تحریر: مفتی محمد عامر یاسین ملی
سوشل میڈیا پر آنے والی بعض انتہائی مختصر تحریریں ایک پورے مضمون کے برابر ہوتی ہیں اور بعض امیجز ایسی ہوتی ہیں جو’’ ایک تصویر ایک کہانی‘‘ کے مصداق ہوتی ہیں ، گذشتہ دنوں ایک ایسی ہی امیج(تصویر) نظر سے گزری جس میں ایک نوجوان کی آنکھ غم اورشدتِ تکلیف سے اشکبار ہوکرسرخ ہوچکی تھی ،اس امیج پر یہ شعر بھی درج تھا ؎
رورہا تھا ایک لڑکا ،کہہ رہا تھا یاروں سے
پگڑیاں بزرگوں کی ، کھاگئیں محبت کو
افسوس کہ والدین اور سرپرستوں کوبالغ اولاد کے جذبات کا واقعی احساس نہیں ہوتا، گزشتہ دنوں دارالافتاء میں ایک تعلیم یافتہ دیندار نوجوان حاضر ہوا ، اس نے بتایا کہ میں فلاں لڑکی سے نکاح کا خواہشمند ہوں، میں نے اپنے والدین سے بھی بات کی ہے وہ بھی راضی ہیں، اور وہ لڑکی بھی راضی ہے لیکن لڑکی کے والدین محض برادری کا بہانہ کرکے اس رشتے سے انکار کر رہے ہیں اور لڑکی پر زبردستی کرکے اس کو دوسری جگہ نکاح کرنے پر مجبور کررہے ہیں۔
قارئین! بظاہر لڑکا لڑکی میں کوئی ایسی خرابی نہیں تھی جس کو بنیاد بناکر انکار کیا جائے، پھر شرعا بھی نکاح کے سلسلے میں لڑکا لڑکی کی رائے پر ہی حتمی فیصلہ کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن بعض والدین اپنے اختیار کا بے جا استعمال کرتے ہیں ،
پھر یہی اولاد جب بغاوت پر اتر آتی ہے یا اپنے جذبات سے مجبور ہوکر کوئی نامناسب قدم اٹھالیتی ہے تویہ لوگ سر پیٹتے ہیں اور اولاد کوکوستے اور طعنہ دیتے ہیں ،پھر انہیں اپنی اور خاندان کی عزت خراب ہوتی نظر آتی ہے لیکن جب اولاد بالغ ہوجائے اس کے لیےاپنے جذبات پر قابو رکھنا دشوار ہوجائےاور وہ خود اپنے انداز میں کسی مناسب رشتے کی جانب اشارہ کرنے لگیے تو اس وقت یہ سرپرست خواب خرگوش میں مست ہوتے ہیں،انہیں یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ جب اولاد بالغ ہوجائےتو والدین کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کے لیے مناسب رشتہ تلاش کرکے اس کا نکاح کردیں،اگر اس سلسلے میں کوتاہی برتی گئی اوراولاد کی گناہ کی مرتکب ہوئی تو والدین بھی اس گناہ کے ذمہ دارہوں گے۔
یہ تو ان لڑکےاور لڑکیوں کی بات تھی جو کنوارے اورغیر شادی شدہ ہیں ، لیکن یہی صورت حال ان گھرانوں کی بھی ہے جہاں کسی وجہ سے بیٹی ناراض ہوکر بیٹھی ہو یا بہو اپنے میکے چلی گئی ہو،اب بیٹا اوربیٹی منتظر رہتے ہیں کہ والدین دلچسپی لے کر ہمارے معاملے کو حل کریں گے لیکن ہوتا یہ ہے کہ والدین انتہائی سست رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہیں ،اولاد کو کہتے ہیں ابھی مہینہ دو مہینہ خاموش رہو پھر دیکھیں گے۔اس کے بعد پنچائتوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو مہینوں بیت جاتے ہیں اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا نظر نہیں آتا،کبھی لڑکی کے والدین ضد کر کے بیٹھ جاتے ہیں کہ ہم خود سے نہیں بھیجیں گے ،لڑکے کے گھر والے آکر بہو کو لے جائیں (حالانکہ لڑکی خود جانے کے لیے تیار ہوتی ہے)اور کبھی لڑکے کے والدین کا مطالبہ ہوتا ہے کہ لڑکی کے والدین خود اپنی بیٹی کو پہنچا کر جائیں( حالانکہ ان کا بیٹا اپنی بیوی کوجاکر لانے کے لیے آمادہ ہوتا ہے) اور جب دونوں فریق راضی ہوجاتے ہیں تو بعض مرتبہ حَکم(پنچ) حضرات مصروف یاغیر حاضر رہتے ہیں۔
غرض کہ فریقین کی اس ضد،ہٹ دھرمی ،انانیت اورحَکَم حضرات کی جانب سے ہونے والی کوتاہی کے نتیجےمیںکئی کئی مہینے اورسال گزر جاتے ہیں، اس دوران نت نئے مسائل اور خرابیاںجنم لیتی ہیں، اب توموبائیل اورانٹرنیٹ عام ہو جانےکی وجہ سے بے راہ روی کے واقعات بھی رونما ہونے لگے ہیں، جس کے ذمہ دار یہی والدین اور سرپرست ہیں جو یا تو دین سے دور ہوتے ہیں اور تعلیم سے بے بہرہ، یا پھر تعلیم یافتہ اور دیندار ہونے کے باوجود ضدی اور بے حس !ایسے ہی لوگوں کے تعلق سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں ؎
رورہا تھا ایک لڑکا ،کہہ رہا تھا یاروں سے
پگڑیاں بزرگوں کی ، کھاگئیں محبت کو
موجودہ ماحول میں جب کہ بے حیائی کے راستے آسان اورکھلے ہوئے ہیں اور جذبات کی رو میں بہہ کر نئی نسل ارتداد کی کھائی میں گررہی ہے،مناسب رشتہ نا ملنے اور رشتہ طے کرنے میں ہونے والی بے جا تاخیر کی وجہ سے مسلم بچیاں غیر مسلم لڑکوں سےدوستی اور شادی کر رہی ہیں، والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کےلیے نکاح کی شکل میں جائز اور حلال راستہ فراہم کریں تاکہ وہ حرام راستوں سے بچ سکیں، یاد رکھیں اس سلسلے میں والدین اورسرپرستوں کی جانب سے کی جانے والی غفلت ان کے حق میں انتہائی مضر ہے ،دنیاوی لحاظ سے بھی اور اخروی اعتبار سے بھی !
٭…٭…٭
0 تبصرے