خدا اور اس کے رسول پوچھیں گے
امت پریشان تھی اور تم کرکٹ دیکھنے میں اپنا وقت اور مال برباد کررہے تھے !!!
از: مفتی محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں
(8446393682)
گزشتہ دنوں کرکٹ کے ایک سیزن ( آئی پی ایل) کا اختتام ہوا اور اب خبر ہے کہ دوسرے سیزن(ٹوئنٹی ورلڈکپ) کا آغاز ہونے والا ہے، کرکٹ کے مقابلے دیکھنے میں مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اس طرح مشغول ہوتا ہے ، گویا فی الوقت اس سے اہم کوئی دوسرا کام نہ ہو۔ تعلیم یافتہ اور بے پڑھے لکھے، امیر اور غریب، دیندار اور بے دین یہاں تک کہ مرد اور عورتیں، کرکٹ کے بخار میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنے مسائل سے بے پرواہ ہوکر وقت اور مال ضائع کرتے ہیں۔یہ مسلم معاشرے کی وہ تلخ حقیقت اور ناپسندیدہ اور لائق صد افسوس تصویر ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ :
(۱) آج بھی امت مسلمہ کی بڑی تعداد کو اپنے مسائل اور پریشانیوں کا نہ پوری طرح اندازہ ہے نہ ان کے حل کی کوئی خاص فکر ہے۔
(۲) مسلم معاشرہ خصوصاً ہمارا نوجوان طبقہ بری طرح مغربی سازشوں کا شکار ہے اور اسلام دشمن طاقتوں کا آلۂ کار بنا ہوا ہے۔
(۳) سرپرستوں سے لے کر قوم و ملت کے ذمہ دار افراد تک ، تقریبا سبھی نے گویا ٹی وی ،انٹر نیٹ،موبائل اور کرکٹ جیسے فضول مشغلوں کے طوفان کے آگے اپنے ہتھیار ڈال دئیے ہیں، اور اس سلسلے میں اصلاح سے گویا مایوس ہوچکے ہیں۔ لہذا اب اس پر سختی کے ساتھ نکیر بھی نہیں کی جاتی۔
کاش! قوم مسلم کو کوئی یہ بات سمجھا دے کہ :
(۱) جتنا وقت وہ کرکٹ اور فضول کاموں میں صرف کررہی ہے، اس کا دسواں حصہ بھی اگر دین کے لئے خرچ کردے تو وہ اللہ کی مدد کی حقدار بن جائے ۔
(۲) جتنا مال اور وقت کرکٹ دیکھنے میں ضائع اور برباد ہورہا ہے اگر اس کا ایک تہائی حصہ غزہ،عراق،افغانستان،مصر،شام،لیبیا اور دنیا کے بیشتر غریب ملکوں کے مجبور اور لاچار مسلمانوں پر خرچ کردیاجائے تو انہیں جینے کا حوصلہ مل جائے ۔
(۳) جتنی محبت کرکٹ اور کھلاڑیوں سے ،فلمی اداکاروں سے ہے اگر اس کا دس فیصد بھی اسلام سے ہوجائے تو امت مسلمہ مظلومہ اس طرح لہو لہان نہ ہو۔
یہ سب کچھ ممکن ہے ، شرط یہ ہے کہ اپنی تباہی کا احساس اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی سچی امنگ اور تڑپ دل میں موجود ہوورنہ:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہوجس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
یاد رکھئے! حضور نبی کریمﷺنے ایمان والوں کی شان اور ان کے اسلام کی خوبی یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ فضول اور لایعنی کاموں کو چھوڑ دیتے ہیں ۔اللہ پاک نے بھی اپنے کلام پاک میں اپنے مقبول اور محبوب بندوں کی خوبی یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ لغو اور بیکار کاموں سے ہمیشہ دور رہتے ہیں ، اور موجودہ دور کا سب سے فضول اور لغو کام کرکٹ دیکھنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہودی قوم اور دنیا کا اقتدار سنبھالنے والے ممالک عموما اس کھیل سے دور رہتے ہیں۔ خدا کرے یہ بات ہماری سمجھ میں آجائے۔
علماء کرام، ائمہ مساجد اور قوم کے سرکردہ افراد سے گزارش ہے کہ اپنی قوم کو غفلت سے نکالنے اور اس کی صلاحیت اور دولت کو برباد ہونے سے بچانے کے لیے اگے آئیں اور لوگوں کو آگاہ کریں کہ قیامت کے دن اس وقت تک نجات نہیں ہوگی جب تک کہ خدا کی بارگاہ میں ہر شخص یہ جواب نہ دیدے کہ اس نے اپنی زندگی اور اپنا مال کن کاموں میں صرف کیا؟ کرکٹ کے شیدائی غور کریں کہ کیا ہم ان سوالوں کے صحیح جوابات دے سکیں گے ؟ سوچئے اور اچھی طرح سے غور کیجئے، کہیں دیر نہ ہوجائے !
٭…٭…٭
4 تبصرے
ماشاء اللہ بہت بہتر
جواب دیںحذف کریںاللہ تعالیٰ امت کے لیے اس تحریر کو نافع بنائے
بہت خوب
جواب دیںحذف کریںMasha allah
حذف کریںزبردست صحیح وقت پر بالکل صحیح مضمون
جواب دیںحذف کریں