Ticker

6/recent/ticker-posts

دادا کی میراث سے ہوتا محروم کیوں؟


دادا کی میراث سے پوتا محروم کیوں ہوتا ہے؟

از: مفتی محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں       
8446393682

نوٹ:ماشاء اللہ!مضمون نگار نے معاشرہ کی ایک اہم ضرورت کو محسوس کیا اور زیر نظر مضمون میں اس پیچیدہ مسئلہ کا شرعی حل بیان فرمایا ہے، ﷲ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین) 
(مفتی حامد ظفر رحمانی، استاذ معہد ملت)

   قارئین! شریعتِ اسلامیہ کا ہر حکم غیرمعمولی حکمتوں اورمصلحتوں پر مبنی ہے، اور اسلامی شریعت کی پوری عمارت عدل و انصاف کی بنیا د پر قائم ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کے کسی حکم پر عمل کے نتیجہ میں نہ کسی کاکوئی نقصان ہوا ہے نہ کسی پر کبھی کوئی ظلم ہوا ہے،بلکہ تمام احکام پر عمل کرنے میں ہی ہمارا فائدہ اورتمام گناہوں سے رک جانے میں ہی ہماری نجات ہے۔ اگر شریعت کا کوئی حکم ہمیں بظاہر ناقابل فہم لگے تو یہ ہماری عقل کا قصور ہے نہ کہ شریعت کا،یوں بھی احکام شریعت عقل کی میزان پر تولنے کی چیز نہیں بلکہ عشق کی بنیا د پر قبول کرنے کی چیز ہیں۔ ؎
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ

    شریعتِ اسلامیہ پر ایمان لانے اوراس کے سارے احکام کو تسلیم کرنے کے باوجودجب بعض احکام ومسائل لوگوں کی سمجھ میں نہیں آ تے یا ان کے مفادات سے ٹکراتے ہیں توپھرایسے افراد یاتوان احکام کو تسلیم ہی نہیں کرتے یا انہیں غیر موزوں اور عدل وانصاف کے خلاف قرار دے کر ان پر اعتراض کرتے ہیں اور ان پر عمل سے گریز کرتے ہیں۔ ایسے ہی چنندہ مسائل میں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ ’’دادا کی موجودگی میں باپ انتقال کر جائے تو بیٹا(پوتا) دادا کی میراث سے محروم ہوتا ہے ‘‘اس طرح نانا کی موجودگی میں ماں کا انتقال ہو جائے تو بھی بیٹا (نواسہ) نانا کی میراث سے محروم ہوتا ہے۔ 
اس کا سب سے پہلا اور بہتر جواب تویہی ہے کہ حضورﷺ ہمیں جو حکم بتلا گئے ہیں ، اس کاعلم ہونے کے بعداس پر ایمان لانا اور اسے تسلیم کرنا ہمارے لئے ضروری ہے، اس کی وجہ حکمت اور علت دریافت کرنے کاہمیں حق نہیں ۔ ؎
سر جھکا دیں شوق سے رب کی اطاعت کے لئے 
اور کیا شئے ہے اسی کا نام تو اسلام ہے

      مذکورہ مسئلہ کے سمجھ میں نہ آنے کی سب سے بڑی وجہ وہ معاشرتی صورت حال ہے جس میں ایک باپ کے چار بیٹوں میںسے کسی ایک بیٹے کا انتقال ہو جاتاہے، پھر کچھ دنوںکے بعدباپ کا بھی انتقال ہوجاتا ہے، اور اس کی میراث تقسیم ہوتی ہے تو مثلاً میراث اگر بارہ روپیہ ہے توتینوں بیٹوں میں چار چار روپیہ تقسیم ہو جاتی ہے۔اگر ایک اور بیٹا زندہ ہوتا یا باپ کے بعدانتقال کرتا تواسے بھی میراث میں سے حصہ ملتا اور پھر یہی میراث چاروں بیٹوںمیں تین تین روپئے کے حساب سے تقسیم ہوتی ، چوں کہ اب وہ زند ہ نہیں رہا اس لئے بقیہ تینوں بیٹے پوری میراث آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں اور مرحوم بیٹے کے یتیم بچے اور اس کی بیوہ محروم ہی رہتے ہیں۔ پھر شروع ہوتا ہے مرحوم دادا کے ان یتیم پوتوں اور بیوہ بہو کے لئے اظہارِہمدردی و محبت کا سلسلہ جو شریعت کے اس حکم پر اعتراض کرنے پرختم ہوتاہے۔جب کہ بقیہ تینوں بیٹے اس حکم کو اپنے حق میں نعمت غیر مترقبہ سمجھ کرپورے طمطراق سے معترضین کے سامنے فتویٰ رکھتے ہیں اور بظاہر یہ جھوٹی ہمدردی بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اگر شرعی ضابطہ سے مرحوم بھائی کے بچوں اور بیوی کا حصہ نکلتا تو ہم ضرور اسے ادا کرتے!
اس سلسلہ میں چند سوالات قابل غور ہیں:

1) پوتوں کی محرومی کی نوبت کیوں آئی اور کیا اس صورتحال سے بچنا ممکن تھا؟
2) بیٹے کے انتقال کے بعد اس کی بیوی بچوں کی کفالت کس کے ذمہ ہے؟
3)بقیہ تینوں بھائیوں کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟
4)کیا پوتوں کو یوں ہی ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے گا؟

     مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی غور کرنا بے حدضروری ہے کہ مسائل کیوں پیدا ہوئے؟ان کے اسباب کیا تھے؟آئندہ زندگی میں ان مسائل سے بچنا کس طرح ممکن ہو سکتا ہے؟دراصل اس مسئلہ کی بنیادی وجہ ہمارے سماج میں رائج مشترکہ خاندانی نظام ہے،جس کے کچھ فوائد بھی ہیں اورکچھ نقصانات بھی ! پرانے خاندانی بزر گ اپنی اولاد کو تادمِ آخر اس بات کی تاکید کرتے تھے کہ وہ آپس میں اکٹھا رہیں،اور ان کا شیرازہ بکھرنے نہ پائے،اس لئے کہ مشترکہ خاندان کے ذریعے اتحاد و اجتماعیت ،مالی استحکام،بوڑھے والدین اور خاندان کے کمزور افراد کی نگہداشت، کمسن اولاد کی کفالت اور قناعت و کفایت شعاری جیسے افادیت بخش پہلو حاصل ہوتے ہیں، لیکن یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے،تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ مشترکہ خاندان اپنے اندر بہت ساری نا ہمواریاں لئے ہوئے ہے اور متعدد پہلوؤں سے معاشرتی زندگی کے لئے نقصان کا باعث بھی ہے،جن میں ایک اہم دینی و معاشی نقصان یہ بھی ہے کہ اس نظام میں گھر کے سارے کمانے والوں کا ایک ہی ذمہ دار ہوتا ہے اور ساری پونجی اسی کے قبضے میں ہوتی ہے،جس کی وجہ سے کمانے والے افر ا د کی معاشی جدوجہد میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔چونکہ مشترکہ خاندان سے وابستہ مختلف افراد کی کمائی کا معیار الگ الگ ہوتا ہے، کسی کی آمدنی کم ہوتی ہے اور کسی کی زیادہ ،لیکن جب ساری آمدنی خاندان کے سرپرست کے زیر تصرف ہوتی ہے توایسے میں لا محالہ ایک کی کمائی اور محنت کا ثمرہ دوسرے کے زیر استعمال آتا ہے، اور پھر دیر سویر جب یہ خاندان بکھر جاتاہے تو اس وقت کوئی بہت اچھی مالی حیثیت میں ہوتاہے اور کوئی نقصان اور خسارے میں ۔جن بیٹوں نے باپ کے ساتھ لگ کر اپنی زندگی کے قیمتی بیس تیس سال کاروبار میں رہ کر گزار دیئے اور جن بیٹوں نے محض دو اور پانچ سال ہی کاروبار کی ترقی میں حصہ لیا،جب کہ بعض نے کہیں اور جا کر ملازمت اختیار کی ،جب باپ کے انتقال کے بعد اس کی جائداد اور کاروبار کی تقسیم عمل میں آتی ہے تو بڑا اختلاف پیداہوتا ہے،اور بڑے بیٹے اپنی دیرینہ محنت اور جدوجہد کا حوالہ دے کر زیادہ حصے اوردولت کے طلبگار ہوتے ہیں جب کہ چھوٹ بیٹے انصاف اوربرابری کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر خدا نخواستہ کسی بیٹے کا باپ سے قبل ہی انتقال ہو جائے تواس کی اولاد اور بیوی بھی ترکے میں اپنی حصے داری کا تقاضہ کرتے ہیں، اور پھر لڑائی جھگڑوں اور آپسی رشتوں کے بگا ڑ کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
     ایسی پیچیدہ اور نازک صورت حال سے بچنے کے لئے مناسب ہے کہ جس وقت والد کے ساتھ بچے بھی کاروبار میں شریک ہوں اسی وقت یہ معاملہ طے کر لیا جائے کہ ان کی شرکت کس حیثیت سے ہے؟کیا وہ اس میں پارٹنر (شریک)ہیں؟یا ان کی حیثیت ملازم کی ہے؟یا وہ محض اپنے والد کے معاون ومددگار ہیں؟اس طرح ان کی حیثیت اور ملکیت ممتاز ہو جائے گی۔ پھر اگروہ کاروبار میں اپنے والد کے ساتھ پارٹنر یاملازم تھے اور ان میں سے کسی کاانتقال والد سے قبل ہی ہو گیاتو کاروبار میں اس کی شراکت ، حصے داری اور ملازمت کے بقدر مال و دولت اس کے بیوی بچوں میں تقسیم کر دیاجائے گا اور ا س طرح مرحوم بیٹے کے بیوی بچے بالکل محروم اور مفلوک الحال نہیں ہوں گے۔
    ہمارے معاشرے میں ہوتا یہ ہے کہ برسہا برس تک کاروبار کی ترقی اور اس کے پھیلاؤ میں محنت وجدو جہد کرنے والا اور تقریباً اپنی ساری عمر اسی کے لئے کھپا دینے والا بیٹا اگروالد سے قبل انتقال کر جاتا ہے اور کاروبار میں اس کی کوئی حیثیت واضح نہیں ہوتی اور پھر باپ بھی انتقال کر جائے تو بقیہ بیٹے ساری جائداد اپنے درمیان تقسیم کر لیتے ہیں، اور اپنے جس مرحوم بھائی کی بدولت انہیں یہ ترکہ بڑی مقدا ر میں حاصل ہو رہا ہے ،شرعی ضابطے کاحوالہ دے کر اس کی بیوی اور بچوں کو وراثت سے محروم کر دیتے ہیں،نہ ان کی کفالت کا ذمہ لیتے ہیں اور نہ اپنی اخلاقی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے انہیں اپنے حصے میں سے بطور تبرع اوراحسان کچھ دیتے ہیں، مرحوم بیٹے کے انتقال کے بعد اولاًاس کے والد اور ان کے بھی انتقال کے بعد اس کے بھائیوں کی کیا شرعی اور اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے اس پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالنا ضروری ہے۔

        مرحوم بیٹے کے انتقال کے بعد اس کے یتیم بچوں کی کفالت کی ذمہ داری اولاً اس کے والد (یتیم پوتوں کے دادا )پر عائد ہوتی ہے، جب کہ اس کی بیوہ بیوی کی کفالت کا ذمہ اس کے باپ اور اگر وہ نہ ہوتو ا س کے بھائیوں پر عائد ہوتی ہے، جیسے ہی بیٹے کا انتقال ہو جائے ، باپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اسی وقت اپنے پوتوں کو کچھ مال ہبہ کر دے اور اپنی زندگی میں ہی ان کے روزمرہ کے اخراجات کی کوئی بہتر شکل مقرر کر دے تا کہ وہ کسی کے محتاج نہ رہیں اور دردر کی ٹھوکریں کھانے اوردوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ذلت سے محفوظ رہیں،یا پھر اپنی جائداد کے ایک تہائی حصے میں سے ان کے لئے وصیت کر دے، اس طرح جب دادا کا انتقال ہو جائے گا تو یتیم پوتے بالکل محروم نہیں رہیں گے،اور بقیہ بیٹوں کو بھی وصیت کی صورت میں انہیں کچھ دینا گراں نہیں گزرے گا، شریعتِ اسلامیہ نے دادا کے لئے اپنی زندگی میں ہبہ اور وصیت کی شکل میں یہ دو اختیارا ت عطا کئے ہیں جن کا استعمال کر کے وہ اپنے یتیم پوتوں کے ساتھ احسان اور حسن سلوک کامعاملہ کر سکتاہے۔
     اگر دادا نے اپنے ان اختیارات کا استعمال نہیں کیا ،نہ اپنی زندگی میں اپنے پوتوں کو کوئی چیز ہبہ کی نہ ان کے حق میں وصیت کی ،اور اسی حال میں انتقال کر گیا تو اب بھائیوں پر اپنے مرحوم بھائی کی اولاد کی کفالت کاذمہ عائد ہوتا ہے،شریعت اسلامیہ کا اصول یہ ہے کہ یتیم بچوں کی کفالت کاذمہ ان افراد پر عائد ہوتا ہے جو ا س کے وارث ہو سکتے ہیں، اگر کوئی یتیم انتقال کر جائے تو جو افراد اس کے وارث کہلائیں گے اور اس کے چھوڑے ہوئے ترکے میں سے اپنا حصہ پائیں گے، وہی افراد اس یتیم کی زندگی میں اپنے اپنے حصے کے بقدر اس کی کفالت کے بھی ذمہ دار ہوں گے،حضور نبی کریم ﷺنے یتیموں ،مسکینوں، بیوہ عورتوں اوربے سہارا افراد کی کفالت کرنے اور ان کا سہارا بننے پر بڑے فضائل ارشادفرمائے ہیں، یتیم کی کفالت کے متعلق حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح (آپ نے اپنی شہادت والی اور درمیانی انگلی کو آپس میں ملا کر بتلایا)ساتھ میں رہیں گے۔ (بخاری شریف)
     قرآن کریم کی سورہ والضحیٰ میں ﷲ پاک نے یتیموں کو جھڑکنے سے منع فرمایا ہے۔لہذا چچاکی ذمہ داری اولاً یہ ہے کہ وہ اپنے یتیم بھتیجوں کی خوش دلی کے ساتھ اپنی سعادت مندی سمجھتے ہوئے کفالت کرے، اوردوسری ذمہ داری یہ ہے کہ جب دادا کے ترکے کی تقسیم عمل میں آئے اور یتیم پوتے یہ دیکھ کر حسرت وافسوس میں مبتلا ہوں کہ سارا ترکہ ان کے چچاؤں اور پھوپھیوں میں تقسیم ہو گیا اور وہ محروم رہ گئے، تو ان کے چچاؤ ں او ر پھوپھیوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بطور تبرع اور احسان کے اپنے اپنے حصے میں سے کچھ مال انہیں بھی دے دیں تا کہ ان کی دل شکنی او ر حسرت کا ازالہ ہو سکے۔
    قرآن کریم کی سورۂ نساء کی آیت نمبر آٹھ میں ﷲ پاک کا ارشاد ہے کہ میراث کی تقسیم کے وقت دور کے رشتہ دار اور یتیم و مسکین جو میراث میں حصہ پانے سے محروم ہو رہے ہوں وہ بھی موجود ہوں تو میراث پانے والوں کااخلاقی فرض یہ ہے کہ اس مال میں سے اپنے اختیار سے کچھ حصہ(بطور تبرع اوراحسان) ان کو بھی دے دیں، اور ان سے خوبی اور نرمی سے بات کریں۔ظاہر بات ہے کہ یہ ان کے لئے ایک قسم کا صدقہ اور موجب ثواب ہوگا، وہ بھی ایسے وقت میں جب کہ یہ مال انہیں بغیر کسی کوشش اور عمل کے محض ﷲ پاک کے دین کی بدولت حاصل ہو رہا ہے، جب کہ یہی یتیم و مسکین اور دوسرے دور کے رشتہ دار شرعی ضابطے سے محروم ہو رہے ہیں اس لئے اس موقع پر ان محروم افراد کو اپنے مال میں سے بطور شکرانہ کچھ دے دینا ﷲ کی رضا کا سبب اور آخرت میں بے انتہاء اجروثواب کے حصول کاذریعہ ہے۔اگر یہ لوگ تھوڑا ما ل ملنے پر راضی نہ ہوں اوردوسروں کے برابر حصے کامطالبہ کرنے لگیں تو انہیں معقول طور پر بھلے انداز میں سمجھا دیں کہ شرعی قاعدے سے میراث میں تمہارا حصہ نہیں ہے، اور ہم نے جو کچھ تمہیں دیا ہے وہ محض تبرع اور احسان ہے۔جس سورہ ٔ نساء میں اﷲ رب العزت نے میراث کے احکام و مسائل کو مفصل انداز میں بیان فرمایا ہے اسی میں ﷲ رب العزت نے یتیموں، مسکینوں،اور رشتہ داروں کے ساتھ میراث پانے والوں کو اس انداز میں حسن سلوک او راحسان کرنے کابھی حکم دیا ہے،یقینااس حکم خداوندی(جو گرچہ واجب اور لازم نہیں بلکہ مستحب ہے ) پر عمل کر لینے کے نتیجے میں بہت سار ے خاندانی ومعاشرتی مسائل کا حل پوشیدہ ہے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے