Ticker

6/recent/ticker-posts

ایک مسئلہ کا حل

قرآن کریم اور دینی اخبارات و کتابوں کے 
پھٹے اور بوسیدہ اوراق کہاں رکھیں؟؟

از: مفتی محمد عامر یاسین ملی 

       قرآن کریم ہمارے لئے ہدایت اور رہنمائی کا ذریعہ ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر گھر میں قرآن مجید کے متعدد نسخے موجود ہوتے ہیں، اسی طرح دینی و علمی کتابیں اصلاحی  و فکری رسالے اور اخبارات ہماری اصلاح و تربیت ،علم میں اضافے اور حالات حاضرہ سے واقفیت کا ذریعہ ہیں، جنہیں ہم رقم خرچ کر کے شوق سے خریدتے ہیں اور ان کا مطالعہ کرکے اپنی علمی پیاس بجھاتے ہیں،اس طرح آہستہ آہستہ ہمارے پاس کتابوں ،رسائل اور اخبارات کا اچھا خاصہ ذخیرہ جمع ہوجاتا ہے، اور پھر ایک عرصہ کے بعد اوراق پھٹ جاتے ہیں یا بوسیدہ ہوکر ناقابل مطالعہ ہوجاتے ہیں۔ بعض مرتبہ جگہ کی تنگی کے سبب انہیں سنبھال کر رکھنا اور بے ادبی سے بچانا دشوار ہوجاتا ہے۔
ایسی صورتحال سے پریشان ہوکر اور بے ادبی کے اندیشے سے بعض حضرات دینی کتابیں اور اخبارات و رسائل خریدنا بند کردیتے ہیں،اور اس طرح دینی تعلیمات و مضامین اور شرعی احکامات و قوانین سے واقفیت کا سلسلہ بھی ختم ہوجاتا ہے ۔ ذرائع ابلاغ عام ہوجانے کے سبب باطل بڑی آسانی سے اپنا گمراہ کن پیغام اور پروپیگنڈہ ہم تک پہنچا رہا ہے۔جس کے اثرات سے بچنے کاطریقہ یہی ہے کہ ہم قرآن کریم کی تلاوت اور اس کو سمجھنے کی کوشش کریں ،اسی کے ساتھ دینی کتابوں اور علمی وفکری اخبارات ورسائل کا مطالعہ کرتے رہیں تا کہ حق بات سے ہم واقف ہو سکیں۔ رہا مسئلہ قرآن کریم اور دینی اخبارات و کتابوں کی حفاظت اور ان کے پھٹے اور بوسیدہ اوراق کا تو ان کے سلسلے میں مندرجہ ذیل تجاویز پر عمل کریں:

(1)اپنے گھر میں ایک حصہ لائبریری کے لئے مختص کرلیں،خواہ وہ ایک الماری ہی کی شکل میں کیوں نہ ہو، اس حصے میں مرتب انداز میں اپنی کتابیں اور اخبارات و رسائل کو رکھیں۔

(2)رسائل و اخبارات کو سالانہ اعتبار سے مجلد کر کے محفوظ کرلیںتاکہ ہمارے بعد ہمارے بچے اور گھر کے دیگر افراد اس علمی ذخیرے سے استفادہ کرتے رہیں۔

(3)مطالعہ کرنے کے بعد کتابیں اور اخبارات ورسائل ان لوگوں کو ہدیہ کردیں جو پڑھنے کا ذوق رکھتے ہیں۔یہ ہمارے لئے اجر وثواب کا باعث ہوگا۔

(4)اپنے علاقے کی کسی دینی و علمی درسگاہ یا عوامی لائبریری میں لے جاکر جمع کردیں تاکہ طلبہ اور عام لوگ ان سے استفادہ کرسکیں۔  

(5)کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر زمین کے اس حصے میں گڑھا کھود کر دفن کردیں جہاں آمد و رفت نہ ہوتی۔

(6)ایسی کتابیں اور دینی اخبارات و رسائل جو بوسیدہ ہوکر ناقابل مطالعہ ہوچکے ہوں انہیں ردی میں ڈالنے کے بجائے کسی پاک کپڑے میں اچھی طرح باندھ کر کسی ندی، دریا یا سمندر میں ڈال دیں۔

    شہر مالیگاؤں میں برسوں سے یہ نظام قائم ہے کہ اہلیان شہر کے علاوہ پورے مہاراشٹر کے مختلف شہروں اور علاقوں سے لوگ قرآن کریم اور دینی کتابوں اور اخبارات و رسائل کے بوسیدہ اور پھٹے پرانے اوراق تھیلے میں پیک کرکے بڑے قبرستان کے جنازہ ہال میں لے جاکر جمع کردیتے ہیں اور پھر مولانا عبدالرحمن ولد مولانا عبد الباری صاحب اور ان کے معاون احباب کی جانب سے ان کو ایک گودام میں جمع کرکے چھانٹنے اور اچھے انداز میں پیک کرنے کے بعد بذریعہ ٹرک گلبرگہ (کرناٹک) لے جاکر ایک مخصوص قبرستان میں دفن کر دیاجاتا ہے۔ یہ ایک بڑی اور اپنے آپ میں انفرادی دینی خدمت ہے، اور لائق اجر بھی ! اگر ہر علاقے میں کوئی دینی و فلاحی تنظیم یا اصحاب خیر اسی طرح اس کام کا ذمہ لے لیں تو بہت سارے افراد کی دشواری حل ہوجائے گی۔واضح ہو کہ دینی کتابوں اور اخبارات و رسائل کو گھر کے کسی بھی حصے میں بے توجہی کے ساتھ ڈال دینا یا ردی والے کو بیچ دینا یا اپنے روزمرہ کے کاموں میں استعمال کرنا درست نہیں ہے ۔لہٰذا مذکورہ بالا طریقوں پر عمل کریں اور دوسروں کو بھی ان سے واقف کرائیں ۔   

نوٹ: اوپر دی گئی تصویر مالیگاؤں کے بڑا قبرستان کے جنازہ ہال کی ہے جہاں ایک گوشے میں دینی کتابوں اور سیپاروں کے بوسیدہ نسخے اور پھٹے اوراق جمع کئے گئے ہیں۔
٭٭٭

ایک تبصرہ شائع کریں

2 تبصرے