Ticker

6/recent/ticker-posts

نکاح کا مثالی دعوت نامہ


نکاح کا ایک مثالی دعوت نامہ

تحریر: مفتی محمد عامر یاسین ملی
(امام و خطیب مسجد یحی زبیر مالیگاؤں)

قارئین! ان دنوں روزانہ بڑی تعداد میں نکاح ہورہے ہیں ،کہیں سادگی کے ساتھ سنت اور پاسداری کا لحاظ کرتے ہوئے اور کہیں دھوم دھام کے ساتھ اسراف اور فضول خرچی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے !کسی بھی جگہ پر مجلس نکاح اور دعوت ولیمہ سادگی کے ساتھ منعقد ہوگی یا فضول خرچی کے ساتھ ،اس کا اندازہ شادی کارڈ کو دیکھ کر بھی ہوجاتا ہے،اگر شادی کارڈ عام قسم کا ہو تو سمجھ لیجیے کہ ایسی جگہ سادگی پیش نظر ہے،لیکن اگر شادی کارڈ کئی اوراق پر ہو،اردو میں بھی اور انگریزی میں بھی،ساتھ ہی ساتھ شادی کارڈ میں پھول بوٹے لگے ہوئے ہواور بھاری بھرکم لفافے میں کارڈ محفوظ کیا گیا ہو،جس کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہو کہ یہ دعوت نامہ نہیں کوئی ضخیم کتاب ہے،تو سمجھ لیجیے کہ نکاح کے دیگر مراحل میں بھی فضول خرچیاں اور غیر ضروری اخراجات ہوں گے۔
  ایک مجلس میں حضرت مولانا صلاح الدین سیفی صاحب دامت برکاتہم (خلیفہ ومجاز حضرت مولانا پیر ذوالفقارصاحب نقشبندی) کی خدمت میں نکاح کا ایک قیمتی اور مہنگا دعوت نامہ پیش کیا گیا تو حضرت نے اس کو دیکھ کرفرمایا:
’’آپ کتنا ہی قیمتی اور مہنگا دعوت نامہ تیار کرلیں ،لوگ اس کو محض ایک مرتبہ پڑھ کر کنارے رکھ دیں گے ۔اس لیےبہتر یہی ہے کہ سادہ دعوت نامہ چھپائیں یا پھر بہت مہنگے اور قیمتی شادی کارڈ چھپواکر روپیہ ضائع کرنے اور فضول خرچی کا گناہ اپنے سر پر لینے کے بجائے نکاح اور ازدواجی زندگی کے عنوان پر لکھی گئی کسی کتاب کے ٹائٹل پر شادی کا دعوت نامہ لکھوادیں، اس طرح آپ کا کام بھی ہوجائے گا اور اسی بہانے ایک مفید دینی کتاب بہت سارے گھروں میں پہنچ جائے گی اور ہزاروں افراد اس کو پڑھ کر دینی وعلمی رہنمائی حاصل کریں گے ،جس کا اجر وثواب آپ کو ملتا رہے گا۔‘‘
    قارئین ! مہنگے اور خوشنما بھاری بھرکم دعوت نامے تو آپ نے بہت دیکھے ہوں گے لیکن گزشتہ دنوں ہمارے سامنے ایک ایسا دعوت نامہ آیا جو مہنگا تو تھا لیکن کارآمد اور مفید بھی تھا،دراصل کسی صاحب نے ایک خوشنما ڈائری (نوٹ بک)کے ٹائٹل پر اپنے بیٹے کے نکاح کا دعوت نامہ تحریر کروادیا تھا،اور وہی ڈائری تمام لوگوں تک دعوت نامہ کی شکل میں پہنچادی گئی تھی ،تا کہ نکاح کی اطلاع بھی ہوجائے اور مدعو حضرات اس ڈائری کا لکھنے اور پڑھنے کے لیے استعمال بھی کرسکیں،جس وقت میں نے اس ڈائری کو دیکھا تو مجھے ایک خوشگوار مسرت ہوئی اور دل میں یہ خیال آیا کہ اس طرح کا مفید اور کارآمد دعوت نامہ ان دعوت ناموں سے تو کہیں زیادہ بہتر ہے جو کافی مہنگے ہوتے ہیں لوگ ایک مرتبہ پڑھ لینے کے بعد لوگ ان دعوت ناموں کوایک طرف رکھ دیتے ہیں ۔ظاہر سی بات ہے کہ ہم کتنا ہی خوشنما ،قیمتی اور قسم قسم کے بو ل بوٹوں اور رنگوں سے مزین دعوت نامہ کرلیں ،کوئی بھی قسم ان کو دوبارہ نہیں پڑھے گا،اس لیے بہتر یہی ہے کہ سادہ انداز میں شادی کارڈ اور اپنے پروگراموں کے دعوت نامے تیار کریں،اور اگر مہنگے دعوت نامے تیار کرنے ہی ہوتو پھر اسی طرح کسی نوٹ بک یا مفید دینی وعلمی کتاب کے سرورق (ٹائٹل)پر دعوت نامہ تحریر کرلیں ،اس طرح نکاح کی دعوت بھی پہنچ جائے گی اور لوگ اس ڈائری یا کتاب سے استفادہ بھی کریں گے۔سیرت اور دعااورر اسی طرح نکاح کے موضوع پر پچاس یا سو صفحے کی ایسی متعدد کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں خوشگوار ازدواجی زندگی اور خوشحال خاندانی نظام سے متعلق قیمتی مضامین لکھے ہوئے ہیں ۔اگر ایسی کتابوں کے ٹائٹل پر نکاح اور دیگر تقاریب کے دعوت نامے لکھ دیئے جائیں تو اسی بہانے ایک اچھی اور مفید کتاب بہت سارے گھروں اور سینکڑوں افراد تک پہنچ جائے گی ۔یوں بھی اس زمانے میں لوگ موبائل کے ریچارج اور سیرو تفریح پر ہزاروں روپیہ خرچ کرتے ہیں ،لیکن کسی دینی کتاب کے خریدنے میں آگے پیچھے ہوتے ہیں ،حالانکہ کتاب جیسا مخلص ساتھی کوئی نہیں ،مگر افسوس موبائل اور انٹر نیٹ کے عام ہوجانے کے نتیجے میں اب کتب خانے اور لائبریریاں ویران ہوتی جارہی ہیں ۔اس تشویش ناک صورت حال کو دیکھ کر کسی نے یہاں تک کہہ دیاکہ ؎
کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی
نوٹ:جو حضرات نکاح اور ازدواجی زندگی کے موضوع پر لکھی گئی کتاب کے ٹائٹل پر دعوت نامہ شائع کرنا چاہتے ہیں وہ اس نمبر پر رابطہ کریں:8446393682

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے