Ticker

6/recent/ticker-posts

دین کی بنیاد پر رشتہ نکاح

     دین اور اخلاق کی بنیاد پر رشتہ نکاح

حضرت سعید بن مسیبؒ کی ایک نیک سیرت بیٹی تھی۔ خلیفہ عبدالملک کی طرف سے کئی بار اس کے بیٹے ولید کے لیے پیغام آچکا تھا۔ خلیفہ عبدالملک حضرت سعید بن مسیب جیسے نیک، پرہیزگار، عالم فاضل تابعی کی بیٹی کو اپنی بہو بنانے کی شدید آرزو رکھتا تھا، مگر سعید بن مسیب کسی دنیوی جاہ و جلال کو خاطر میں لانے والے نہیں تھے۔ انہوں نے انکار کردیا۔ ان کا یہ انکار خلیفہ کو خلافِ توقع بڑا ناگوار گزرا۔ اس نے مختلف طریقوں سے پہلے تو حضرت سعید بن مسیب پر دباؤ ڈلوایا، جب اس میں ناکام ہوا تو پھر سختیاں شروع کردیں اور طرح طرح کی اذیتیں دینے لگا۔ حضرت سعید بن مسیب نے سب کچھ برداشت کیا مگر راضی نہ ہوئے اور صاف صاف کہہ دیا کہ میں کسی دنیادار بندے کو اپنی لختِ جگر دے کر اپنی اور اس کی عاقبت برباد نہیں کرسکتا۔ بالآخر خلیفہ مایوس و پریشان ہوکر رہ گیا۔
     خلیفہ کو صاف جواب دینے کے چند دن بعد حضرت سعید نے محسوس کیا کہ ان کے شاگردابووداعہ آج کل کچھ دنوں سے غیر حاضر ہیں۔ آخر کچھ دنوں کے بعد جب ابووداعہ دوبارہ آئے تو حضرت سعید نے ان کو درس کے بعد روک لیا اور چند دن غیر حاضر رہنے کی وجہ پوچھی۔
     ہونہار شاگرد غمگین لہجے میں جواب دیتے ہیں ’’استادِ محترم دراصل میری بیوی کا چند دن قبل انتقال ہوگیا ہے، اب چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، ان کی دیکھ بھال اور گھر کا کام کاج مجھے ہی کرنا پڑتا ہے، اس وجہ سے درس سے محروم رہا۔‘‘
      حضرت سعید نے ان کو حوصلہ اور تسلی دی، ساتھ ہی حیرت سے پوچھا کہ ’’تم نے اطلاع کیوں نہ دی تاکہ میں کفن دفن کا بندوبست کردیتا اور اس کا جنازہ بھی پڑھ لیتا۔‘‘
     ’’استاد صاحب! آپ تو مصروف آدمی ہیں، اس لیے میں نے آپ کو زحمت دینا مناسب نہ سمجھا‘‘۔ ابووداعہ نے جواب دیا۔
    ’’اچھا اب یہ بتاؤ تم نے دوسری شادی کی فکر کی ہے یا نہیں؟‘‘
    ’’محترم شیخ !مجھ جیسے غریب بے نوا اور پھر چھوٹے بچوں کے ساتھ کون رشتہ دیتا ہے! میں نے دوسری شادی کے لیے کوشش کی ہے مگر ناکام ہوکر رہ گیا ہوں۔‘‘
    استاد صاحب بولے ’’کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ میں تمہیں اپنی فرزندی میں قبول کرلوں؟ تمہارے پاس علمِ دین ہے، اللہ اور رسولؐ کی محبت ہے، اس لیے میں تمہیں ترجیح دیتا ہوں۔‘‘
    ابووداعہ کا منہ کھلا رہ گیا۔ ان کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔ ابھی چند دن پہلے ہی کی تو بات تھی کہ خلیفہ اپنے بیٹے کے لیے رشتہ طلب کررہے تھے، ان کو صاف جواب دے دیا گیا تھا۔ فوراً بولے ’’محترم استاد صاحب اس سے بڑی میری خوش قسمتی کیا ہوسکتی ہے!‘‘
    حضرت سعیدؒ نے فوراً تین، چار درہم، کھجور اور شہد کے شربت پر اپنی بیٹی کا نکاح ابووداعہ سے چند لوگوں کی موجودگی میں پڑھا دیا۔ اس طرح مسنون نکاح کا فریضہ انجام دیا گیا۔
   اب ابووداعہ اٹھ کر گھر جانے لگے۔ بڑے ہی خوش و خرم تھے۔ جاتے ہی ماں کو خوش خبری سنائی۔ ساتھ ہی ماں بیٹے کو یہ فکر لاحق ہوگئی کہ وہ بیوی کو گھر لانے کے لیے ضروری سامان کیسے مہیا کریں؟ یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ ماں بیٹا دونوں نے روزہ افطار کیا۔سوچوں اور فکروں میں تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ ابووداعہ نے آگے بڑھ کر پوچھا ’’کون؟‘‘
    ’’میں ہوں سعید‘‘۔ آواز بڑی معروف تھی۔ ابووداعہ کو پہچاننے میں ذرا بھی دیر نہ لگی۔ حیران ہوئے کہ حضرت سعیدؒ تو مسجد اور گھر کے سوا کہیں آتے جاتے ہی نہیں۔ اللہ خیر کرے۔۔۔ دروازہ کھولتے ہی عرض کیا ’’ یاشیخ! آپ نے مجھے بلوایا ہوتا، خود آنے کی زحمت کیوں فرمائی؟ فرمائیے کیا حکم ہے؟‘‘
    وہ گویا ہوئے ’’میں نے سوچا جب تمہاری بیوی موجود ہے تو تم تنہا کیوں بسر کرو، لہٰذا میں تمہاری بیوی کو تمہارے پاس لے آیا ہوں۔۔۔‘‘ یہ کہا اور بیٹی کو اشارہ کرکے گھر کے اندر داخل کردیا اور خود اسی وقت واپس ہوگئے۔ابووداعہ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ گھر کی چھت پر چڑھ کر ہمسایوں کو آواز دی اور اعلان کردیا کہ ’’حضرت سعید بن مسیبؒ نے اپنی بیٹی کا نکاح میرے ساتھ کردیا ہے اور اسے اب میرے پاس پہنچا گئے ہیں۔‘‘
     جب والدہ نے سنا تو کہنے لگیں ’’پہلے مجھے موقع دو کہ میں دلہن کو تمہارے لیے بناؤں، سنواروں‘‘۔ اس کے بعد انہوں نے بیٹے کو مبارک باد دی۔ پڑوسیوں نے بھی مبارک باد دی۔ سبھی حیران تھے کہ حضرت سعید بن مسیب جیسے عظیم شخص نے خلیفہ عبدالملک کی خواہش کو ٹھکرا کر ابووداعہ جیسے غریب شخص کو کیسے منتخب کرلیا؟ بعدازاں جب ابووداعہ اپنی بیوی کے پاس پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ پیکرِ حسن و جمال ہی نہیں حافظہ قرآن و سنتِ رسولؐ کی عالم، حقوقِ شوہر سے واقف، علم و تہذیب سے آراستہ اور فرشتہ صفت خاتون ہے۔ دوسرے دن ابو وداعہ حضرت سعید بن مسیب کے درس میں جانے لگے تو بیوی نے پوچھا کہاں جارہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ تمہارے والد حضرت سعید کے درس میں، یہ سن کر بیوی نے کہا : میرے پاس بیٹھو ، میں تمہیں وہ سارا علم سکھاتی ہوں جو میرے باپ سعید کے پاس ہے۔ یہ سن کر ابو وداعہ کا سر اللہ کے حضور شکرانے کے طور پر جھکتا چلا گیا۔
      حضرت سعید بن مسیبؒ ایک جلیل القدر تابعی تھے۔ وہ اسلام کے درخشاں و تابندہ ستاروں میں سے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ دولت سے بے نیازی، اقتدار سے دوری میں وہ اپنی مثال آپ تھے۔ اپنی بیٹی کی شادی کے لیے انتخاب کا جو معیار آپ نے پیش کیا اور جس انداز سے شادی کی، تاریخ میں اس کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔
     ٭…٭…٭

ایک تبصرہ شائع کریں

2 تبصرے