صبح دفتر جاتے ہوئے راستے کے بالکل درمیان میں یہ بے زبان جانور بے فکر ہوکر بیٹھے اور کھڑے ہوئے تھے ۔ لوگ تکلیف کے ساتھ کنارے سے گزر رہے تھے ۔
ٹھیک اسی انداز میں بے شمار جگہ انسانوں نے بھی راستہ تنگ کررکھا تھا۔ اتی کرمن کرکے، بے ترتیب سواری اور ٹھیلہ گاڑی لگاکر ، سامان اور کرسیاں رکھ کر ۔ کچھ لوگ تو راستے کے بیچ میں کھڑے ہوکر بات کررہے تھے۔
میں سوچنے لگا کہ راستے کو تنگ کردینا اور راہ گیروں کو تکلیف دینا ان جانوروں نے انسانوں سے سیکھا ہے یا انسانوں نے جانوروں سے ؟
قارئین کے پاس اس کا جواب ہو تو ضرور بتائیں۔
تعجب کی بات ہے کہ کوئی شخص ان جانوروں کو اٹھانے کی ہمت بھی نہیں کررہا تھا ، شاید اس ڈر سے کہ جانور بھی یہ جواب نہ دے دیں ’’چلو نکلو،راستہ تمہارے باپ کا نہیں ہے!!!‘‘
ابو عکاشہ مالیگانوی
0 تبصرے