از : مفتی محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں
سرکاردو عالم ﷺ کا یہ معمول تھا کہ آپ فجر کی نماز کے بعد نمازیوں کی طرف رخ کر کے چار زانو تشریف فرما ہو جاتے تھے،حضرات صحابہ کرام ؓبھی اپنے معمولات سے فارغ ہو کر آپ ﷺ کے سامنے سکون و وقار کے ساتھ اس انتظار میں بیٹھ جاتے کہ آج زبان مبارک سے کیا سننے کو ملتاہے،ایک روز نبی کریم ﷺ نے اس مجلس میں ارشاد فرمایا:آج کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے تو بیان کرے۔
ایک صحابی فرماتے ہیں، سرکار! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرا سر کچلا جا رہا ہے۔
رحمت عالم ﷺ نے فرمایایہ شیطان کا اثر ہے، تم اس کو بیان نہ کرو۔ جب تم میں سے کوئی برا خواب دیکھے اور رات میں آنکھ کھلے تو اپنے بائیں طرف تین دفعہ تھوک دے اور تین مرتبہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ کر اپنا وہ پہلو جس پر سو رہا ہے تبدیل کردے۔
مجلس میں موجود بعض اور صحابہ کرام نے بھی اپنے خواب بیان کیے، رحمت عالم ﷺ نے اس کی بھی تعبیر بیان فرمائی اور فرمایا کہ خواب نبوت کے ستّر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ اگر کوئی اچھا خواب دیکھے تو اس پر اللہ کا شکر ادا کرے اور اس کو بیان کرے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر برا خواب دیکھے تو وہ شیطان کی طرف سے ہے، اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرے اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرے، اس طرح یہ خواب اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔
خوابوں کے سلسلےمیں مختلف احادیث میں نبی کریم ﷺ نے متعدد ہدایات ارشاد فرمائی ہیں ،
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: خواب تین قسم کے ہیں: اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت، انسان کے خیالات، اور شیطان کی طرف سے ڈراؤنے خواب۔ لہٰذا اگر تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے بھلا معلوم ہو تو وہ کسی سے بیان کردے اگر وہ چاہے، اور اگر کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو اسے کسی سے بیان نہ کرے، بلکہ اٹھ کر نماز پڑھ لے۔ (ابن ماجہ)
اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں پس جب کوئی اچھے خواب دیکھے تو اس کا ذکر صرف اسی سے کرے جو اسے عزیز ہو اور جب برا خواب دیکھے تو اللہ کی اس خواب کے شر سے اور شیطان کے شر سے پناہ مانگے اور تین مرتبہ تھتکار دے اور اس کا کسی سے ذکر نہ کرے پس وہ اسے ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔(بخاری)
اگر کوئی شخص برا یا ڈراؤنا خواب دیکھے تو جیسے ہی آنکھ کھلے بائیں طرف تھتکار کر "أَعُوْذُ بِاللهِ مِنْ شَرِّ هذِهِ الرُّؤْیَا" پڑھ لینا چاہیے، اور یہ خواب کسی سے بیان نہیں کرنا چاہیے، یہ شیطان کی طرف سے شرارت ہوتی ہے، جس کا مقصد انسان کو پریشان کرنا ہوتاہے ۔ (مسلم)
قارئین!خوابوں کو لےکر بہت سارے افراد تجسس،کشمکش اور ذہنی الجھن میں مبتلا رہتے ہیں، خواب اچھا ہو یا برا دیکھنے والے کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ جلد سے جلد اس کی تعبیر معلوم کر لے،اچھا خواب بیان کرنے میں تو مضائقہ نہیں ہے لیکن براخواب بیان کرنےسے حدیث شریف میں منع کیا گیا ہے۔البتہ اچھاخواب بھی ایسے شخص سے ہی بیان کرناچاہئے جو نیک اور سمجھدار ہو اور فن تعبیر میں مہارت رکھنے والاہو۔ عام لوگ مسجد کے ہر امام اورمولوی کو فن تعبیر کا ماہر سمجھ کر اس سے اپنے خواب کی تعبیر معلوم کرناچاہتے ہیں، چوں کہ تعبیر کافن باضابطہ سکھایا نہیں جاتا اس لیے موجودہ دور میں اس فن کےجانکار اور ماہرین بہت کم پائے جاتے ہیں۔
بعض لوگ کتابوں سے بھی اپنے خواب کی تعبیر تلاش کرتے ہیں، حالانکہ یہ طریقہ بھی درست نہیں ہے، اس لیے کہ خواب کی تعبیر میں خواب دیکھنے والے کی شخصیت، مزاج ،احوال اور موسم نیز دیگر بہت سے امور کا دخل ہوتا ہے، لہذا محض کتاب دیکھنے سے خواب کی صحیح تعبیر معلوم نہیں کی جا سکتی، جیسا کہ محض کتاب دیکھ کر کوئی مریض اپنے مرض کے لیے دوا متعین نہیں کرتا، کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے، اسی طرح خواب کی تعبیر کے لیے کسی ماہر معبر سے رجوع کرنا چاہیے۔
خوابوں کی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئےمفکراسلام حضرت مولانا محمدولی رحمانی نور اللہ مرقدہ نے تحریر فرمایا ہے : حضرت ؒ کے اس چشم کشا اقتباس پر مضمون مکمل کرتاہوں۔
خواب رویائے صادقْہ بھی ہو تے ہیں، اضغاث احلام بھی ،خیالات کا جماؤ بھی ،خوف اور خوشی کی نفسیات بھی خواب کا سبب بن جاتے ہیں ،خواب ’’دِکھ‘‘جانے کی مختلف وجہیں ہوسکتی ہیں، خواب ’’دیکھنے ‘‘کی صرف ایک وجہ ہے کذب بیانی اور دروغ گوئی بات اس حد تک پہونچ گئی ہے کہ لوگ خواب دیکھنے کی زحمت کرلیا کرتے ہیں، اور پھر’’ مناسب مقامات ‘‘پربیان کرتے ہیں، اب رویائے کاذبہ حصول خلافت کا بھی معروف ذریعہ ہیں، حضرت علامہ محمد ابراہیم بلیاوی ؒکی بات یا دآتی ہے، کہ پہلے شیخ، مرید کی اہلیت کی بناء پر خلافت دیتاتھا، اب مرید، شیخ کی اہلیت کی بنیاد پر خلافت حاصل کرتاہے۔ صورتحال گرچہ بگڑ گئی ہے، مگرسچائی یہ ہے کہ خواب اور مبشرات کی حقیقت ہے، اسے ’’جزء من اجزاء النبوہ ‘‘ کہا گیاہے، باپ (جو مقدس نبی تھے ) سے خواب بیان کرنے کا طریقہ قرآن نے بتایاہے، اور مقدس نبی کا یہ مشورہ بھی قرآن پاک کی زبانی ہے کہ(لاتقصص رویا) خواب کہنا نہیں۔! خواب کی تعبیر کسی اچھے جانکارسے لینی چاہیے، اس کی رہنمائی قرآن پاک کے الفاظ سے ہوتی ہے، حضرت یوسف علیہ السلام کی تلاش خواب کی تعبیر کے لیے ہوئی تھی، اور حضرت یعقوب علیہ السلام کا یہ کہنا بھی روحانی سلسلہ کی ایک کڑی ہے، کہ ’’انی لاجد ریح یوسف‘‘ (شک تھوڑے ہی ہے، بلاشبہ میں یوسف کی خوشبو محسوس کررہا ہوں) اذان کی تعلیم بھی خواب کے ذریعہ ہوئی تھی۔ سچے خواب ذریعہ علم اور سبب ہدایت ہوتے ہیں۔ ٭…٭…٭
0 تبصرے