Ticker

6/recent/ticker-posts

پانچ ماہ میں مکمل حفظ قرآن

پانچ ماہ میں مکمل حفظ قرآن
مدرسہ اقصی للبنات مالیگاؤں کی طالبہ کا اہم کارنامہ 

از : محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں
8446393682

     کسی شاعر نے کہا ہے
 کتابوں میں جو افضل ہے اسے قرآن کہتے ہیں
 اسے جس نے اتارا ہے اسے رحمان کہتے ہیں
 سجا لے اپنے سینے میں جو اس کے تیس پاروں کو
 زمانے بھر میں اس کو حافظ قرآن کہتے ہیں

     پہلے پہل تو سن کر آپ کو تعجب ہوگا، لیکن یہ ایک خوشگوار اور سچی حقیقت ہے کہ ہمارے شہر مالیگاؤں کے معروف دینی ادارے مدرسہ اقصی للبنات کی ایک ہونہار اور محنتی طالبہ اقرأ بنت حامد حسن نے محض پانچ ماہ کے قلیل عرصے میں پورا قرآن کریم حفظ کرلیا۔ محض پندرہ سال کی اس طالبہ نے ٹی ایم ہائی اسکول کی نویں جماعت میں عصری تعلیم جاری رکھتے ہوئے ذاتی لگن اور محنت اور اپنی معلمہ کی توجہ کی بدولت یہ حیرت انگیز کارنامہ انجام دیا ہے ، جس کو سن کر ہی لوگ حیرت زدہ ہیں۔ لیکن یہ کلام الٰہی کا کھلا ہوا معجزہ ہے ، اللہ پاک جس کے لئے چاہے اپنے کلام مقدس کا پڑھنا اور حفظ کرنا آسان کردے ۔ ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشآء
بقول شاعر
ایں سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ 

    قارئین!واضح ہو کہ مدرسہ اقصیٰ للبنات شہر کےشمالی علاقے نیا اسلام پورہ ( سروے نمبر 57) میں واقع ہے، جو راقم عاجز کی نگرانی میں گزشتہ آٹھ برسوں سے جاری ہے،اس ادارے میں تقریبا دوسو طالبات زیر تعلیم ہیں۔ یہ ادارہ 2014ء میں قائم ہوا۔اس میں نورانی قاعدہ، ناظرہ قرآن بالتجوید سے لے کر دینیات اور شعبہ حفظ تک تعلیم کا نظم ہے۔ یہاں کل سات معلمات تدریسی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اب تک اس ادارے سے 25؍طالبات تکمیل حفظ قرآن کا شرف حاصل کر چکی ہیں۔ فالحمد للہ علی ذلک
     فی الوقت یہ ادارہ نیا اسلام پورہ، سروے نمبر 57 اور اطراف کی بستیوں میں علم دین کی شمع روشن کیے ہوئے ہے اورخاموشی کے ساتھ دینی وعلمی خدمات انجام دے رہاہے۔ مدرسہ کی معلمات محنت اور لگن کے ساتھ لڑکیوں کو زیور علم سے آراستہ کرنے میں مشغول ہیں ۔
   26 فروری سنیچر کو مسجد قاسمیہ میں تکمیل حفظ قرآن کی تقریب منعقد کی گئی جس میں امسال مدرسہ اقصی للبنات میں اپنا حفظ قرآن مکمل کرنے والی پانچ خوش نصیب طالبات کو حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب ( سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) کے دست مبارک سے اسناد و انعامات سے نوازا گیا۔ اس موقع پر مولانا محترم نے جہاں تمام پانچوں طالبات اور ان کے سرپرستوں کو  مبارکباد پیش کی وہیں مدرسے کی تمام معلمات کو بھی مبارکباد پیش کی، اسی طرح موصوف نے مدرسے کے نگراں اور معاونین بالخصوص حاجی نہال اختر صاحب اورحاجی افضال صاحب کی محنت اور کوششوں کی بھی سراہنا کی۔ واضح رہے کہ فی الوقت مدرسہ مذکورہ دونوں حضرات کے مکانات پرجاری ہے ۔
     ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے دینی اداروں کو مزید مستحکم کیاجائے ، ان اداروں میں اپنی اولاد کو داخل کیا جائے اور دینی خدمات انجام دینے والے معلمین و معلمات کی حوصلہ افزائی اور قدر کی جائے اور ایسے اداروں کی کارکردگی کو بڑے پیمانے پر پھیلایا جائے ۔ اس لیے کہ یہی وہ دینی ادارے ہیں جوکفر و ارتداد کی آندھیوں میں ایمان و اسلام کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں۔
        ******

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے