از: مفتی محمد عامر یاسین ملی
نیا اسلام پورہ میں واقع مسجد قاسمیہ کے بالکل پڑوس میں والد گرامی قاری محمد یاسین شمسی ؒ کی یاد میں شمسی دارالافتاء گزشتہ کئی برسوں سےقائم ہے ،جہاں راقم الحروف فتویٰ نویسی کی خدمت انجام دیتا ہے ، دارالافتاء عصر تا عشاء جاری رہتا ہے ،اس دوران روزانہ ہی متعدد افراد مختلف معاملات ومسائل کے سلسلے میں زبانی وتحریری فتویٰ حاصل کرنے کی غرض سے حاضر ہوتے رہتے ہیں ،اکثر افراد کے سوالات کا تعلق میراث سے ہوتا ہے ،اسی طرح سوال کرنے والوں کی اکثریت ان مظلوم افراد کی ہوتی ہے جنہیں والدین کے انتقال کے بعد ان کے حق(یعنی والدین کی میراث) سے محروم کر دیا گیا ہو، خصوصا ایسے بھائی اور بہن بھی دارالافتاء میں اپنے سوالات لے کر حاضر ہوتے رہتے ہیں، جنہیں ان کے بھائیوں نے باپ کی میراث سے محروم رکھا ہو، یا جن خواتین کو اپنے شوہر کی وفات کے بعد اس کی میراث سے سسرال والوں نے حصہ نہ دیا ہو۔ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ایسا شخص دارالافتاء میں یہ سوال لے کر حاضر ہو جائے اور کہے کہ میراث کا پورا مال میرے قبضے میں ہے ،لہذا مجھے یہ بتایا جائے کہ اس کی شرعی تقسیم کا طریقہ کیا ہے؟ تاکہ میں اس کے مطابق دیگر وارثین کو ان کا حق اور حصہ دے سکوں!
گزشتہ دنوں ایک بہن ایسا ہی ایک سوال لے کر دارالافتاءحاضر ہوئی کہ میری والدہ کا انتقال ہو چکا ہے، ہم دو بہنیں اور دو بھائی ہیں، والدہ کی میراث ہمارے درمیان تقسیم کی گئی ، میرے دونوں بھائیوں نےیہ فیصلہ کیا کہ والدہ کی پوری میراث چار حصوں میں تقسیم کر دی جائے اور چاروں بھائی بہن اسے آپس میں بانٹ لیں۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ اس بہن کا سوال یہ تھا کہ اس طرح کہیں میں اپنے حق سے زیادہ مال وصول تو نہیں کر بیٹھی ؟ میں نے سنا ہے کہ بھائیوں کا حق بہنوں سے زیادہ ہوتا ہے اور ہم لوگوں نے اپنی مرضی سےجو تقسیم کی ہے، اس میں ہم بہنوں کا حصہ بھی بھائیوں کے برابر ہوگیا ہے۔
قارئین !میراث کا شرعی ضابطہ تو یہی ہے کہ دو بیٹیوں کے برابر ایک بیٹے کو مال دیا جائے ،البتہ اگر تمام وارثین آپسی رضا مندی سے کچھ کمی بیشی کے ساتھ مال تقسیم کرنا چاہیں (جیسا کہ اوپر ذکر کی گئی صورت میں مرحومہ والدہ کے تمام بیٹوں اور بیٹیوں نے آپس میں برابر مال تقسیم کرلیا )تو ایسا کرنا بھی درست ہے ، راقم نے اس بہن کو یہ شرعی مسئلہ بتایا تو وہ مطمئن ہو کر رخصت ہوگئی ،البتہ جاتے جاتے یہ پیغام دے گئی ؎
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں
میں سوچنے لگا کہ ایک ایسے دور میں جب کہ مال کی محبت نے دلوں سے احساس ،حقوق کی ادائیگی کی فکر اور رشتے ناطوں کی اہمیت کو بڑی حد تک کمزور کردیا ہے اور اب مال حاصل کرنے میں حلال وحرام کی تمیز بھی ختم ہوتی جارہی ہے ،کچھ ایسے افراد بھی ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں ،جنہیں اپنا حق لینے سے زیادہ دوسروں کا حق ادا کرنے کی فکر ہوتی ہے ،جو مال و دولت کے سلسلے میں اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ اس میں حرام کی آمیزش نہ ہو اور کسی کا حق دبا کر یا کسی کا دل دکھا کر مال حاصل نہ کیا جائے ۔راقم کا احساس یہ ہے کہ والدین کے ترکے کی تقسیم کے سلسلے میں اگر ہر بیٹا یا بیٹی دیگر وارثین کے تئیں ایسا ہی رویہ اختیار کرے جیسا اس بہن کا تھا تو شاید میراث کی وجہ سے بھائی بہنوں میں اختلاف کی نوبت نہ آئے اور حصے ترکے کی تقسیم کو لے کر جو مسائل پائے جارہے ہیں وہ ختم ہوجائیں ۔
بات تلخ ہے لیکن سچی بھی کہ آج دوسروں کےحقوق کی ادائیگی سے زیادہ اپنا حق حاصل کرنے کا مزاج پایا جاتا ہے ،دین کے دیگر شعبوں بطور خاص عبادات پر سختی سے عمل پیرا افراد بھی مالی لین دین اور حقوق کی ادائیگی کے سلسلے میں کمزور ثابت ہورہے ہیں ،بظاہر ایسے افراد کو دین دار تصور کیا جاتا ہے ،حالانکہ معاملات کی درستگی کے بغیر کوئی بھی شخص دین دار نہیں بن سکتا ۔چند برس قبل راقم نے ’’میرا ث کے مسائل اور ان کا حل ‘‘کے موضوع پرایک کتاب لکھی تھی ،کتاب کا مقدمہ مخدوم گرامی حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب نے تحریر فرمایا تھا، مقدمہ کا آغاز مولانامحترم نے کسی بزرگ کے اس فکر انگیز جملے سے کیا تھا کہ ’’پورے دین کا خلاصہ حقوق کی ادائیگی ہے ‘‘۔کاش کہ یہ بات ہر صاحب ایمان مرد وعورت کے دل میں اچھی طرح پیوست ہوجائے اور ہر شخص اپنے حق کے حصولیابی کی طرح دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کا اہتمام کرنےلگے تو نہ صرف دنیا وی تعلقات خوشگوار ہوجائیں، بلکہ اللہ راضی ہوجائے اور آخرت بھی سنور جائے ۔کوئی شبہ نہیں کہ جنت کی راہ ان کے لیے بڑی دشوار گزار ثابت ہوگی جو اللہ کے بندوں کی حق تلفی کرکے دنیا سے رخصت ہوں گے،اور یہ بات تو ہم جانتے ہی ہیں کہ اللہ کی بارگاہ میں بندوں کی حق تلفی کا گناہ اس وقت تک معاف نہیں ہوگا جب تک کہ بندے خود معاف نہ کردیں۔ اللہ پاک ہمیں حقوق کی ادائیگی کی توفیق اور استطاعت نصیب فرمائے ۔آمین
0 تبصرے