو مسجد کے آداب سکھائیں۔اس طرز عمل سے امید ہے کہ بچوں کی شرارتیں رفتہ رفتہ کم ہو جائیں گی اور وہ نمازوں کے عادی بھی بن جائیں گے۔
     آج مسجد سے نوجوان نسل کی دوری او ر نمازوں میں غفلت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بچپن میں ان کو والدین نے نمازوں کا عادی نہیں بنایا ،نہ ہی ان کوساتھ میں لے کر مسجد گئے، اوراگر کبھی وہ بچے از خود مسجد پہنچ بھی گئے توان کے ساتھ ایساسخت برتاؤ اختیار کیاگیا جس کی وجہ سے وہ مسجدوں سے اوربھی زیادہ دور ہوگئے۔
         اخیر میں اپنی با ت اس فکر انگیز جملے پرختم کرتاہوں جوایک مسجد کی دیوار پر نقش تھا اور پڑھتے ہی وہ جملہ دل کی تختی پر نقش ہو گیا۔ قارئین بھی وہ جملہ پڑھیں اور غور کریں ۔
’’اگر نماز کے دوران آپ کو پچھلی صفوں سے بچوں کا شورشرابہ سنائی نہ دے تو آپ اپنی آنے والی نسل کے دین وایمان کی فکر کریں۔ ‘‘
نو ٹ:مذکورہ باتیں ان بچوں سے متعلق ہیں جن کی عمر سات سال سے زائد ہو،وہ بچے جوسات سال سے کم عمرکے ہوں بہتر یہ ہے کہ انہیں مسجد میں نہ لایا جائے ، اس لیے کہ ایسے بچے ناسمجھ ہوتے ہیں اور عموماً وہ مسجد کاتقدس برقرار نہیں رکھ پاتے۔
٭…٭…٭

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے