Ticker

6/recent/ticker-posts

خانوادہ مولانا عبد الکریم ملی ، خدمت دین کی راہ پر

میں نے جو دیکھا
 گوا میں دارالافتاء اور کونسلنگ سینٹرکا قیام 
از: مفتی محمد عامر یاسین ملی
قارئین! ہم خدانخواستہ اگر بیمار ہوجائیں تو ڈاکٹر حضرات سے رجوع کرتے ہیں ،کوئی قانونی معلومات درکار ہوتو وکیل کے پاس جاتے ہیں ،گھر کی تعمیر کرنی ہوتو انجینئر حضرات کی خدمت لیتے ہیں ،لیکن افسوس جب کوئی دینی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو بہت سارے افراد علماء سے رجوع کے بجائے اپنے ذہن ودماغ سے اس مسئلے کا حل تجویز کرلیتے ہیں ۔ 
مذہب اسلام کی تعلیمات بے شمار ہیں ،اور اللہ نے شریعت اسلامیہ میں ہر مسئلے کا حل رکھا ہے ،لیکن ہر مسلمان دین کی تمام باتوں اور شرعی مسائل سے واقف ہو، ایسا ضروری نہیں ،اس لیے جو حضرات علم دین کے حامل ہیں (یعنی علماء کرام اور مفتیان عظام) جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ علم دین کے حصول میں صرف کیا ہے ،اور مسلسل محنت اور مشق کے ذریعے دینی علوم و فنون میں مہارت حاصل کی ہے ، شرعی معاملات اور مسائل کے سلسلے میں رہنمائی کی غرض سے ان سے رجوع کرنا چاہیے ۔ قرآن پاک میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ اگر تم نہیں جانتے تو جاننے والوں سے پوچھ لیا کرو۔ (انبیاء)
الحمدللہ! ہمارے شہر مالیگاؤں میں علماء کرام اور مفتیان عظام کی کثرت ہے ،شہر میں دسیوں مقامات پر دارالافتاء قائم ہیں ،جہاں حضرات مفتیان کرام عام مسلمانوں کی تحریری اور زبانی رہنمائی فرماتے ہیں ،اہلیان شہر کا بھی یہ مزاج ہے کہ وہ عقائد ، عبادات ،معاملات ،اور معاشرت و اخلاقیات سے متعلق کسی بھی مسئلے میں کوئی قدم اٹھانے سے پہلے علماء اور مفتیان سے رجوع کر کے شرعی رہنمائی حاصل کرتے ہیں ،اور حضرات علماء کرام اور مفتیان عظام کا بھی یہ احسان ہے کہ وہ رابطہ کرنے والے حضرات کو خوش دلی کے ساتھ بغیر کسی معاوضہ اور بدلے کے زبانی اور تحریری طور پر فتوی دیتے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر علاقے (جہاں مسلمان آباد ہیں) میں دارالافتاء قائم کیا جائے اور اس کے ذریعے لوگوں کی دینی اور شرعی رہنمائی کی جائے ۔
گزشتہ دنوں مڈ گاؤں (گوا) کا سفر ہوا ،جہاں معہد ملت کے ایک قدیم فاضل مولانا عبد الکریم ملی صاحب مع اہل خانہ مقیم ہیں ، موصوف شہر کے علمی اور کاروباری خانوادے (خانوادہ ٔ مرحوم اصغر سلیمان )سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے برادران میں معروف صحافی عبدالحلیم صدیقی صاحب،زبیر صدیقی(زیڈ ایلو مینیم)عبد الرحمن انجینئر،جناب عبد الغفار ، عبد الصمد عزیز ٹوراور مشہور سماجی خدمتگار عمر فاروق الخدمت ہیں۔مولانا عبدالکریم ملی صاحب معہد ملت کے بافیض عالم دین ہیں ،آج سے سترہ سال قبل (۲۰۱۰ء میں) مولانا عبد الکریم ملی صاحب نے دینی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوکر مع اہل خانہ گوا میں سکونت اختیار کی،تب سے آج تک وہ مختلف انداز میں وہاں دینی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔موصو ف نے گوا میں مکاتب کا جال بچھایا اور ایک عرصے تک شعبہ مکاتب کے ناظم رہے۔ ان کے اپنے مکان پر خواتین کے لیے ہفتہ وار دینی اجتماع اور درس قرآن کا انعقاد کیا جاتا ہے، جس میںان کی اہلیہ محترمہ درس قرآن اور خواتین کی تعلیم وتربیت کا فریضہ انجام دیتی ہیں،ماشا ء اللہ محترمہ جامعۃ الصالحات کی فیض یافتہ ہیں ۔اسی طرح مولانا کے مکان میں غریب طلبہ کے لیے مفت کوچنگ کلاس اور دینی تعلیم و تربیت کا بھی نظم ہے۔ مولانا موصوف خود بھی ایک جگہ درس قرآن کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ان کے دونوجوان بیٹے مفتی محمد زکریا قاسمی اور مولانا محمد معاذ قاسمی ہیں،جو دارالعلوم دیوبند کے فاضل ،باصلاحیت اور متحرک عالم دین ہیں ۔خانوادہ مولانا عبد الکریم ملی کے متعلق یہ کہنا بجاہوگا ’’ایں خانہ ہمہ آفتاب‘‘۔ 
 مفتی زکریاقاسمی صاحب نورانی مسجد( فونڈا گوا)میں امامت وخطابت کے فرائض انجام دیتے ہیں ،وہ وفاق العلماء گوا اور دینی تعلیمی بورڈ کے صدر ہیں،مختلف دینی اور اصلاحی سرگرمیوں میں دلچسپی سے حصہ لیتے ہیں ۔ ان کے برادر خورد مولانا محمد معاذ قاسمی مڈ گاؤں ضلع جمعیت علماء کے جنرل سکریٹری ہیں۔ ایک طویل عرصے سے مدرسہ جامعۃ المعارف میں تدریسی خدمت انجام دے رہے ہیں ،اسی طرح گوا کی مسجد ابرار سمیت دیگر مساجد میں قائم مکاتب کے ذمہ دار ہیں ،نیز ماریہ بان کے علاقے کی ایک عبادت گاہ میں امامت بھی کرتے ہیں ۔
 مفتی زکریا صاحب راقم الحروف سے انسیت اور محبت کا تعلق رکھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ان کی کوشش اور فکر کے نتیجے میں نورانی مسجد(فونڈا) میں دارالافتاء اور کونسلنگ سینٹرکا قیام عمل میں آیا ،جس کی افتتاحی نشست میں انہوں نے راقم کو خطاب کی غرض سے مدعو کیا ،ماشاء اللہ! افتتاحی پروگرام میں بڑی تعداد میں مرد حضرات اور خواتین نے شرکت کی ۔اس موقع پر راقم الحروف نے اپنی گفتگو میں جو باتیں عرض کیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ 
’’ہر مسلمان مرد و عورت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کوئی بھی دینی یا دنیاوی کام کرنے سے پہلے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے کہ اس سلسلے میں اللہ اور اس کے رسول کی مرضی کیا ہے ؟ اسی طرح تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ علماء کرام اور مفتیان سے محبت رکھیں اور ان کی رہنمائی میں اپنے کاموں کو انجام دیں۔ جو لوگ علماء سے بے نیاز رہ کر زندگی گزارتے ہیں وہ بہت جلد بے دینی اور گمراہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ‘‘
کونسلنگ سینٹرکے سلسلے میں راقم نے عرض کیا کہ’’ موجودہ حالات میں جب کہ میاں بیوی اور افراد خانہ کے درمیان گھریلو اور ازدواجی تنازعات، اسی طرح میراث کے مسائل بکثرت پائے جارہے ہیں، ضروری ہے کہ ہر علاقے میں کونسلنگ سینٹرقائم کیا جائے تاکہ اس کے ذریعے مذکورہ افراد کی غلط فہمیوں کو دور کر کے ان کے درمیان مصالحت کرائی جا سکے۔ ‘‘
راقم نے یہ بھی کہا کہ’’ مسجدوں کوخالص نمازوں کی حد تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ مساجد کو مختلف دینی سرگرمیوں کا مرکز بنا کر عام مسلمانوں کی دینی، علمی ، سماجی اور رفاہی خدمات انجام دی جائیں۔ اسی طرح نکاح سے قبل نوجوان افراد کی تربیت اور نکاح کے بعد ازدواجی جوڑوں کی رہنمائی کی غرض سے ( pre marriage or after marriage course) کے عنوان سے تربیتی ورکشاپ کا بھی گاہے بگاہے انعقاد کیا جائے۔‘‘ 
الحمدللہ! سامعین کے علاوہ مسجد کے ذمہ داروں نے بھی ان گزارشات کو توجہ سے سنا اور نجی ملاقات میں ان پر عمل درآمد کا عندیا ظاہر کیا۔اللہ کے کرم سے مڈگاؤں گوا کا یہ سفر خوشگوار اور اپنے مقصد کے لحاظ سے مفید رہا ۔ مولانا عبدالکریم ملی صاحب اور ان کے اہل خانہ علماء نواز ہیں،انہوں نے انتہائی خوش دلی کے ساتھ راقم کی خاطر مدارات کی اورراقم کی نگرانی میں گلشن خطابت اور صفافائونڈیشن کے ذریعے انجام پارہی دینی سرگرمیوں پر دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے حوصلہ افزائی فرمائی اور دعائوںکے ساتھ رخصت کیا۔ اللہ پاک انہیں اور ان کے اہل خانہ کو شاد و آباد رکھے اور ان کی خدمات کو شرف قبولیت بخشے آمین!
*-*-*

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے