تحریر : مفتی محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں 8446393682
ہر سال رمضان المبارک کے مہینے میں اچانک مستحقین زکوٰۃ کی ایک بڑی تعداد نکل کر سامنے آجاتی ہے،جس کے متعلق یہ یقینی علم نہیں ہوتاکہ وہ زکوٰۃ کے مستحق ہیں یا نہیں؟ یہاں تک کہ یہ بھی واضح نہیں ہوتا کہ وہ مسلمان بھی ہیں یا نہیں!ہر فردکے سامنے اورہردر پرجا کر دست سوال دراز کرنے والے اور بظاہر مفلوک الحال نظر آنے والے ایسے بہت سارے فقیر درحقیقت مالدار اورصاحب نصاب ہوتے ہیں، لیکن گداگری کے پیشے اور زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کی ہوس سے وہ مجبور ہوتے ہیں۔ زکوٰۃ دینے والوں کو یادرکھناچاہئے کہ ایسے افراد کو زکوٰۃ دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، لہذا خوب تحقیق کر کے مستحق افراد ہی کو زکوٰۃ کا مال دینا چاہئے تا کہ زکوٰۃ ادا کرنے کے اجروثواب سے ہم مالا مال ہو سکیں اور زکوٰۃ کا مقصد بھی حاصل ہوسکے۔
گزشتہ روز ایک مختصر لیکن فکر انگیز تحریر ہمارے ایک عزیز نے بھیجی جس کو مناسب ترمیم کے ساتھ یہاں پیش کررہا ہوں۔ تحریر کا عنوان ہے:ہر بیوہ مستحق زکوۃ اور رمضان کٹ کی حقدار نہیں ہوتی!
آگے لکھا ہے کہ رمضان المبارک میں تقسیم زکوۃ اور رمضان کٹ کی تقسیم زوروں پر ہوتی ہے،لیکن ہمارے پاس دس سال پہلے جو مستحقین کی فہرست بنی ہوتی ہے، اس میں کچھ ناموں کا اضافہ تو ہوتا ہے لیکن کچھ نام کم نہیں ہوتے ، حالاں کہ دس سال پہلے جو بیوہ مستحق تھی آج اس کے بیٹے کمارہے ہیں اور وہ مستحق نہیں رہی بلکہ بسا اوقات اس پر زکاۃ واجب ہوچکی ہوتی ہے ، لیکن افسوس یہ ہے کہ زکوٰۃ تقسیم کرنے والے بھی مستحق اور غیر مستحق میں تفریق نہیں کرتے اور لینے والے بھی منع نہیں کرتے بلکہ بغیر کسی شرم وجھجک کے قطار میں سب سے آگے نظر آتے ہیں۔ لہذا امدادی اداروں، فلاحی تنظیموں کے ذمہ داروں اور زکوۃ دینے والے عام مسلمانوں کو اس طرف توجہ دینا ضروری ہے کہ ان کے ذریعے ادا کی جانے والی زکوٰۃ کسی کی محتاجی اور فقیری کو مٹارہی ہے یا مسلم سماج میں پیشہ ور فقیری کو بڑھاوا دے رہی ہے ؟
کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے اور دست سوال دراز کرنے کے سلسلے میں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ایسے شخص کو جس کے پاس ایک دن کے صبح و شام کے کھانے کا نظم ہے، سوال کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کے پاس ایک دن کے صبح و شام کے کھانے کا انتظام موجود ہے، پھر بھی وہ سوال کرتا ہے تو وہ جہنم کی آگ اکٹھا کررہا ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ ایسے شخص کے لیے سوال کرنا جائز نہیں ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے مال کو بڑھانے کے لیے سوال کررہا ہے تو وہ جہنم کا انگارہ جمع کررہا ہے، اب اس کی مرضی چاہے زیادہ جمع کرے یا کم۔ (مشکوٰة)
صاحب نصاب افراد سے گزارش ہے کہ وہ زکوٰۃ ادا کرنے سے پہلے تھوڑی کوشش کرکے مستحق افراد کو تلاش کریں، اور ایسے ہی افراد کو زکوۃ دینے میں ترجیح دیں جو محتاج اور ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی عزت نفس کی خاطر کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ بقول شاعر
آج مجبور ہوں تو کیا بھیک گوارا کرلوں
عزت نفس بھی ایک چیز ہوا کرتی ہے
اگر ہم ایسے لوگوں کو خاموشی سے زکوٰۃ دیدیں، تو ان کے معاشی مسائل حل ہو جائیں۔ یہاں یہ شرعی مسئلہ بھی ذکر کرتا چلوں کہ زکوٰۃ لینے والے کو یہ بتانا ضروری نہیں ہے کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے، البتہ آپ کے دل میں زکوٰۃ کی نیت ہونا ضروری ہے، جب آپ اس طریقہ پر عمل کریں گے تو آپ کی زکوٰۃ ایسے باغیرت لوگوں کی فقیری اور محتاجی مٹانے کا ذریعہ بنے گی اور زکوٰۃ کی وصولی کو پیشہ بنانے والے فقیروں میں اضافہ نہیں ہوگا ۔ افسوس کہ صحیح مصرف کی تحقیق یا علم نہ ہونے کے سبب آج بہت سارے لوگوں کی زکوۃ ایک طرح سے پیشہ ور فقیروں( جو زیادہ تر بے دین اور مختلف برائیوں کے عادی ہوتے ہیں) کی تعداد بڑھا رہی ہے ، راستہ چلتے ہوئے ہر چار قدم پر دکھائی دینے والے ایسے پیشہ ور اور عادی فقیر مردوں اور عورتوں کی موجودگی اس کی واضح دلیل ہے ۔ ایسے لوگوں کو زکوۃ اور صدقہ دینے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ مستحق افراد محروم رہ جاتے ہیں جن کے لیے اللہ نے یہ نظام بنایا ہے۔
نوٹ : آئندہ جمعہ کو نماز جمعہ سے قبل *اسلام کا نظام زکوٰۃ اور موجودہ حالات میں زکوٰۃ کے حقیقی مصارف* کے عنوان پر شہر مالیگاؤں کی مساجد میں مشترکہ طور پر خطاب کیا جائے گا انشاء اللہ! برادران اسلام سے گزارش ہے کہ وقت مقررہ پر پہنچ کر خطاب جمعہ سماعت کریں۔
مضمون کے اخیر میں بلاتفریق مسلک تمام ائمہ مساجد اور مقررین سے میں ادبا درخواست کرتا ہوں کہ وقت کی ضرورت سمجھتے ہوئے وہ اسی موضوع پر نماز جمعہ سے قبل خطاب کریں اور عام مسلمانوں کی رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ
نوٹ : اس سلسلے میں تقریری مواد کی ضرورت ہو تو مندرجہ ذیل واٹس ایپ نمبر پر میسیج کریں 8446393682
٭…٭…٭
0 تبصرے