The secret of a happy married life
از قلم: مفتی محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں
8446393682
معروف اردو اخبار روزنامہ انقلاب ممبئی میں گزشتہ سال ایک بزرگ جوڑے کی تصویر شائع ہوئی تھی، جس کے ساتھ یہ سرخی لگی ہوئی تھی:
" گنیز ورلڈ ریکارڈ کے مطابق یہ دنیا کا سب سے طویل عمر شادی شدہ جوڑاہے"۔
یہ بھی لکھا تھا کہ اس جوڑے کی مجموعی عمر 211 سال ہے ، شوہرجان ہینڈرسن کی عمر 106سال اور بیوی چارلوٹ ہینڈریسن کی عمر 105/ سال ہے۔ دونوں کی شادی 1939 میں ہوئی تھی اور گزشتہ ماہ دسمبر میں یہ میاں بیوی اپنی شادی کی 81 ویں سالگرہ منانے والے تھے، تصویر میں دونوں انتہائی خوش اور مطمئن نظر آرہے تھے جس سے اندازہ ہوا کہ ان کی گزشتہ 81 سالہ ازدواجی زندگی بھی خوشگوار رہی ہوگی۔ مجھے اس جوڑے کی اس طویل رفاقت پر جتنا تعجب ہوا، اس سے کہیں زیادہ تعجب ہوا ان مسلمان مردوں اور عورتوں پر ہوا جو رشتہ ازدواج سے منسلک ہونے کے چند ہفتوں اور مہینوں کے بعد ہی اپنی اپنی راہ الگ کرلیتے ہیں، آج معاشرے میں ایسے جوڑوں کی خاصی تعداد پائی جاتی ہے، جو معمولی معمولی باتوں کی وجہ سے مہینوں اور سالوں سے ایک دوسرے سے دور رہ کر زندگی گزار رہے ہیں، بیوی اپنے مائیکے میں ہے اور شوہر اپنے گھر میں اکیلا ہے، دونوں کے والدین ،سرپرستوں اور سماج کے ذمہ داروں کو بھی ان کے الجھے ہوئے مسئلے کو سلجھانے کی کوئی خاص فکر نہیں ہے۔
بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ زوجین اپنے گزشتہ اختلافات کو ختم کرکے نئے سرے سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں،لیکن ان کے سرپرست اسے اپنی انا اور ناک کا مسئلہ بنا لیتے ہیں، چنانچہ لڑکی کے والدین کسی قیمت پر اس کو سسرال بھیجنے کے لیے راضی نہیں ہوتے، اسی طرح لڑکے کے والدین بھی کسی صورت میں اپنی بہو کو بلانے پر آمادہ نہیں ہوتے ۔
ایک ایسا ہی مقدمہ ایک جگہ دارالقضاء میں دائر ہوا، پیشی کے دوران ان قاضی صاحب نے زوجین کی رضامندی معلوم کی تو انہوں نے ایک ساتھ رہنے کی خواہش کا اظہار کیا، لیکن وہاں موجود لڑکے کے والد اس بات کے لئے بالکل آمادہ نہیں تھے، ان کا جملہ ملاحظہ کیجئے:
" قاضی صاحب ! مجھے اس لڑکی ( بہو) کو اپنے گھر میں رکھنا ہی نہیں ہے ۔"
قارئیں! غور کیجئے کہ رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار شوہر کو ہے یا سسر کو ؟ یہی حال ناراض ساس کا بھی ہوتا ہے جو اپنے گھر میں بہو کی موجودگی برداشت نہیں کرتی۔ اسی طرح لڑکی کے والدین بھی بیٹی کو رخصت کرنے میں نادانی اور بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور عجیب و غریب شرط لگاتے ہیں۔
یہ تو نوجوان نسل کے آپسی اختلاف اور ان کے سرپرستوں کا حال ہے ، دوسری جانب بہت سارے عمررسیدہ اور بزرگ جوڑے بھی ایسے ہیں جو بھرے پرے خاندان کے سربراہ ہیں اور ایک ہی گھر میں رہتے ہیں، اس کے باوجود برسوں سے ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کرتے۔
ایسے تمام مردوں اور عورتوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ نکاح کے بعد بغیر کسی شرعی عذر کے شوہر اور بیوی کا ایک دوسرے سے علیحدہ رہنا شرعاً گناہ ہے اور اخلاقی لحاظ سے انتہائی نقصان دہ بھی! جب تک زوجین ایک دوسرے سے علیحدہ رہتے ہیں، ایک دوسرے کی حق تلفی اور ظلم کا گناہ ان کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا رہتا ہے۔شریعت میں ازدواجی زندگی سے متعلق دو راستے بتائے گئے ہیں:
پہلا یہ کہ اچھے طریقے پر ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ میاں بیوی زندگی بسر کریں۔
دوسرا یہ کہ اگر ان کے درمیان نباہ ممکن نہ ہو تو پھر بھلے انداز میں ایک دوسرے سے علیحدہ ہوجائیں، کوئی بھی تیسری شکل ، خواہ ایک ساتھ رہ کر ایک دوسرے پر زیادتی کرنا ہو یا اختلاف اور ناراضگی کے سبب ایک دوسرے سے منہ موڑ کر الگ رہنا ہو، گناہ لازم کرنے والی ہے۔
اوپر ذکر کردہ انگریز جوڑے کے مختصر حالات جب نظر سے گزرے تو دل یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ شریعت اسلامیہ کے عطا کردہ خوشگوارازدواجی زندگی کے مثالی اصولوں سے ناواقف یہ انگریز جوڑا گذشتہ 81 سالوں سے خوش و خرم زندگی گزار رہا ہے اور وہ قوم جس کے پاس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشگوار ازدواجی زندگی کی شکل میں بہترین نمونہ موجود ہے، اس کے باوجود نہ معلوم کتنے مرد اور عورتیں خوشگوار ازدواجی زندگی کی نعمت سے محروم ہیں، صرف اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت کی وجہ سے یا پھر ضد، انانیت اور تکبر کے نتیجے میں!! فیااسفاہ ویاعجباہ!
نوٹ : اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو آئندہ ہم خوشگوار ازدواجی زندگی کے رہنما اصول کے عنوان پر بھی اپنے اس بلاگ میں مضمون لکھیں گے ۔
*-*-*
1 تبصرے
خوب
جواب دیںحذف کریں💐