Ticker

6/recent/ticker-posts

نومسلم کا رشتہ نکاح

مردو عورت کا رشتہ نکاح 
دشواریاں اور ان کا حل

از : مفتی محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں 8446393682

  ہمارے ملک میں دعوت و تبلیغ اور اسلامی ہدایات و تعلیمات سے متاثر ہوکر بعض لوگ( مر و عورتیں ) ایمان قبول تو کرلیتے ہیں لیکن ایسے نومسلم حضرات عام طور پر دینی مسائل و احکامات کے علاوہ، ایمان کی پختگی اور روحِ اسلام کو سمجھنے میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ اپنے سابقہ مذہب سے کٹ جانے کی وجہ سے تمام رشتے داروں سے دور وہ بالکل الگ تھلگ پڑجاتے ہیں۔ خاندانی جائیداد اور ذرائع آمدنی سے محرومی کے باعث بے یارومددگار ہوجاتے ہیں، اگر کسی نومسلم مردوعورت کی بیوی یا شوہر اسلام قبول نہ کرے تو ان کے لیے اپنے شریک حیات کے ساتھ زندگی گزارنابھی شرعا جائز نہیں ہوتا، ان میں سے اکثریت کو عموما نہ نیا ماحول( مسلم معاشرہ) پوری طرح قبول کرتا ہے اور نہ ہی انہیں مناسب روزگار ملتا ہے۔چونکہ پرانے رشتے ٹوٹ چکے ہوتے ہیں جبکہ نو مسلم ہونے کی وجہ سے انہیں کوئی رشتہ بھی نہیں ملتا اور نہ ہی ان کا رشتہ کوئی قبول کرتا ہے۔اس طرح وہ ایک مسلمان معاشرے میں اچھوت ہو کر رہ جاتے ہیں۔انہیں وہ معاشرتی تحفظ اور قدر و منزلت بھی میسر نہیں آتی جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں۔ چنانچہ پھر ان کے بیٹے بیٹیاں بھی رشتوں کے انتظار میں عمر گزار دیتے ہیں۔ البتہ مالی طور پر مضبوط گھرانوں کے نو مسلم اس قسم کے مسائل سے دوچار نہیں ہوتے ہیں، جس قسم کے مسائل سے غریب و نادار اور سماجی طور پر کم حیثیت گھرانوں کے نو مسلم ہوتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ وطن عزیز میں نو مسلموں کی کسی بھی طرح مدد کرنے کے لیے کوئی اجتماعی نظام ( ہمارے علم میں) موجود نہیں ہے، نہ ہی مشرف بہ اسلام ہونے والوں سے خود عام مسلمانوں کا سلوک بہت اچھا ہوتا ہے۔ جس طرح زندگی کے دیگر میدانوں میں قوم مسلم میں نظم و ضبط، منصوبہ بندی اور تنظیم کا فقدان ہے، اسی طرح اسلامی معاشرہ میں داخل ہونے والے افراد کے لیے بھی ان کے پاس کوئی نظم نہیں ہے۔ وقتی جوش و خروش کا مظاہرہ تو وہ کرلیتے ہیں، لیکن کسی قسم کی طویل المیعاد منصوبہ بندی اور نظم کا فقدان ہی رہتا ہے۔
   اس صورت حال کی وجہ اسلام اور اس کی تعلیمات نہیں بلکہ ہمارا معاشرتی رویہ ہے جو خود اپنی جگہ طبقاتی اونچ نیچ اور برادری ازم کے احساس برتری کا شکار ہے۔ یہی رویہ جب کسی نو مسلم کو درپیش ہوتا ہے تو اس کے لیےاس کا عذاب ڈبل ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ وہ پہلے ہی اپنی برادری سے کٹ چکا ہوتا ہے، نئی برادری اسے قبول نہیں کرتی اور معاشرتی قدر و منزلت اور نئی رشتہ داریوں سے محرومی کے ساتھ اگر روزگار کا مسئلہ بھی شامل ہو جائے تو اس فرد یا خاندان کی زندگی کسی عذاب سے کم نہیں ہوتی۔
      انسان ایک سماجی حیوان ہے، اسے زندگی میں ہر رشتہ کی حاجت ہوتی ہے، ہم تصور کریں کہ اگر ہم میں سے کسی کا ایک رشتہ دار نہ ہو توساری زندگی کسک محسوس ہوتی ہے، مثلاً بڑی بہن توہے،چھوٹی بہن نہیں ہے، خالہ نہیں ہے، پھوپھی نہیں ہے، ایک رشتہ نہ ہو تو ساری زندگی حسرت رہتی ہے کہ اس رشتہ والا کوئی مجھے میسر نہیں۔ ایک نو مسلم مہاجر جب سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مسلم سماج میں آتا ہے، تو اسے کتنی تالیف قلب کی ضرورت ہوتی ہے، ہم اس کا اپنے عیش وآرام اور اہل خاندان میں رہ کر اندازہ نہیں کر سکتے، ہم لوگ زیادہ سے زیادہ یہ کرتے ہیں کہ ابتدائی طور پر کچھ پیسے اس کو بھیک میں دے دیتے ہیں، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب پہلی مرتبہ کسی نومسلم کو ضروریات زندگی کے لئے کوئی رقم دی جاتی ہے، تو وہ رونے لگتا ہے کہ مجھے لوگ ضرورت مند سمجھتے ہیں، مگر زندگی کی ضروریات کی وجہ سے دوبارہ اسے کسی سے کہنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے اور رفتہ رفتہ اس کا ضمیر اس کی مجبوری کے تلے دب جاتا ہے اور وہ در در مانگنے لگتا ہے، اور زندگی کے مسائل سےجوجھتے رہنے کی وجہ سے، اپنی دینی اور تعلیمی ترقی سے محروم ہوجاتا ہے، بعض مرتبہ ان کو جماعت میں بھی روانہ کردیا جاتا ہے لیکن مناسب امیر کے نہ ملنے یا غیر تربیت یافتہ نئے ساتھیوں کی وجہ سے اسے بہت کچھ سہنا پڑتاہے۔
    سوال یہ ہے کہ ایسے نومسلم حضرات کے مسائل کا حل کیا ہے، کونسی تدبیر اختیار کی جائے جس کے نتیجے میں وہ مسلم سماج کا حصہ بن سکیں،ان کے مسائل حل ہوسکیں اور عام مسلمان ان کا یا ان کے بچوں اور بچیوں کا رشتہ نکاح قبول کرنے لگیں۔
     ان نومسلم مہاجروں کے تربیتی، معاشرتی، خصوصا رشتہ نکاح اور اقتصادی مسائل کا حل جب ہم سیرت نبویﷺکی روشنی میں تلاش کرتے ہیں تو اس کا ایک مکمل اور آسان ترین حل ہمیں ’’اسلامی مواخات ‘‘(بھائی چارہ) ملتا ہے، جو اس زمانہ میں متروک سنت ہو گئی ہے۔ یہ اس مسئلہ کا ایک پائیدار، مکمل اور آسان ترین حل ہے۔
     سوچئے! کسی بین الاقوامی ایسی تنظیم کے پاس، جس کو بڑے اہل خیر بلکہ حکومت کی سرپرستی حاصل ہو، اگر پانچ سو مہاجر افراد اچانک آجائیں تو وہ ان کی تربیت، شادی بیاہ، اور کاروبار کے مسائل کے لئے جوجھ جائے گی، مگر یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا، اس کے برخلاف سیرت نبویﷺکی روشنی میں مواخات کی متروکہ سنت کو زندہ کر کے صرف ہندوستان میں، ایک کروڑ مہاجرین ہمارے یہاں ہجرت کر کے آجائیں،اور ایک کروڑ مسلمانوں سے ان کی مواخات قائم کر کے اس مسئلہ کو چٹکیوں میں حل کیا جاسکتا ہے، ایک مہاجر بھائی کو ایک مسلمان کا بھائی، بیٹا بنا کر اس کی تربیت، اس کے نکاح اور اس کے کاروبار کا مسئلہ حل کرنا بہت آسان ہے، کسی کے چار بیٹے ہیں،اگر وہ ایک مہاجر کو اپنا بیٹا بنا کر چار کے بجائے پانچ بیٹوں کی پرورش، تربیت اور شادیاں کردے اور ان کو اپنے پیروں پر کھڑے کرکے ان کا مسئلہ حل کرنا چاہے تو بغیر کسی بڑے بوجھ کے یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔ اس طرح ایک کروڑ لوگ ایک دو سال میں پرانے مسلمانوں سے اچھے مسلمان بن کر اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر اپنے گھر والوں کےلئے ہدایت کا ذریعہ بننے کے اہل ہوسکتے ہیں اور پھر یہ ایک کروڑ چند سالوں میں دوسرے کئی کروڑ کے ساتھ مواخات کےلئے تیار ہوسکتے ہیں۔
    داعی حضرات کا تجربہ شاہد ہےکہ اگر اسلام قبول کرنے والا مہاجر نومسلم تربیت کے ساتھ اقتصادی اور معاشرتی طور پر سیٹ ہو جائے، اس کے پاس ایسا نظم ہو کہ وہ اپنے گھر والوں، خاندان والوں یا عزیزوں کو اپنے گھر چند روز مہمان رکھ سکے تو رفتہ رفتہ اس کے اہل خانہ، بھائی بہن، ماں باپ بھی اسلام کے سائے میں آجاتے ہیں، اس کے برخلاف اگر وہ در در پھرتا رہے اور اپنی ضروریات کے لئے سوال کرتا پھرے،کوئی اس کا یا اس کی اولاد کا رشتہ نکاح قبول کرنے کے لیے آمادہ نہ ہو تو پھر وہ دوسروں کو دعوت دینےکی ہمت تو کیا کرے،خود آنے والوں کے لئے رکاوٹ بن جاتا ہے۔
    جو خاندانی مسلمان گھرانہ کسی مہاجر بھائی یا بہن کو اسلامی مواخات کی سنت کے تحت قبول کرتا ہے، اس کے رشتہ نکاح کی فکر کرتا ہے یا اس کی سرپرستی قبول کرتا ہے تو اگر نووارد دین دار نہ بھی ہو تو بتدریج اپنے شریک حیات کے ساتھ زندگی گزارتے گزارتے صحبت کی برکت سے دین دار ہوجاتا ہے، ایسی سینکڑوں مثالیں قریبی زمانےمیں سامنے آتی رہی ہیں۔ 
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ نومسلم کے رشتہ نکاح کے سلسلے میں بھی علماءوائمہ، داعی افراد اور معاشرے کے سنجیدہ اور سرپرست حضرات نیز فلاحی تنظیموں کو جدوجہد کرنی چاہئے اور ان کی مدد کے لیے ایک مستحکم، مضبوط اور مربوط نظام قائم کرنا چاہیے، تاکہ ان کی رہائش، معاش اور نکاح کے مسائل حل ہوسکیں۔ عام لوگ جب دیکھیں گے کہ فلاں نومسلم( مردوعورت) روزگار سے منسلک ہے اور اس کو فلاں خاندان یا فلاں صاحب کی سرپرستی حاصل ہے تو وہ بھی ان کا یا ان کی اولاد رشتہ نکاح قبول کرنے لئے آمادہ ہوجائیں گے۔باذن اللہ!
     یقینا اس زمانے میں کسی نومسلم کو پناہ دینا،اور اس کے رشتہ نکاح کو قبول کرلینا بڑے حوصلہ بات ہے اور اجر عظیم کے ملنے کا ذریعہ ہے۔
٭…٭…٭

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے