Ticker

6/recent/ticker-posts

مساجد کے ساتھ ہمارا سلوک


جب ایک دیہاتی کا گدھا مسجد میں گھس آیا !
مختصر پر اثر واقعہ

تحریر : محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں
8446393682

    ایک دیہاتی کا گدھا مسجد میں گھس آیا، امام صاحب نے دیکھا تو گدھے کو ڈنڈا لگایا، دیہاتی دوڑا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ امام صاحب ! گدھے کو کیوں مار رہے ہو ؟ امام صاحب نے کہا : دیکھتے نہیں کہ مسجد میں گھس آیا ہے۔ 
    دیہاتی نے کہا : امام صاحب ! یہ گدھا ہے ، اس کو نہیں سمجھتا کہ مسجد میں نہیں آنا چاہیے ، کیا کبھی آپ نے مجھے بھی مسجد دیکھا ہے؟؟؟

    آج بہت سارے مسلمانوں کا اپنی مسجد سے یہی سلوک ہے، مسجد سے قریب رہ کر یہاں تک کہ مسجد کی شاپنگ میں کاروبار کرنے والے اور مسجد کے مکان میں کرایہ پر رہنے والے افراد بھی نماز کے لیے مسجد میں نہیں آتے، لیکن جب بات جب بابری مسجد ، مسجد اقصی اور گیان واپی مسجد کی آئے تو اس موضوع پر خوب تبصرہ کرتے ہیں اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں ۔

     ایسے لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ اپنے محلے کی مسجد کے بھی ہم پر کچھ حقوق عائد ہوتے ہیں مثلاً: پنج وقتہ نمازوں کے ذریعے مسجد کو آباد رکھنا، مسجد کو صاف ستھرا رکھنا ، مسجد کے اخراجات کے لیے حسب استطاعت تعاون کرنا اور مساجد کے ائمہ مؤذنین اور خدام کے ساتھ حسن سلوک کرنا وغیرہ ۔
    در حقیقت ان حقوق کی ادائیگی میں ہی مساجد کی حفاظت کا راز پوشیدہ ہے ۔
               *-*-*

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے