از: مفتی محمد عامر یاسین ملی
8446393682
بعض گھروں میں ایسی بیٹیاں اور بہنیں موجود ہوتی ہیں کہ نکاح کی عمر ہوجانے کے باوجود ان کا نکاح نہ ہوسکا ہو یا وہ نکاح کرنا ہی نہیں چاہتیں، اسی طرح مطلقہ اور بیوہ خواتین بھی ہوتی ہیں، جو طلاق یا شوہر کے انتقال کے بعد مجبورا اپنے میکے لوٹ آتی ہیں، ایسی تمام بہنیں اور بیٹیاں رحم اور حسن سلوک کی مستحق ہوتی ہیں۔ ماں باپ اور بھائیوں کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ان بیٹیوں اور بہنوں کی کفالت کریں اور جب تک وہ میکے میں رہیں، ان کی کفالت کا معقول نظم کریں، اور جس قدر جلد ممکن ہو، ان کا نکاح ثانی کرنے کی کوشش کریں۔
جن خاندانوں اور گھرانوں میں بیٹیاں اور بہنیں اس صورتحال سے گزر رہی ہوتی ہیں، ان کے لیے دوسری آزمائش یہ ہوتی ہے کہ بعض لوگ انہیں بیٹی دینے سے گریز کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں گھر کے دیگر افراد بھی ان بیٹیوں اور بہنوں کو بوجھ سمجھنے لگتے ہیں، ایسے گھرانوں میں بیٹی نہ دینے کی بنیادی وجہ بعض خاندانوں میں آنے والی نئی بہو اور گھر میں پہلے سے موجود بیٹیوں کے درمیان کی ناچاقی کے واقعات ہیں، جن کے نتیجے میں گھر کا چین و سکون ختم ہو جاتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ سارا قصور بیٹیوں کا ہی ہو یا تمام بیٹیاں اپنی بھابھی کی دشمن ہی ہوں، اس لئے ان کی موجودگی کو بنیاد بنا کر رشتہ کرنے سے انکار کرنا مناسب نہیں ہے، بلکہ یہ عمل ایک طرح سے ان کی دل شکنی کے مترادف ہے۔ ظاہر ہے کہ کہیں بھی والدین اپنی بیٹی کو گھر میں اس طرح بیٹھا کر رکھنا نہیں چاہتے، نہ کوئی بیٹی اپنے والدین کے گھر میں ہمیشہ رہنا پسند کرتی ہے، حالات و مسائل انہیں ایسے مقام پر لا کھڑا کرتے ہیں، اس لیے ایسی بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ دل جوئی کا معاملہ کرنا چاہیے اور دعا بھی کرنی چاہیے کہ اللہ پاک ان بیٹیوں اور بہنوں کو دوبارہ خوشگوار ازدواجی زندگی نصیب فرمائے۔
رہی بات اس اندیشے کی جس کے پیش نظر لوگ ایسے گھروں میں بیٹیاں نہیں دیتے، یا جہاں واقعی نند اپنی بھابی کے ساتھ بدسلوکی اور زیادتی کررہی ہو، تو اس کا بہتر حل یہ ہے کہ ان گھرانوں میں گھر کے ایک دو افراد کے ساتھ ایسی بیٹیوں اور بہنوں کی رہائش اور خوردونوش کا علاحدہ طور پر معقول نظم کر دیا جائے تو یہ شکل زیادہ محتاط بھی ہے اور آنے والی بہو سمیت گھر کے دیگر افراد کے لیے بھی اس میں راحت ہے۔
اسی کے ساتھ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بہو اور بیٹے کو معاملات میں بیٹیوں کو مداخلت کی ہرگز اجازت نہ دیں۔ مسائل وہاں پیدا ہوتے ہیں جہاں گھر کے افراد اپنے دائرہ سے باہر قدم نکالتے اور دوسروں کے معاملات میں بیجا مداخلت کرتے ہیں۔
مشکلیں خودبخود ختم ہوجائیں گی
اپنی اپنی حدوں میں رہا کیجیے
بہو کو بھی چاہیے کہ اپنی نند کو حقیر نہ سمجھے ، بلکہ اسے اپنی بہن کا درجہ دے، اور یہ سوچے کہ خدانخواستہ اس کی اپنی بہن ایسے حالات سے گزرتی تو وہ اس کے ساتھ کیسا سلوک کرتی !!!
*-*-*
1 تبصرے
مشکلیں خودبخود ختم ہوجائیں گی
جواب دیںحذف کریںاپنی اپنی حدوں میں رہا کیجیے۔ بلکل درست فرمایا۔ اللہ تمام علمائے کرام کو بہترین جزاخیر آتا فرمائے