میری آدھی زندگی گزر گئی
شاید آدھی باقی ہے!
تحریر : مفتی محمد عامریاسین ملی
9028393682
ہرسال جب یوم جمہوریہ آتا ہے تو میری والدہ محترمہ (ﷲ پاک ان کی عمرمیں صحت و عافیت کے ساتھ برکت عطا کرے) مجھے یاد دہانی کراتی ہیں کہ عیسوی سال کے لحاظ سے تمہارا یوم پیدائش آرہا ہے، دراصل یوم جمہوریہ کے بعد والا دن یعنی 27 جنوری میری پیدائش کا دن ہے، میں جانتا ہوں کہ امی جان کی اس یاد دہانی کا مقصد یوم پیدائش( birthday ) کی خوشی منانے کی طرف اشارہ کرنا نہیں ہوتا بلکہ یہ احساس دلانا ہوتا ہے کہ اب تک میری آدھی زندگی گزر چکی ہے اور شاید آدھی باقی ہے، اور امی اس بات کا محاسبہ کرنے کی بھی دعوت دیتی ہیں کہ اب تک کی زندگی کیسی گزری اور آئندہ کیسی گزرے گی!
چنانچہ امی جان کی بات سنتے ہی دل میں ایک عجیب سا احساس پیدا ہوتا ہے ، اور پھر میں کچھ دیر کے لئے اپنی گزشتہ زندگی کی کتاب کے اوراق کو الٹنے پلٹنے لگ جاتا ہوں۔
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
قارئین! اسلام میں یوم پیدائش کی کوئی اہمیت نہیں ہے، لیکن فطری طور پر ہر انسان اپنا یوم پیدائش یاد رکھتا ہے، یہ یاد دہانی اگر گذشتہ کے جائزے اور آئندہ کا لائحہ عمل بنانے کا ذریعہ ہو تو بہتر ہے، آج میں نے اپنی گزشتہ زندگی کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ 27؍جنوری 1988ء سے 27؍جنوری 2022ء تک زندگی کی 34؍بہاریں گذر چکی ہیں، جو اب کبھی بھی لوٹ کر نہیں آئیں گی ! دل سے ایک آہ نکلی ،اور یہ حدیث ذہن میں تازہ ہو گئی، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ میری امت کے اکثر لوگوں کی عمریں 70 اور 60 سال کے درمیان ہوں گی، اور بہت کم لوگ اس سے آگے بڑھیں گے۔
( سنن ابن ماجہ)
یہ حدیث شریف صاف طریقے پر اس حقیقت کی جانب اشارہ کررہی ہے کہ اگر عمر طبعی میرا مقدر ہے تواس کا نصف حصہ گزر چکا ہے اب نصف ہی باقی ہے، وہ بھی اسی طرح خاموشی کے ساتھ گزر جائے گا۔
ہورہی ہے عمر مثل برف کم
رفتہ رفتہ چپکے چپکے دم بہ دم
انسانی زندگی کاایک چوتھائی حصہ (پندرہ سال)تو لاشعوری میں بیت جاتاہے، جب تک انسان بالغ نہ ہو ،مکلف بھی نہیں کہلاتا، بلوغت کے بعد بھی کئی سال حصول علم میں گزر جاتے ہیں، یہاں تک کہ عمر بیس سال سے بڑھ ہوجاتی ہے، گویا ایک تہائی حصہ عمل کے بغیر ہی نکل جاتا ہے، طالب علمی سے فراغت کے بعد عملی زندگی شروع ہوتی ہے، اورنکاح کے بعد احساس ذمہ داری پیدا ہوتاہے،اٹھتی ہوئی جوانی کا یہ مرحلہ دنیاو آخرت کے لحاظ سے کچھ کر گزرنے کا بہترین موقع ہوتا ہے،جس میں خون گرم ہوتاہے اور حوصلے بلند ہوتے ہیں، افسوس کہ بہت سارے نوجوان اس عرصے کو کھیل کود ،سیروتفریح، یارباشی، ہوٹل بازی اور دیگر لغو اورغیرضرور کاموں میں بربادکر دیتے ہیں، حالانکہ اس زمانے میں بویا جانے والا بیج ہی ادھیڑی میں درخت بن کر پھل دیتاہے اور بڑھاپے میں سایہ بھی ! اس لیے جوانی کے ان دنوں میں محنت و مشقت کے کاموں کو کرنے کامزاج بنانا چاہئے، قبل اس کے کہ انسان بڑھاپے کی دہلیز پرقدم رکھے اور طاقت وقوت جواب دینے لگے، بقول شاعر ؎
کر خداکی عبادت جوانی میں تو
کل بڑھا پا ترے سر پہ آ جائے گا
طاقت دست و پا ختم ہو جائے گی
پھر عبادت کا کوئی بھروسہ نہیں
راقم نے اپنی 34؍سالہ زندگی میں سے پانچ برس اسکول میں اور 14؍برس مدرسہ کی علمی و روحانی فضا میں گزارے ،2001ء میں معہد ملت کے شعبہ حفظ سے اور 2009ء میں شعبہ عالمیت سے فراغت حاصل کی۔ 2011ء میں المعہدالعالی (پٹنہ، بہار)سے فن افتاء و قضاء کی تکمیل ہوئی، 2018ء میں مولانا آزاد نیشنل اردو اوپن یونیورسٹی حیدرآباد سے جرنلزم ( صحافت) کی سند ملی۔
2012ء سے عملی زندگی کا باضابطہ آغاز ہوا، دل کی یہ دیرینہ خواہش تھی کہ اب والدصاحب ( قاری محمد یاسین شمسی رحمۃ اللہ علیہ )آرام کریں اوران کا بیٹا ان کا دست بازو بن کر گھریلو ذمہ داریوں کو نبھائے،مگر خداکو کچھ اور منظور تھا ، ابھی دیڑھ سال کا عرصہ ہی گزراتھا کہ بارگاہ الہی سے بلاواآگیااور ایک ناگہانی حادثے کاشکار ہوکر اباجان ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئے،خداانہیں اپنی رحمت کے سایہ میں جگہ دے اور ان پر رَوح و ریحان کی بارش برسائے اور ان کی قبر کوجنت کا باغ بنائے، آمین!
قارئین! انسان کی طبعی زندگی گرچہ ساٹھ سے ستر سالوں پر محیط ہوتی ہے، لیکن عملی زندگی کا زمانہ انتہائی مختصر ہوتا ہے۔ایک انسان اگر روزانہ آٹھ گھنٹے سوتاہے توگویا زندگی کا ایک تہائی حصہ (بیس سال) نیند کی نذر ہوجاتا ہے،روزانہ آٹھ گھنٹے معاشی جدوجہد میں گزرتے ہوں تو مزید بیس سال فکر معاش کی نذر ہوجاتے ہیں۔رہ گئے بقیہ بیس سال ،اب ان میں بشری تقاضوں کی تکمیل بھی کرنی ہے ،اہل خانہ ، رشتہ داروں اور بندگان خدا کے حقوق بھی ادا کرنے ہیں، اور سب سے بڑھ کر حقوق اللہ کی ادائیگی اور آخرت کی تیاری بھی کرنی ہے، اندازہ کیجئے کہ اس مختصرسی زندگی کاکتنا مختصر سا حصہ ہمیشہ کی زندگی بنانے اور سنوارنے میں صرف ہوتاہے! حقیقت تو یہ ہے کہ زندگی بہت مختصر ہے اور کام بہت زیادہ ، ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں تبدیل ہو کر گزرجاتے ہیں ،حوصلے جوان ہوتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ کمزورہونے لگتے ہیں، پھر اچانک داعی اجل( موت) سر پر آ کر کھڑا ہو جاتاہے، اس وقت انسان محسوس کرتاہے کہ زندگی کتنی تیزی سے دبے پاؤں گزرگئی ۔ اس وقت اسے اپنی کوتاہیوں پر پچھتاوا بھی ہوتاہے لیکن
اب پچھتائے کاہو، جب چڑیاچگ گئی کھیت
اپنی اس آپ بیتی کو مضمون کی شکل دینے کامقصد یہ ہے کہ ہم لوگ خصوصاًہمارے نوجوان اگر اپنے یوم پیدائش پر اس زاویے سے بھی غور کر لیں تو کبھی بھی برتھ ڈے منانے کا شوق پیدانہ ہو۔انسان بیتی ہوئی زندگی کی کوتاہیوں پر غو ر کر لے تو سوائے افسوس اور آنسو بہانے کے کوئی راستہ نہیں ہو گا،البتہ اسی وقت اگر آئندہ کے لیے کوئی مضبوط اور منظم لائحہ عمل تیار کرلے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے لگے تو امید ہے کہ آئندہ آنسو بہانے کی نوبت نہیں آئے گی!
آج راقم یہی سوچ کر پریشان ہے کہ خدا کے بے شمار بندوں نے اتنی ہی عمرمیں کیسے کیسے حیرت انگیز کارہائے نمایاں انجام دیئے اور میں نے اب تک اسلام اور مسلمانوں کی سرخ روئی کے لئے کیا کوشش کی ؟ زندگی اور موت کے خالق و مالک خدائے ذوالجلال سے التجا ہے کہ زندگی کے بقیہ حصے کو گذشتہ کے مقابلے میں ہر لحاظ سے بہتر انداز میں گذارنے کی توفیق بخشے، اور عمر و صحت میں ایسی برکت دے کہ اس حدیث کا مصداق بن سکیں : خير الناس من طَال عُمُرُه، وحَسُنَ عَمَلُهُ( ترمذی)
بہترین انسان وہ ہے جس کی عمر لمبی ہو اور اعمال بھی اچھے ہوں!
بارگاہ الٰہی میں اس بات کا اعتراف ہےکہ اب تک
جو کچھ ہوا، ہوا کرم سے تیرے
اور یہ اقرار ہے کہ آئندہ کی زندگی میں :
جو کچھ ہوگا تیرے کرم سے ہوگا
لھذا دعا گو ہوں
اللَّهُمَّ وَفِّقْنِي لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضَى مِنَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ وَالنِّيَّةِ وَالْهُدَى. واجعل آخرتی خیرا من الاولی، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ.
٭…٭…٭

2 تبصرے
یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
جواب دیںحذف کریںبہت خوب
جواب دیںحذف کریںمجھے اپنا آپ یاد آگیا۔ راقم بھی قریب قریب اسی عمر میں ہے؛ یوم پیدائش 28 فروری 1988 ۔۔۔ لگا کہ یہ اپنی آپ بیتی ہے۔
اللہ پاک آپ کی طرح احساس ذمہ داری عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین