Ticker

6/recent/ticker-posts

فیمیلی کونسلنگ گھریلو مسائل کا آسان حل

تحریر : مفتی محمد عامر یاسین ملی 
 معاشرے میں بڑھتے ہوئے ازدواجی اور خاندانی تنازعات کے تناظر میں مختلف جہتوں سے اصلاحی کوششیں جاری رہتی ہیں، جن میں اصلاح معاشرہ کے عنوان سے جلسوں کا انعقاد، اصلاحی مضامین اور ازدواجی جوڑوں کے علاوہ افراد خانہ کے لیے تربیتی پروگرام شامل ہیں،اس طرح کی ایک اہم کوشش فیمیلی کونسلنگ سینٹر کے قیام کی بھی ہے،جہاں مختلف معاملات و مسائل کے سلسلے میں میاں بیوی ، اولاد اور والدین نیز میراث کو لے کر بھائی بہنوں اور لین دین کے سلسلے میں کاروباری پارٹنرز کے درمیان کونسلنگ یعنی مفاہمت و مشاورت کے ذریعے صلح صفائی کی کوشش کی جاتی ہے، بطور خاص ازدواجی اور خاندانی تنازعات کے حل کےسلسلے میں فریقین کو مدعو کر کے ان سے گفت و شنید کی جاتی ہے اور ان کے درمیان اتفاق کی راہ پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اور ماشاءاللہ! اس کے بڑے اچھے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔

 شہر مالیگاؤں میں کونسلنگ سینٹر قائم کرکے اس پلیٹ فارم سے آفیشیل طریقے پر اصلاحی کوشش کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، صفا فاؤنڈیشن جو ازدواجی اور خاندانی تنازعات کے حل کے سلسلے میں سرگرم عمل ہے، اس کی جانب سے بھی اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ شہر کے چند مقامات پر کونسلنگ سینٹرز قائم کیے جائیں، اسی غرض سے مورخہ 10 اکتوبر کو صفا فاؤنڈیشن کے تین ارکان (راقم کے علاوہ مفتی عطاء الرحمن انوری اور مولانا عبدالوحید ندوی) نے امراوتی میں منعقد کیے گئے فیمیلی کونسلنگ ورکشاپ میں شرکت کرکے تربیت و رہنمائی حاصل کی ، جماعت اسلامی ہند حلقہ مہاراشٹر کے زیر اہتمام امراوتی کی مسجد توحید میں مہاراشٹر بھر کے کونسلر حضرات کا یک روزہ تربیتی ورکشاپ رکھا گیا،جس میں اہل علم اور ماہرین نے کونسلنگ سے متعلق اہم عنوانات پر اپنے محاضرات (presentation) پیش کیے، ماشاءاللہ مجموعی لحاظ سے یہ تربیتی ور کشاپ مفید رہا اور اس کے ذریعے کونسلنگ کے عنوان سے بہت ساری اہم معلومات حاصل ہوئیں، اس ورکشاپ کے ذریعے جہاں موجودہ دور میں فیمیلی کونسلنگ کی اہمیت اور بڑھتی ہوئی ضرورت واضح کی گئی ، وہیں شرکاء سے گزارش کی گئی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں منظم انداز میں کونسلنگ سینٹر قائم کریں اور اس کے ذریعے سماجی اور خاندانی تنازعات کو حل کرنے کی جدو جہد کریں۔ پروگرام کے اخیر میں چند شرکاء نے اپنے تاثرات بھی پیش کیے ، راقم نے اپنی گفتگو میں منعقد کیے گئے تربیتی ورکشاپ کی سراہنا کی اور اسے وقت کی ضرورت قرار دیا،ساتھ ہی ساتھ اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ مالیگاؤں میں بھی جلد ہی کونسلنگ سینٹر کا قیام عمل میں آئے گا ان شاءاللہ ! راقم نے اپنی گفتگو میں یہ بھی کہا کہ اس وقت کثرت سے ازدواجی اور خاندانی تنازعات سامنے آرہے ہیں لیکن پڑھے لکھے تربیت یافتہ اور تجربہ کار کونسلرز( counselors ) اور مصالحت کاروں (Mediators) کی کمی کے باعث تنازعات کے حل میں تاخیر ہورہی ہے، ہمارے اپنے شہر میں ماشاء اللہ اصلاحی کمیٹیاں قائم ہیں اور پنچایتی نظام بھی جاری ہے، جن کے ذریعے ازدواجی اور خاندانی تنازعات حل ہو رہے ہیں، لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ بہت سارے پنچ حضرات مصالحت اور ثالثی سے متعلق بنیادی باتوں اور موٹے موٹے شرعی مسائل سے ناواقف ہوتے ہیں، چنانچہ بعض مرتبہ ان کے انداز گفتگو سے کوئی ایک فریق جہالت اور جانبداری محسوس کرتا ہے، چنانچہ ایسے حضرات کے ذریعے کیے گئے فیصلے قبول نہیں کیے جاتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اصلاحی کمیٹیوں اور پنچایتوں کے ذریعے مصالحت کی اہم خدمت انجام دینے والے افراد کی بھی گاہے بگاہے تربیت اور رہنمائی کی جاتی رہے تاکہ وہ صحیح انداز میں مصالحت کی خدمت انجام دے سکیں۔
یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ پنچایتی نظام کو تو لوگ جانتے ہیں لیکن اب بھی بہت سارے افراد فیمیلی کونسلنگ اور اس کے نظام سے پوری طرح واقف نہیں ہیں، فیمیلی کونسلنگ دراصل مشاورت اور آپسی گفتگو کا ایک ایسا عمل ہے جس میں خاندان کے تمام افراد یا میاں بیوی کسی ماہرِ نفسیات یا تربیت یافتہ کونسلر کے ساتھ بیٹھ کر اپنی آپسی ذہنی الجھنوں، غلط فہمیوں اور گھریلو تنازعات پر کھل کر بات چیت کرتے ہیں تاکہ ان کے رشتے بہتر ہو سکیں اور مسائل کا حل نکل سکے، اور زوجین یا اولاد اور والدین، اسی طرح بھائی بہنوں کے درمیان اعتماد بحال ہو اور ان کے کمزور ہوتے ہوئے رشتے ٹوٹنے سے بچ جائیں۔ مثال کے طور پر رشتوں کے انتخاب کو لے کر اولاد اور والدین کے درمیان اختلاف رائے پیدا ہوجائےاور یہ لوگ اگر کسی فیمیلی کونسلنگ سینٹر پر جا کر کونسلر کی خدمات حاصل کرتے ہیں تو کونسلر ایک جانب اولاد کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کرے گا کہ والدین ان کے سب سے بڑے خیر خواہ ہیں اور ان کی جانب سے منتخب کردہ رشتوں میں پائیداری ہوا کرتی ہے، اسی طرح وہ والدین سے بھی فہمائش کرے گا کہ وہ اپنی اولاد کی رائے کو اپنی رائے پر ترجیح دیں، اس لیے کہ نکاح کے بعد رشتہ اولاد کو ہی نبھانا ہے،اور یہ کہ رشتوں کے انتخاب میں والدین کی حیثیت مشیر (advisor)کی ہوا کرتی ہے، لھذا والدین اولاد کو مشورہ ضرور دیں لیکن ان پر اپنا فیصلہ نہ تھوپیں۔ اسی طرح جو حضرات نکاح کے بندھن سے بندھنے والے ہیں ، وہ بھی اگر چاہیں تو قبل از وقت کونسلنگ سینٹر پر حاضر ہو کرآئندہ کی زندگی کے سلسلے میں تبادلہ خیال کرکے تفصیلی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں، اسی طرح جن گھروں اور خاندانوں میں میراث کو لے کر یا پارٹنرز کے درمیان کاروباری معاملات کے عنوان سے یا زوجین کے بیچ گھریلو امور کے سلسلے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، وہ بھی اگر چاہیں تو اپنے معاملات کونسلنگ سینٹر میں لا کر حل کروا سکتے ہیں ،کونسلنگ سینٹر کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بہت سارے معاملات بگڑنے سے پہلے سنور جاتے ہیں اور تنازعات حل ہو جاتے ہیں۔
 الحمدللہ امراوتی کا یہ سفر بڑا مفید ثابت ہوا، ہم لوگ 10 ، اکتوبر سنیچر کو رات پونے بارہ بجے غریب رتھ کے ذریعے روانہ ہوئے، صبح سات بجے بدنیرا اسٹیشن اتر کر وہاں سے آٹو کے ذریعے آٹھ بجے مسجد توحید وحدت نگر (امراوتی) پہنچے، جہاں پروگرام صبح دس بجے شروع ہوا اور مغرب کی اذان سے کچھ دیر پہلے ختم ہوا،اسی دن رات نو بجے ناگپور سے آنے والی غریب رتھ کے ذریعے تین بجے منماڑ اور پھر چار بجے شہر واپسی ہوئی ۔ امید ہے کہ اس بامقصد سفر کے ذریعے آنے والے دنوں میں صفافاؤنڈیشن کے زیر اہتمام کونسلنگ سینٹرز قائم ہوں گے اور ان کے ذریعے اہلیان شہر کو فائدہ ہوگا ان شاءاللہ 
                                       *-*-*

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے