Ticker

6/recent/ticker-posts

میرے والد ماجد قاری محمد یاسین شمسی

میرے والدِ بزرگوار حافظ و قاری محمد یاسین شمسی ؒ
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہوں جسے!!!

تحریر: محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں
9028393682

     اس دنیا میں خوشی اور غم ساتھ ساتھ چلتے ہیں، نہ یہاں خوشی خالص ہے نہ غم خالص، اس لئے یہاں غموں اور صدموں کا پیش آنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ، لیکن بعض صدمے اس طرح غیر متوقع طور پر اچانک پیش آتے ہیں کہ ان کا زخم بآسانی مند مل نہیں ہوتا۔
     ۱۳؍مارچ ۲۰۱۳ء کو بھی ایسا ہی عظیم حادثہ پیش آیا، جس نے تھوڑی دیر کے لئے تو گویا سوچنے سمجھنے اور دیکھنے سننے کی صلاحیت بھی زائل کردی، جب ہوش و حواس قابو میں آئے تو اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑا کہ والد ماجد حافظ و قاری محمد یاسین شمسی صاحب ہم سب کو چھوڑ کر ایسی جگہ چلے گئے جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آتا۔
 اللہ اور اس کے رسول کے بعد انسان کے سب سے بڑے محسن اس کے ماں باپ ہوتے ہیں جن کا کوئی بدل نہیں ہوتا ، یہ وہ انمول ہستیاں ہیں جن کے دم قدم سے ہی انسان کے شب و روز روشن ہوتے ہیں اور جب یہ چراغ بے نور ہوجاتے ہیں تو گویا انسان کی زندگی میں اندھیرا چھاجاتا ہے ۔
نو سال کاعرصہ بیت چکاہے، والد صاحب کی جدائی کاغم اورا ن کی حادثاتی موت کا صدمہ اس تازہ زخم کی طرح ہے،جس سے مسلسل خون رس رہا ہو،کوئی دن ایسا نہیں گذرتا جب دل انہیں یاد نہ کرتاہو،اور زبان بارگاہ الٰہی میں ان کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لئے التجا نہ کرتی ہو، دل چاہتا ہے کہ یہ زخم تازہ ہی رہے، اس لئے والد صاحب کی کچھ باتیں اور شکستہ یادیں تحریر کررہاہوں۔
      
     ﷲپاک نے حفظ قرآن کی دولت اور حسن قرأت کی نعمت کے علاوہ کچھ ایسی خوبیوں سے والد صاحب کو نوازہ تھا جو ان کی پہچان تھی، اور جب کبھی کسی مجلس میں ان کاذکر آتا ہے توان خوبیوں کا بھی تذکرہ ضرور ہوتا ہے،حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : اپنے مرحومین کی خوبیوں کوبیان کرو، اور ان کی خامیوںسے صرف نظر کرو۔ (ابودائود)
حدیث شریف پر عمل کرتے ہوئے چند خوبیاں اختصارکے ساتھ ضبط تحریرمیں لانے کی کوشش کروں گا۔
اپنے سات بھائیوں میں والد صاحب اکلوتے حافظ قرآن تھے، حفظ قرآن کی اس نعمت پر آپ کو بے حد ناز تھا، ساری زندگی آپ تعلیم قرآن کی دولت کو جا جا کر بچوں اور بوڑھوں میں بانٹتے رہے، میں نے جب سے ہوش سنبھالا انہیں بلا ناغہ قرآن کی تلاوت کرتاہوا پایا، خدا نے آپ کو آواز کاجادو عطافرمایا تھا، فرض نماز ہویا تراویح، مصلیان آپ کے لب ولہجہ اور پختگی حفظ پر جھوم اٹھتے تھے ۔

 خدا نے ہر انسان کو اپناایک خصوصی مزاج عطا فرمایا ہے، حضرت والد صاحب کابھی اپناایک سنجیدہ مزاج تھا، اورباوقاراوربا رعب شخصیت تھی، بعض لوگ مزاج کی سنجیدگی کو سختی کانام دیتے ہیں، لیکن حضرت والد صاحب کے اس مزاج کے پیچھے حسن اخلاق اور عمدہ لب و لہجہ کے ساتھ دلوں کومتاثر کرنے والی گفتگو پوشیدہ تھی۔جودور رہے وہ اسے نہ جان سکے، لیکن جوقریب آئے پھر وہ قریب ہی ہوتے گئے ،فصیح و بلیغ اردو زبا ن میں محبت کی چاشنی لئے جب آپ گفتگو کرتے تو اہل علم لطف اندوز ہوتے اورعام لوگ اپنائیت اور محبت محسوس کرتے ،آج بھی والدصاحب کے احباب ان کے بعض جملوں کو دہرا کر انہیں یاد کرتے ہیں، ۱۹۹۲ء؁ میں والد صاحب مسجد حمیدالنیادی میں امام تھے،ماحول کے مطابق بعض لوگوں نے ذمہ داران سے شکایت کی کہ امام صاحب سلام کاجواب نہیں دیتے ،والد صاحب کے سامنے یہ بات آئی تو فوراًکہا: ’’میں اشارے سے سلام کرنے اورجواب دینے کا قائل نہیں ہوں۔‘‘
اپنے اہل خانہ سے والد صاحب کو انتہائی جذباتی لگاؤ تھا، بچوں کی معمولی خوشی ان کے لئے بڑی خوشی ہوتی اور معمولی تکلیف بڑی تکلیف،بندہ ٔ ناچیز المعہدالعالی (پٹنہ، بہار) میں شعبہ افتاء میں زیر تعلیم تھا ،جب بھی مدرسہ روانگی ہو یاشہرواپسی ہو، والدصاحب منماڑ اسٹیشن تک ضرور آتے ، الوداع ہوتے وقت ٹرین کے ساتھ ساتھ چلتے ،ہاتھوں کوچومتے، اور آنسوؤں کے ساتھ جدا کرتے۔ہر ایک دو دن کے بعد فون کرتے ،او ر دیر تک گفتگو کرتے تو میری جماعت کے ساتھیوں کو اس بے تکلف اور طویل گفتگوپر حیرت ہوتی،میں انہیں جواب دیتا کہ ’’میرے والد صاحب میرے ایک اچھے دوست بھی ہیں۔‘‘

حضور نبی کریم ﷺ کاارشاد ہے کہ کسی باپ نے اپنی اولاد کو اچھی تعلیم وتربیت سے بہتر کوئی تحفہ نہیں دیا۔ (ترمذی) حضرت والدصاحب اس معاملے میں انتہائی حساس اور ذمہ دار واقع ہوئے تھے، گھر میں بغیردعا پڑھے نہ کوئی کھانا کھا سکتاتھا اور نہ سلام کئے داخل ہو سکتاتھا، اگر کوئی بھول کر گھر میں بغیر سلام کئے داخل ہوجاتا تواسے الٹے پیر واپس کرتے،اورسلام کے ساتھ ہی داخل ہونے کی اجازت دیتے۔کھانے پینے ، سونے ، گھر سے باہر نکلنے ،سواری پر سوار ہونے کے آداب اوردعائیں اپنے بچوں کو سکھلاتے او ر خودبھی ان کا اہتمام کرتے، جب کبھی قبرستان کے پاس سے گذر ہوتا تو مرحومین کو یادکرتے اوران پرسلامتی بھیجتے،اور نصیحت کرتے کہ ایک دن ہمیں بھی مرنا ہے اورقبرستان کے ان مرحومین میں شامل ہونا ہے،آج جب کبھی قبرستان کے قریب سے گذر ہوتاہے،توخود بخودزبان پر والد کی صاحب کی یادکرائی ہوئی سلامتی کی دعا زبان پر جاری ہو جاتی ہے،البتہ فرق اتنا ہے کہ کل تک مرحومین پر سلامتی بھیجنے والا آج خود بھی ان کی صف میں شامل ہو چکا ہے، اور باحیات لوگوں کی دعاؤں کا ضرورت مند ہے۔
پنج وقتہ نمازوں اوربطور خاص رمضان المبارک میں تلاوت قرآن میں غفلت ہرگز برداشت نہیں کرتے،حفظ قرآن کی پختگی کا تویہ عالم تھا کہ بغیردور کئے بھی نماز تراویح میں قرآن سنا سکتے تھے ،لیکن روزانہ بلامبالغہ دس سے زائد مرتبہ متعین پارے کادور فرماتے۔ اپنی زندگی کے آخری رمضان میں والد صاحب نے اگت پوری میں دس روزہ تراویح میں قرآن کریم سنانے کی سعادت حاصل کی، والد صاحب کے پختہ حفظ اورتلاوت قرآن کے انوکھے انداز کو دیکھ کر دل میں ان کے جیسا بننے کا شوق پیدا ہوتا،والد صاحب بھی اس شوق کوپورا کرنے میں پورا تعاؤن فرماتے ، خامیوں کی نشاندہی کرتے اور خوبیوں پر حوصلہ افزائی فرماتے۔ الحمدللہ !والد صاحب کی توجہ کی برکت سے ہی اﷲ پاک نے راقم الحروف کو 19 برسوں میں 35 مرتبہ نماز تراویح میں قرآن پاک سنانے کی سعادت عطا فرمائی۔والد صاحب سے آشنا مصلیان کرام نماز تراویح میں بندہ ناچیز کی تلاوت سنتے ہیں تو بلااختیار انہیں والد صاحب کا انداز تلاوت یاد آ جاتا ہے۔
ان چراغوں میں ہے لہو کس کا
روشنی خود بخود بتا دے گی

مجھ کو جینا ہی نہیں بندۂ احساں ہوکر:
     حضرت والدصاحب میں خودداری اورغیرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، ایک امام اور مدرس کی تنخواہ پر اس کا اور اہل خانہ کاگذر بسر کس انداز میں ہوتا ہے قارئین اس سے واقف ہیں۔ والد صاحب پر بھی اکثر اوقات غربت اور تنگی کا سایہ رہا ،اس کے باوجود کسی مالدار (اپناہو یاپرایا) کے آگے ہاتھ پھیلانا یا کسی سے امید وابستہ کرنا انہیں پسند نہیں تھا، یہ تو ممکن تھا کہ امامت و تدریس کی ذمہ داری چھوٹ جائے لیکن یہ ممکن نہیں تھا کہ والد صاحب کسی ٹرسٹی اور مالدار کی کوئی بے جا اور نا مناسب بات برداشت کر لیں ،یا خوشامد کی ادا اختیار کریں،اﷲرب العز ت نے جس صلاحیت اور قابلیت سے والد صاحب کونوازاتھا، اس کی بدولت آپ شہر کی بڑی مساجد او ر بڑے مدارس میں بآسانی امام اورمدرس مقرر ہوسکتے تھے،لیکن اس کے لئے ذمہ داران کے جن جائز و ناجائز مطالبات اور شرائط کو پوراکرناہوتاہے والد صاحب کے لئے ان کو پورا کرنا ممکن نہیں تھا، ایک مسجد کے ذمہ داران نے امامت کے لئے آپ کو مقرر کرناچاہا،اور یہ شرط رکھی کہ ہم پہلے کسی نماز میں آپ کا انٹرویو لیں گے،والد صاحب نے بلا جھجک جواب دیا: ’’جن لوگوں کی سورۂ فاتحہ اور ثناء درست نہ ہو ،میں ان کے سامنے اپنے آپ کوانٹرویوکے لئے پیش نہیں کر سکتا۔ ‘‘
بعض اداروں میں تقرر کے لئے درخواست کے علاوہ خصوصی سفارش درکار ہوتی ہے۔والدصاحب نے اپنی پوری زندگی مکاتب میں اور بعض مقامات پر پہنچ کو بچوں او ر بوڑھوں کو قرآن پاک سکھانے میں گذار دی۔ لیکن خوشامد اور سفارش کے ذریعے بڑے اداروں میں تقرر کوگوارا نہیں کیا ۔ ؎
کئی ہنر دیئے قدرت نے پھر بھی ہوں ناکام
نہ دی ادائے خوشامد ، مری خطا کیا ہے؟

      جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اولاد سے والدین کی امیدیں ان سے وابستہ ہوجاتی ہیں۔بندۂ ناچیز نے اپنی زندگی کے چودہ برس مدرسہ کی چہار دیواری میں گذارے،مجھے یاد نہیں کہ اس دوران کبھی بھی والد صاحب نے کسی طرح کی معاشی اور گھریلو ذمہ داریوں کا کوئی بوجھ مجھ پر ڈالا ہو،اس کے بر عکس میر ی اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں تعاؤن کے لئے ہمیشہ تیار رہتے۔
      میرادل ہمیشہ سے اس بات کا متمنی تھا کہ اﷲ پاک وہ موقع بھی لائے کہ میں بھی والدصاحب کی کچھ خدمت کر سکوں۔کشادہ مکان ہر شخص کی بنیادی ضرورت ہے جس مکان میں ہم لوگ اس وقت سکون پذیر تھے وہ اہل خانہ کے لئے ناکافی تھا،والد صاحب کی دلی تمنا تھی کہ اﷲ پاک کشادہ مکان عطا فرمائے ۔جس مکان میں آپ کا وصال ہوا آج اس سے تین گنا کشادہ اور بہتر مکان اﷲ پاک نے عطا فرمایا ہے، لیکن مکین اب زندوں کی بستی چھوڑ کر شہرخموشاں میں سکونت اختیارکر چکا ہے ،اور والد صاحب کی چاہت دل کی امانت ہی بن کر ان کے ساتھ رخصت ہوگئی اور مجھ کو بھی ان کی خدمت کا خاطر خواہ موقع نہیں مل سکا۔
عمر بھر تیری محبت میری ’’خدمت گر‘‘رہی 
میں تیری خدمت کے قابل جب ہوا تو،تو چل بسا

     میرے اہل خانہ میں والدۂ محترمہ کے علاوہ تین بھائی اورپانچ بہنیں ہیں،یہ مختصرسا خانوادہ ہنسی خوشی اپنے شب و روز بسر کر رہاتھا کہ وہ دن آپہنچا جسے بھول پاناتادم زیست ممکن نہیں، والد صاحب کی حادثاتی موت کی اطلاع ملنے کے بعد سے جسد خاکی گھر لانے تک ہم تمام اہل خانہ کا ایک ایک لمحہ جس کرب اور بے چینی کے ساتھ گذرا وہ ناقابل بیان ہے۔اس غیر متوقع حادثے کی خبر سننے کے لئے نہ کان آمادہ تھا اور نہ دل اسے قبول کرنے کے لئے تیار!زندگی کتنی ہی طویل ہو اس کے خاتمے پر صدمہ توہوتا ہے ،اور والد مرحوم کی عمر تو محض پچاس سال تھی، اس کم عمری کی موت نے والد صاحب کی جدائی کوناقابل برداشت صدمہ بنا دیاہے۔آج جب حضرت والدصاحب کی زندگی کے کچھ گوشوں کو ضبط تحریر میں لارہاہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کا سراپا میرے سامنے ہے اور ابھی وہ مجھے’’بیٹا ‘‘کہہ کر پکاریں گے اورمیں جواباً ’’اباجان‘‘کہہ کر ان سے چمٹ جاؤں گا، آہ! اب یہ موقع دنیا میں مجھے حاصل نہیں،اے کاش! جن کے سروں پر والد کا سایہ موجود ہے وہ اس کی قدر جانیں ! ہزارمرتبہ سجدہ شکر بجا لاؤں اس ارحم الراحمین کی بارگاہ میں جس نے ابھی والدۂ محترمہ کی شکل میں قلب وروح کی تسکین کاسامان باقی رکھا ہے۔امی جان کا وجود بسا غنیمت ہے اور جینے کا سب سے بڑا سہارا بھی !ہم سب بھائی بہنوں کی تعلیم و تربیت اور پرورش و پرداخت ان ہی دو نوں مقدس ہستیوں کاصدقہ ہے۔

    حرف آخر: کامیاب انسان وہ ہے جس کے دنیا سے چلے جانے کے بعد لوگ اس کی اچھائیوں اور خوبیوںکو یاد کریں، ایسا نہیں کہ والدصاحب میں خامیاں نہیں تھیں، ہاں! اتناضرور ہے کہ ان میں خوبیاں خامیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ تھیں، اور نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد گرامی ’’تم میں بہتر انسان وہ ہے جو اپنے گھر والوںکے حق میں اچھا ہو۔‘‘کی روشنی میں میں انہیں بہت اچھا انسان، کامیاب سرپرست اور شفیق باپ سمجھتا ہوں،اب وہ اﷲ پاک کے حضور پہنچ چکے ہیں اور ہماری محبت اورخدمت سے بے نیاز بھی ہو چکے ہیں، انہیں پسماندگان کے آنسو ،اعزہ و اقرباء کے دلوں کی بے قراری اور دنیا کی ساری متاع غرور کچھ فائدہ نہیں پہنچاسکتی۔ہاں! ان کے لئے کی جانے والی دعائیں اور التجائیں ان شاء اللہ ضرور کام آئیں گی۔انہوں نے اپنے پیچھے مال وجائداد کا ذخیرہ نہیں چھوڑا لیکن نیک صالح اولاد اور تربیت یافتہ شاگردوں کی ایک بڑی جماعت ضرور چھوڑی ہے، جو یقینا ان کے حق میں ثواب جاریہ کا سبب ہے۔رحیم و کریم پروردگارکی بارگاہ میںانتہائی عاجزی و مسکنت کے ساتھ ایک غمزدہ بیٹے کی فریاد ہے:جس طرح میرے ماں باپ نے محبت و شفقت کے ساتھ میری پرورش کی ہے اسی طرح آپ ان کے ساتھ بھی رحم و کرم اور عفو درگذر کامعاملہ فرمایئے۔رَبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا 
 ٭…٭…٭

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. اللہ تعالیٰ مرحوم حافظ صاحب کی مغفرت فرمائے آمین درجات کو بلند فرمائے جنت میں علی مقام عطا فرمائے آمین یارب العالمین امین

    جواب دیںحذف کریں