از : محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں
8446393682
آج بہت سارے افراد کو کسی بھی کام کے کرنے سے پہلے سب سے بڑی فکر یہی لاحق ہوتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے اور دوسرے کیا سوچیں گے؟
اس فکر میں وہ بہت سارے صحیح اور ضروری کاموں کو انجام دینے میں آگے پیچھے ہوتے رہتے ہیں ، یہاں تک کہ بہت سارے افراد اپنے کاموں کو چھوڑ ہی دیتے ہیں محض اس اندیشہ سے کہ
لوگ کیا کہیں گے اور دوسرے کیا سوچیں گے؟؟
مثلاً: فلاں کاروبار کیا تو لوگ کیا کہیں گے؟
فلاں جگہ اپنی بیٹی یا بیٹے کا رشتہ طے کردیا تو لوگ کیا سوچیں گے ؟
مختصر ولیمہ رکھا تو رشتے دار کیا بولیں گے ؟ وغیرہ
کسی نے بہت خوب کہا ہے کہ آپ یہ نہ سوچیں کہ لوگ کیا سوچیں گے ؟ اگر یہ بھی آپ ہی سوچیں گے تو پھر وہ کیا سوچیں گے ؟؟؟
قارئین! ہمیں کسی بھی کام کی انجام دہی سے پہلے یہ غور کرنا چاہیے کہ یہ کام صحیح ہے یا غلط ؟ اور اس کام کے سلسلے میں ہمارا رب ہم سے سوال کرے گا تو ہم کیا جواب دیں گے ؟ اس لئے کہ جس ذات سے ڈرنا چاہیے اور جس سے شرم کرنی چاہیے وہ سب سے بڑھ کر اللہ پاک کی ذات ہے ۔ افسوس کہ ہم عام لوگوں سے تو شرماتے اور خوف کھاتے ہیں لیکن اپنے پروردگار سے نہیں ڈرتے ! جب کہ عام لوگوں کا معاملہ تو یہ ہے کہ وہ نہ کسی کو پیدل چلنے دیتے ہیں نہ سوار ، لوگوں کا تو حال یہ ہے کہ ان کی زبان سے کوئی محفوظ نہیں رہتا، اگر ہم
مسجد میں امامت کریں تو صوفی
مدرسہ میں پڑھیں تو غریب
مدرسہ میں پڑھائیں تو دنیا سے دور
یونیورسٹی جائیں تو "ملحد"
مسجد میں نماز پڑھیں تو "بڑا آیا نمازی"
گھر میں نماز پڑھیں تو "منافق"
صف اول کا معمول بنائیں تو "دکھاوا"
آخری صف میں پہنچیں تو "لاپرواہی"
کاروبار کرکے مدرسہ چلائیں تو "دنیا دار ملا"
عوام سے چندہ کریں تو "چندہ خور"
خوش اخلاقی سے پیش آئیں تو "میٹھی چھری"
سنجیدہ بن کر رہیں تو "کھڑس"
روزانہ سلام دعا کریں تو"چپکو"
اپنے کام سے کام رکھیں تو "بے وفا"
ان باکس میں فوراً جواب دیں تو "ہر وقت آن لائن"
اور کچھ تاخیر ہو جائے تو "مغرور"
طلاق ہو جائے تو "گھر بربادی"
زبردستی گھٹ گھٹ گزارا کریں تو "مثالی میاں بیوی"
رائے کا اختلاف کریں تو "بد زبان"
ہر ایک کی مان کر چلیں تو "بے وقوف"
سیر و سیاحت کے شوقین ہوں تو "آوارہ بندہ"
گھر رہنے کے عادی ہوں تو "گھس پیٹھیا"
کہانیاں لکھنے لگیں تو "حقیقت سے دور آدمی"
شاعری کریں تو "فضول کام"
نعت پڑھیں تو "دین فروش"
ہنس مکھ بن کر رہیں تو "مسخرہ کہیں کا"
جسامت کمزور ہو تو "کچھ کھایا کرو"
صحت مند جسامت ہو تو "تھوڑا کھایا کرو"
مر جائیں تو "بڑا اچھا شخص تھا"
زندہ رہیں تو "دھرتی کا بوجھ"
مذکورہ بالا حقیقت پر مبنی یہ اقتباس ہمیں واٹس ایپ پر موصول ہوا، اس سے صاف واضح ہورہا ہے کہ آپ کتنی ہی کوشش کرلیں لیکن لوگوں کی تنقید اور بے جا تبصرے سے نہیں بچ سکتے اور نہ ہی تمام لوگوں کو خوش رکھ سکتے ہیں ۔ اس سلسلے میں مائی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی نصیحت ہماری رہنمائی کرتی ہے، ہمیں اس پر عمل کرنا چاہیے ۔
ام الموٴمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے خط لکھا کہ “مجھے کوئی مختصر سی نصیحت کیجئے‘ بات لمبی نہ ہو‘ مختصر ہو تاکہ اسے حرز جان بناؤں”
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے کاتب کو بلایا اور کہا کہ لکھو:
بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ خط ہے عائشہ ام الموٴمنین کی جانب سے معاویہ کے نام!
میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کو راضی کرنے کی خاطر انسانوں کو ناراض کرلیتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے انسانوں کی ناراضگی کی خود کفایت فرماتے ہیں۔ (کہ ان کی پرواہ نہ کرو ان کو راضی کرنا ہمارے ذمہ رہا) اور جو شخص لوگوں کی رضامندی کی خاطر اللہ کو ناراض کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس شخص کو ان لوگوں کے سپرد کر دیتے ہیں (کہ کرو ان کو راضی‘ میں دیکھتا ہوں تم کتنے لوگوں کو راضی کرلیتے ہو)
(مشکوٰة : ص۴۳۵)
اس واقعے سے پتہ چلا کہ بندہ مومن کو سب سے زیادہ اپنے رب کو راضی رکھنے کی کوشش کرنا چاہیے۔
خلاصہ یہ کہ اگر آپ کا کام اچھا ہے ، آپ کی نیت بھی درست ہے اور طریقہ کار میں بھی بظاہر کوئی خرابی نہیں ہے تو پھر بہت زیادہ سوچنے اور ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اللہ کا نام لے کر اپنا کام کرگزریں ، کوئی آپ سے راضی ہو یا ناراض، اس کی پرواہ نہ کریں ، اس لئے کہ آپ کا رب آپ سے راضی ہے ، یہی آپ کے لئے بہت کافی ہے ۔ ورضوان من اللہ اکبر ( اللہ پاک کی رضا اور خوشنودی سب سے بڑی دولت ہے۔)
0 تبصرے