ترتیب و پیشکش: مفتی محمد عامر یاسین ملی
آج عصر کی نماز کے بعد چند افراد دارالافتاء جامعہ ابو الحسن علی ندوی میں عقیقہ سے متعلق سوالات لے کر آئے، راقم نے ان کو جواب دیا پھر وہ لوگ چلے گئے، ان کے جانے کے بعد دل میں یہ خیال آیا کہ عقیقہ سے متعلق اکثر افراد ائمہ کرام اور مفتیان عظام سے رجوع کرتے ہیں اور عموماً سب کے سوالات تقریباً ایک جیسے ہوتے ہیں ،اس لیے اگر عقیقہ سے متعلق اہم اور بنیادی مسائل سوال وجواب کی شکل میں تحریری طور پر شائع کردیئے جائیں تو یقیناً اس سے عام مسلمانوں کی دینی معلومات میں اضافہ ہوگاا ور عقیقہ سےمتعلق بہت ساری غلط فہمیوں کا ازالہ بھی ہوسکے گاباذن اللہ!
اسی مقصد سے ذیل میں عقیقہ سے متعلق مسائل درج کیے جارہے ہیں :
سوال :عقیقہ کسے کہتے ہیں اوراس کی کیا فضیلت ہے؟
جواب: شریعت میں نومولود بچہ / بچی کی جانب سے اس کی پیدائش کے ساتویں دن جو خون بہایا جاتاہے اُسے عقیقہ کہتے ہیں۔ عقیقہ کرنا مسنون و مستحب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’بچہ / بچی کیلئے عقیقہ ہے، اس کی جانب سے تم خون بہاؤ اور اس سے گندگی (سر کے بال) کو دور کرو۔‘‘ (بخاری)
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ہر بچہ / بچی اپنا عقیقہ ہونے تک گروی ہے۔ اس کی جانب سے ساتویں دن جانور ذبح کیا جائے، اس دن اس کا نام رکھا جائے اور سرمنڈوایا جائے۔‘‘ (ترمذی) لہذا مسنون یہ ہے کہ ساتویں دن بچے کا عقیقہ کردیا جائے اور اس کے سر کے بال مونڈھ کر ان کے وزن کےبرابر چاندی،سونا یا اس کی مالیت کے بقدر روپیہ صدقہ کردیا جائے۔بال اتروانے کے بعد انہیں کسی محفوظ جگہ دفن کردینا چاہیے گندگی وغیرہ کے ڈھیر پر پھینک دینا مناسب نہیں ہے۔
سوال: عقیقہ میں کتنے جانور ذبح کیے جائیں؟
جواب :رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: لڑکے کی جانب سے دو بکرے اور لڑکی کی جانب سے ایک بکرا ہے ۔ عقیقہ کے جانور مذکر ہوں یا مؤنث ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا(یعنی بکرا یا بکری جو چاہیں ذبح کردیں)۔‘‘ (ترمذی ،مسند احمد)
سوال : عقیقہ کس دن کرنا چاہیے؟
جواب : رسول اللہ ﷺ نے اپنے نواسوں حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ کا عقیقہ ساتویں دن کیا، اسی دن ان کانام رکھا اور حکم دیا کہ ان کے سروں کے بال مونڈھ دیئے جائیں۔ (ابو داؤد)
ان احادیث کی روشنی میں علمائے کرام فرماتے ہیں کہ بچہ /بچی کی پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کرنا مستحب ہے۔ اگر بچہ / بچی کہ پیدائش سنیچر کے روز ہوئی ہے تو ساتواں دن جمعہ ہوگا۔ اگر کوئی بچہ مغرب کے بعد یا رات میں پیدا ہوا ہو تو اس کا پہلا دن آنے والے دن سے شمار ہوگا، مثلا پیر کو مغرب کے بعد پیدا ہونے والے بچے کا پہلا دن منگل سے شمار ہوگا اور اس کا عقیقہ ساتویں روز یعنی آئندہ پیر کو کیا جائے گا۔
ساتویں دن کو اختیار کرنے کی اہم وجہ یہ ہے کہ زمانہ کے ساتوں دن بچہ / بچی پر گزر جاتے ہیں لیکن اگر ساتویں دن ممکن نہ ہو تو ساتویں دن کی رعایت کرتے ہوئے چودھویں یا اکیسویں دن کرنا چاہئے، اگر کوئی شخص ساتویں دن کے بجائے چوتھے یا آٹھویں یا دسویں دن یا اس کے بعد کبھی بھی عقیقہ کرے تو یقینا عقیقہ کی سنت ادا ہوجائے گی، اس کے فوائد ان شاء اللہ حاصل ہوجائیں گے، اگرچہ عقیقہ کا مستحب وقت چھوٹ گیا۔
سوال: کیا بچہ / بچی کے عقیقہ میں کوئی فرق ہے؟
جواب: بچہ / بچی دونوں کا عقیقہ کرنا مستحب ہے، البتہ ایک فرق یہ ہے کہ بچہ کے عقیقہ کیلئے دو اور بچی کے عقیقہ کیلئے ایک بکرا / بکری ذبح کرے لیکن اگر کسی شخص کے پاس بچہ کے عقیقہ کے لئے دوبکرے ذبح کرنے کی استطاعت نہیں تو وہ ایک بکرےسے بھی عقیقہ کرسکتا ہے ۔
سوال : جس کا عقیقہ بچپن میں نہ ہوسکا ہو تو وہ بڑی عمر میں عقیقہ کرسکتا ہے؟
جواب: ہاں
سوال : عقیقہ کے جانور کی کیا شرائط ہیں اور بکری کے علاوہ دیگر جانوروں میں عقیقہ کرسکتے ہیں؟
جواب : عقیقہ کے جانور کی عمر وغیرہ کیلئے علماء نے عیدالاضحی کی قربانی کے جانور کے شرائط تسلیم کئے ہیں۔ یعنی جو عمر قربانی کے جانور کی ہونی چائیے اور جن عیوب سے قربانی کا جانور پاک ہونا چاہیے، عقیقہ کا جانور بھی ٹھیک ایسا ہی ہونا چاہیے۔
بکرا / بکری کے علاوہ اونٹ گائے کو بھی عقیقہ میں ذبح کرسکتے ہیں کیونکہ حدیث میں عقیقہ میں خون بہانے کیلئے نبی اکرم ﷺ نے بکرا / بکری کی کوئی شرط نہیں رکھی،لہذا اونٹ گائے میں بھی عقیقہ کیا جاسکتا ہے ۔
عقیقہ کی دعا کونسی ہے؟
جواب : عقیقہ کے وقت یہ دعا کرلینا چاہئے:
أللهم ہٰذِہ عَقِیْقَةُ فلان... (یہاں پر جس کے نام سے عقیقہ ہے اس کا نام لیں) دَمُہَا بِدَمِہ وَعَظْمُہَا بِعَظْمِہ وَجِلْدُہَا بِجِلْدِہ وَشَعْرُہَا بِشَعْرِہِ اللّٰہُمَّ اجْعَلْہَا فِدَاءً لَہٗ اللّٰہُمَّ مِنْکَ وَلَکَ۔
نوٹ: عقیقہ کےدعا کے ان الفاظ کا زبان سے اداکرنامستحب ہے واجب نہیں ، اگر کسی کو دعا یاد نہ ہو اور وہ جانور ذبح کرتے وقت جس بچے کی جانب سے عقیقہ کیا جارہا ہواس کا خیال دل میں رکھ لے اور بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کرجانور ذبح کردے تو یہ بھی کافی ہے۔
سوال:بڑے جانور میں عقیقہ کیا جائے توکیااس میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ایک حصہ رکھنا ہوگا؟
جواب : نہیں
سوال :بچہ ہاسپیٹل میں ہو تو کیا کریں؟
جواب:اگر بچہ ہاسپیٹل میں ہوتو اس کی طرف سے گھر پرعقیقہ کردیں ،اس لیے کہ عقیقہ کے لیے بچے کا سامنے ہونا ضروری نہیں ہے۔عقیقہ کا جانور ذبح ہونےسے پہلے یا بعد میں ہاسپیٹل میں ہی بچے کے بال منڈوادیں۔
سوال:اگر بچے کا انتقال ہوگیا ہو تو کیا اس کی جانب سے بھی عقیقہ کیا جائے گا؟
جواب:عقیقہ سے پہلے بچے کی وفات ہوجائے تو بعد میں اس کی طرف سے عقیقہ کا حکم نہیں ہے۔
سوال : عقیقہ کے جانور کی کھال کا کیا مصرف ہے؟
جواب : قربانی کے جانور کی طرح عقیقہ کے جانور کی کھال یا تو غرباء ومساکین کو دیدیں یا اپنے گھریلو استعمال میں لے لیں۔ کھال یا کھال کو فروخت کرکے اس کی قیمت قصائی کو اجرت کے طور پر دینا جائز نہیں ہے ۔ قربانی کے گوشت کی طرح عقیقہ کے گوشت کو خود بھی کھاسکتے ہیں اور رشتہ داروں کو بھی کھلاسکتے ہیں اور کچا گوشت بھی تقسیم کرسکتے ہیں۔
4 تبصرے
اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزاخیر آتا فرمائے آمین
جواب دیںحذف کریںاللہ تعالیٰ آپ کو خوش اور آباد رکھے آمین یارب العالمین امین
جواب دیںحذف کریںرمضان شریف کا پہلا
جواب دیںحذف کریںروزه 3 اپريل2022
بروز منگل کو هوگا.انشاالله
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے فرمایا
جو شخص رمضان کی
خبر کسی کو سب سے پھلے دے گا
اس پر دوزخ کی آگ حرام هے ! (حدیث مبارک ........ kya ye baat shi hai mufti sahab tashreeh kare please
ماشاءاللہ ۔
جواب دیںحذف کریںاللہ پاک آپ کو بہتر عطا فرمائے۔