Ticker

6/recent/ticker-posts

بچوں کا نام رکھنا

بچوں کا نام رکھنے سے متعلق اسلامی ہدایات اور غلط فہمیاں
تحریر: مفتی محمد عامر یاسین ملی
8446393682

     قارئین! گزشتہ روز مندرجہ ذیل مزاحیہ تحریر نظر سے گزری، آپ بھی ملاحظہ فرمائیں اور مسکرائیں!
    ایک ڈاکٹر صاحب ایک غریب بستی میں کلینک چلاتے تھے۔ ایک خاتون ان کے کلینک میں آئی ۔ ڈآکٹر صاحب نے پوچھا کیا مسئلہ ہے؟ کہنے لگی ڈاکٹر صاحب میرا ایمان بڑا کمزور ہے۔ 
ڈاکٹر صاحب بڑے حیران ہوئے کہ اس خاتون کو تو کسی عالم دین کے پاس جانا چاہیے،میرے پاس کیوں آئی ہے؟ 
پھر خاتون نے کہا کہ میں دودھ بھی دیتی ہوں اور انڈے بھی۔
 ڈاکٹر صاحب مزید حیران ہوئے یہ کونسا معاملہ ہے کہ انڈے بھی دیتی ہے؟ 
   اسی دوران اس خاتون نے اپنے دیڑھ سال کے بچے "ایمان "کو آگے کیا اور کہنے لگی ڈاکٹر صاحب دودھ اور انڈے دینے کہ باوجود میرا ایمان اتنا کمزور کیوں ہے؟

    قارئین! مذکورہ واقعہ مزاحیہ ہونے کے ساتھ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ آج بھی بہت سارے مسلمان بچوں کا نام رکھنے سے متعلق اسلامی ہدایات سے ناواقف ہیں۔ راقم سے بہت سارے افراد نام کے سلسلے میں رابطہ کرتے ہیں تو بعض لوگ یہ وضاحت بھی ضرور کرتے ہیں کہ بچہ فلاں دن اور فلاں وقت پیدا ہوا، اسی طرح یہ بھی بتاتے ہیں کہ بچہ کے والدین کا کیا نام ہے تاکہ اس لحاظ سے بچہ کا نام تجویز کیا جائے۔ حالانکہ بچہ کے نام کا مذکورہ چیزوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ، البتہ ناموں کے سلسلے میں دو اہم باتوں کی رعایت ضروری ہے:
(1)نام کی نسبت اچھی ہویعنی انبیاء کرام علیہم السلام صحابہ و صحابیات اور بزرگان دین کےناموں میں سےانتخاب کرکے اپنے بچوں کا نام رکھا جائے۔
(2)نام کے معنی اچھے ہوں۔ 
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناموں کے سلسلے میں بڑی اہم ہدایات ارشاد فرمائی ہیں، ارشاد گرامی ہے:
    (1)  قیامت کے دن تم اپنے اوراپنے باپ دادا کے ناموں سے پکارے جاؤگے لہٰذا اچھے نام رکھاکرو ۔‘‘( مسند احمد)۔
 (2)   باپ پر بچہ کا یہ بھی حق ہے کہ اس کا نام اچھا رکھے اوراس کو حسنِ ادب سے آراستہ کرے۔( بیہقی)۔
 (3)  انبیاء کے ناموں پراپنے نام رکھو اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین نام عبداللہ و عبدالرحمن ہیں اور سب ناموں سے سچے نام حارث وہمام ہیں اور سب سے بُرے نام حرب اورمُرہ ہیں۔‘‘(ابوداؤد)

   قارئین! ناموں کے سلسلے میں یہ کوشش کرنا کہ نام بالکل نیا ہو ، یا ٹی وی سیریل اور نام کی کسی بھی کتاب میں سے کوئی بھی نام سن کر اور دیکھ کر پسند کرلینا مناسب نہیں ہے۔ مسلم معاشرہ میں جو غیراسلامی ناموں کا رواج بڑھتا جارہا ہے اور دینی وعلمی مزاج میں کمی آرہی ہے یہ فکرمندی کی بات ہے ۔ اس لئے کہ نام صرف انسان کی پہچان نہیں بلکہ مذہبی شناخت کا ذریعہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ بغیر تحقیق کئے اوٹ پٹانگ نام رکھنے کے بجائے انبیائے کرام علیہم السلام، ازواج مطہرات صحابۂ کرام و صحابیات رضی اللہ عنھم اورحضراتِ تابعین رحمھم اللہ، نیز اہل علم وفضل کے ناموں کا انتخاب کریں اور یہ نیت کریں کہ اللہ پاک ان نیک اور برگزیدہ انسانوں کی خوبیاں ہمارے بچوں میں بھی پیدا فرمائے۔ اگر لاعلمی میں کسی بچے کا غلط نام رکھ دیا جائے تو بعد میں اس کو بدل کر اچھا نام رکھ دینا چاہیے۔یہ بھی آپﷺ کا طریقہ ہے۔ اس لئے کہ نام کے اثرات بچے پر مرتب ہوتے ہیں۔
    حضرت عبد الحمید ابن جبیر ابن شیبہ کہتے کہ (ایک دن ) میں حضرت سعید ابن المسیب کی خدمت میں حاضر تھا، انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی کہ میرے دادا جن کا نام حزن تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پو چھا تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے کہا میرانام حزن( جس کے معنٰی ہیں سخت اور دشوار گزارزمین) ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ: (حزن کوئی اچھا نام نہیں ہے ) بلکہ میں تمہارا نام سہل ( اس کے معنی ہیں ملا ئم اور ہموار زمین، جہاں آدمی کو آرام ملے) رکھتا ہوں ۔ میرے دادا نے کہا کہ میرے باپ نے میرا جو نام رکھا ہے اب میں اس کو بدل نہیں سکتا ۔حضرت سعید ؓ نے فر ما یا کہ: اس کے بعد سے ہمارے خاندان میں ہمیشہ سختی رہی۔۔                    ( ابوداؤد)
                      *-*-*-*-*

ایک تبصرہ شائع کریں

2 تبصرے