Ticker

6/recent/ticker-posts

لڑکیوں کا قرآن پاک حفظ کرنا

لڑکیوں کا قرآن پاک حفظ کرنا مبارک عمل

   تحریر: مفتی محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں
8446393682

    قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا مقدس کلام ہے، اور نبی کریم ﷺ کا سب سے بڑااور زندہ معجزہ ہے، دیگر تمام مذاہب کے ماننے والوں کے مقابلے میں مسلمانوں کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ اپنی مذہبی کتاب کی تلاوت اور اس کوحفظ کرنے کااہتمام کرتے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی مذہب کے پیروکاراپنی مذہبی کتاب کو مکمل طور پر حفظ کرنے یا پڑھنے اور سننے کا ایسا اہتمام نہیں کرتے، مسلمانوں میں عہد نبوی سے یہ معمول رہا ہے کہ وہ قرآن کریم کواپنے سینوں میں محفوظ کرتے آئے ہیں،ہر زمانے اور ہر علاقہ میں مسلمانوں میں ایسے مردو خواتین کی ایک بڑی تعداد موجودرہی ہے جنہوں نے پوراقرآن حفظ کر کے اسے اپنے سینوں میں محفوظ کر لیا۔ قرآن حفظ کرنے والوں میں مرد تو شامل ہیں ہی عورتیں بھی اس سعادت کے حصول میں پیچھے نہیں رہی ہیں ۔ چنانچہ عہد نبوی میں خودازواج مطہرات میں سے حضرت عائشہ ،حضرت ام سلمہ، اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہن پورے قرآن کی حافظہ تھیں۔
عہد نبوی کے بعد بھی ہر دور میں قرآن پاک حفظ کرنے والی خواتین کی اچھی خاصی تعداد موجود رہی ہے، یہاں تک کہ موجودہ زمانے میں ( جب کہ ) لڑکیوں کی دینی تعلیم سےزیادہ ان کی عصری تعلیم پرتوجہ دی جاتی ہے۔ )ایسے خوش نصیب والدین ملتے ہیں جو اپنی بیٹیوں کی دینی تعلیم وتربیت کی فکر کرتے ہیں اورانہیں مدارس نسواں میں داخل کرکے عالمہ اورحافظہ بننے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔شہر عزیز مالیگاؤں میں ایسے دسیوں بڑے مدارس اوردرجنوں مکاتب جاری ہیں جہاں بڑی تعداد میں مسلمان بچیاں قرآن پاک کاحفظ کرنے میں مشغول ہیں۔ہر سال ان مدارس و مکاتب سے اچھی خاصی تعداد میں حافظات اور عالمات فارغ ہوتی ہیں۔ گزشتہ ماہ جامعہ ام القری( واقع اسلام پورہ، مالیگاؤں)سے 25؍طالبات نے تکمیل حفظ قرآن کریم کی سند حاصل کی۔اسی طرح 11؍اکتوبر پیرکے روزبعد نمازعشاء مدرسہ اقصیٰ للبنات( واقع نیا اسلام پورہ، مالیگاؤں) میں بھی ایک جلسہ تکمیل حفظ قرآن کے عنوان سے منعقد ہوا۔جس میں سات خوش نصیب طالبات نے تکمیل حفط قرآن کی سعادت حاصل کی، اس موقع پر حضرت مولانا مفتی محمدحسنین محفوظ نعمانی صاحب (قاضی شریعت دارالقضاء مالیگاؤں)نے’’خواتین کے حفظ قرآن‘‘ کے موضوع پر علمی خطاب فرمایا، انہوں نے سات طالبات کے حفظ قرآن مکمل کر لینے کوبڑی سعادت اور خوش نصیبی قرار دیتے ہوئے اس پراپنی مسرت کا اظہار کیااور کہا کہ ملک کے موجود ہ حالات میں جب کہ مختلف علاقوں سے مسلم لڑکیوں کے ارتداد کی خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں۔ جن کو سن کر دل افسردہ ہوجاتاہے، ان سات طالبات کے پوراقرآن حفظ کر لینے سے دل خوشی سے سرشار ہے۔ موصو ف نے یہ بھی کہا کہ جب کوئی مسلمان لڑکی کوئی غلط قدم اٹھاتی ہے تووہ اپنے والدین اور گھر کے لوگوں کو رسوا کردیتی ہے۔ لیکن ان ساتوں طالبات نے قرآن پاک حفظ کر کےیہ ثابت کردیا ہے کہ وہ اپنے والدین کی نیک نامی کاذریعہ بنیں گی دنیا میں بھی اورآخرت میں بھی!
واضح ہو کہ مدرسہ اقصیٰ للبنات شہر مالیگاؤں کےشمالی علاقے کا ایک معروف دینی ادارہ ہے جو اس عاجز کی نگرانی میں گزشتہ سات برسوں سے جاری ہے،اس ادارے میں دو سو سے زائد طالبات زیر تعلیم ہیں۔یہ ادارہ 2014ء میں قائم ہوا۔اس ادارے میں کل آٹھ معلمات تدریسی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اب تک اس ادارے سے 25؍طالبات تکمیل حفظ قرآن کا شرف حاصل کر چکی ہیں۔ 
یہ ادارہ نیا اسلام پورہ اور اطراف کی بستیوں میں علم دین کی شمع روشن کیے ہوئے ہے اورخاموشی کے ساتھ دینی وعلمی خدمات انجام دے رہاہے۔ مدرسہ کی معلمات محنت اور لگن کے ساتھ لڑکیوں کو زیور علم سے آراستہ کرنے میں مشغول ہوں ۔تکمیل حفظ قرآن کے پروگرام میں جہاں تمام ساتوں طالبات کواسناد اور انعامات سے نوازا گیاوہیں تمام معلمات اورمدرسہ کے ذمہ داران حاجی نہال اختر صاحب اورحاجی افضال صاحب کا بھی اعزاز کیا گیا۔
     ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے دینی اداروں کو مزید مستحکم کیاجائے ، ان اداروں میں اپنی خدمات انجام دینے والے افراد کی حوصلہ افزائی کی جائے اور اداروں کی کارکردگی کو بڑے پیمانے پر پھیلایا جائے ۔ اس لیے کہ یہی وہ دینی ادارے ہیں جوکفر و ارتداد کی آندھیوں میں ایمان کی شمع روشن کیےہوئے ہیں۔
        ******

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے