Ticker

6/recent/ticker-posts

عید کی مبارکباد پیش کرنے کیلئے بائنرز کا استعمال

عید کی مبارکباد پیش کرنے کیلئے بائنرز کا استعمال!

 تحریر:محمد عامر یاسین ملی

     موجودہ دور میں بے شمار ایسے کام انجام پارہے ہیں، جو دینی اور دنیاوی لحاظ سے بے فائدہ اور نا پسندیدہ ہیں ، لیکن ان کاموں کوانجام دینے والے افراد اس خوش فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ہم نے بہت اچھا اور مفید کام کیا ہے۔ ایسے فضول کاموں کی ایک طویل فہرست ہے ۔ فی الحال ہم جس کام کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں وہ ہے عیدین اور دیگر مواقع پر عام مسلمانوں کو مبارکباد پیش کرنے کے لئے پوسٹر بازی اور بائنر بازی ۔
عیدالفطر کی مبارک باد ایک دوسرے کو پیش کرنا ممنوع نہیں، لیکن اس کے لئے ہزاروں روپیہ خرچ کرکے بڑے بڑے بائنروں کے ذریعے راستوں کو تنگ کر دینااور خودنمائی کے لئے اس میں اپنی تصاویر لگوانا نہ صرف یہ کہ فضول اوراسراف ہے بلکہ گناہ کبیرہ کاموجب ہے۔ کل تک یہ عمل سیاسی افرادتک محدود تھا لیکن اب تو ہر چوک چوراہے پر چندافراد مل کر اپنی اپنی تصاویر اور ناموں والے بائنرز او ر پوسٹرزکے ذریعے پورے عالم اسلام کے مسلمانوں کوعید کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔حیرت تواس بات پر ہے کہ وہ لوگ بھی اس کام میں لگے ہوئے ہیں جن کی اپنی بستی کے علاوہ کوئی پہچان نہیں یا اختلاف کی وجہ سے جو اپنے خاندان کے افرادکو بھی سلام نہیں کرتے ، نہ ہی عید کے موقع پر ان سے ملاقات کے لئے جاتے ہیں۔لیکن خود نمائی اور سستی شہرت کاشوق انسان کو ایسے کاموں پر بھی آمادہ کردیتا ہے جو دینی و دنیاوی لحاظ سے فضول اور نامناسب ہوتے ہیں۔ تعجب اس بات پربھی ہے کہ اب دین اورسنت کے نام پرہونے والے اجتماعات اور پروگراموں کے لئے بھی تصویروں والے بائنرز اور پوسٹرز کے ذریعے شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔
    فی الوقت ہمارا ملک جن حالات سے گزرہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ایسے نازک حالات میں بے فائدہ اور غیر ضروری کاموں میں اپنا وقت، صلاحیت اور روپیہ ضائع کرنا ہرگز مناسب نہیں۔ بائنراور پوسٹر پر روپیہ خرچ کر کے اسراف اورتصویر کشی کا گناہ اپنے سر پرلادنے سے بہترہے کہ یہی پیسہ صدقہ و خیرات اورخیر کے کاموں میں خرچ کریں۔ تا کہ اس کے اچھے ثمرات اور نتائج سے ہم فیضاب ہوسکیں۔جو پیسہ سنیماگاہوں، تفریح گاہوں اور اس طرح کے لایعنی اور گناہ کے کاموں میں مسلم قوم خرچ کرتی ہے وہی پیسہ نہ جانے کتنے بے سہاروں کی زندگی میں خوشیاں لانے کاذریعہ بن سکتاہے۔
قرآن کریم میں اﷲ پاک نے فضول خرچی کرنے والوں کو شیطان کابھائی قرار دیاہے جب کہ نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے کہ آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ لا یعنی کاموں کو چھوڑ دے۔لہذا عیدالفطر اور دیگر مواقع پر لہوو لعب اور فضول خر چی و بے جااخراجات سے پرہیز کیا جائے اسی میں ہماری بھلائی ہے۔ اﷲ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
٭…٭…٭
عیدالفطر کی مبارکبادی کے لئے بائنر اور پوسٹر سے پرہیزکریں!
موجودہ دور میں بے شمار ایسے کام انجام پارہے ہیں، جو دینی اور دنیاوی لحاظ سے بے فائدہ اور نا پسندیدہ ہیں ۔لیکن ان کاموں کوانجام دینے والے افراد اس خوش فہمی میں مبتلاء ہیں کہ ہم نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ ایسے فضول کاموں کی ایک طویل فہرست ہے ۔ فی الحال ہم جس کام کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں وہ ہے عیدالفطر کے موقع پر عامۃ المسلمین کو مبارکباد پیش کرنے کے لئے پوسٹر بازی اور بائنر بازی ۔
عیدالفطر کی مبارک باد ایک دوسرے کو پیش کرناہرگز ممنوع نہیں، لیکن اس کے لئے ہزاروں روپیہ خرچ کرکے بڑے بڑے بائنروں کے ذریعے راستوں کو تنگ کر دینااور خودنمائی کے لئے اس میں اپنی تصاویر شامل کرنا نہ صرف یہ کہ فضول اوراسراف ہے بلکہ گناہ کبیرہ کاموجب ہے۔ کل تک یہ عمل سیاسی افرادتک محدود تھا لیکن اب تو ہر چوک چوراہے پر چندافراد مل کر اپنی اپنی تصاویر اور ناموںوالے بائنر او رپوسٹر کے ذریعے پورے عالم اسلام کے مسلمانوںکوعید کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔حیرت تواس بات پر ہے کہ وہ لوگ بھی اس کام میں مبتلا ہیں جن کی اپنی بستی کے علاوہ کوئی پہچان نہیں یا اختلاف کی وجہ سے جو اپنے خاندان کے افرادکو بھی سلام نہیں کرتے۔نہ ہی عید کے موقع پر ان سے ملاقات کے لئے جاتے ہیں۔لیکن خود نمائی اور سستی شہرت کاشوق انسان کو ایسے کاموں پر بھی آمادہ کردیتا ہے جن کی دینی و دنیاوی کوئی حیثیت نہیںہوتی۔ تعجب اس بات پربھی ہے کہ اب دین اورسنت کے نام پرہونے والے اجتماعات اور پروگراموں کے لئے بھی تصویروںوالے بائنر اور پوسٹر کے ذریعے شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔حالانکہ شریعت میں بے جا تصویرکشی کی ممانعت اور اس کی سزا سے ہر کوئی واقف ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے