Ticker

6/recent/ticker-posts

ماہ شعبان المعظم کے فضائل و مسائل

ماہ شعبان المعظم کے فضائل و مسائل

تحریر : حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی مدظلہ
(سابق ناظم امارت شرعیہ بہار اڑیسہ و جھارکھنڈ)

         شعبان اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ ہے،عرب کے لوگ ماہ رجب میں آرام وسکون کرنے کے بعد شعبان میں کاروبار تجارت اوردیگر امور کی انجام دہی کے لیے ملک کے اطراف واکناف میں پھیل جاتے اوردوسرے علاقوں کو نکل جاتے،اسی مناسب سے یہ مہینہ شعبان کہلایا، یا یہ وجہ بھی ہے کہ اس مہینہ میں رمضان کے لیے خوب بھلائی پھیلتی ہے۔اس ماہ میں رسول ﷺ دوسرے مہینوں کی بہ نسبت زیادہ نفلی روزے رکھا کرتے تھے، جیساکہ درج ذیل احادیث میں ہے۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:’’أنہ لم یکن یصوم من السنۃ شھرا تاما إلا شعبان یصلہ برمضان‘‘ ۔ (ابو داؤد)
   (آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں کسی مہینے کے پورے روزے نہ رکھتے تھے، سوائے شعبان کے،اسے رمضان کے ساتھ ملادیتے تھے۔)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
    ’’کان أحب الشھور إلی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أن یصومہ شعبان ثم یصلہ برمضان‘‘۔(ابو داؤد)
   (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روزے رکھنے کے لیے شعبان کا مہینہ سب سے زیادہ پسند تھا،پھر آپ اسے گویا رمضان ہی سے ملادیتے تھے۔)
نیزحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:
    ’’کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یصوم حتی نقول: لا یفطر ویفطر حتی نقول: لا یصوم وما رأیت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم استکمل صیام شھر إلا رمضان ومارأیتہ أکثر صیاما منہ فی شعبان‘‘ (بخاری)
    (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفلی روزہ رکھنے لگتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزہ رکھنا چھوڑیں گے نہیں اورجب روزہ چھوڑدیتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں،میں نے رمضان کے علاوہ آپ کو کبھی پورے مہینہ کا روزہ رکھتے نہیں دیکھا اورجتنے روزے آپ شعبان میں رکھتے،میں نے کسی اورمہینے میں اس سے زیادہ روزے رکھتے آپ کو نہیں دیکھا۔)
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے:’’لم یکن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یصوم شھرًا من شعبان فإنہ کان یصوم شعبان کلہ‘‘۔(ابو داؤد)
    (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نفلی روزے دوسرے مہینوں کی بہ نسبت شعبان میں زیادہ رکھا کرتے تھے۔)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے مہینوں کی بہ نسبت شعبان میں زیادہ نفلی روزے رکھا کرتے تھے۔
      رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ تھی کہ شعبان کے دنوں کی دوسرے مہینوں کی بہ نسبت بہت زیادہ حفاظت فرماتے تھے،انہیں شمار کرتے رہتے اورصحابہ کرام کو بھی حکم دیتے کہ رمضان کے روزے شعبان کے ساتھ خلط ملط نہ کریں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یتحفظ من شعبان مالا یتحفظ من غیرہ ثم یصوم لرؤیۃ رمضان فإن غم علیہ عد ثلاثین یوما ثم صام‘‘۔(ابو داؤد)
     (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کی تاریخوں کی اتنی نگہداشت رکھتے کہ دوسرے مہینوں میں اتنی نگہداشت نہیں رکھتے تھے،پھر چاند دیکھ کر رمضان کے روزے شروع کرتے،اگر کبھی مطلع ابرآلود ہوتا تو شعبان کے تیس دن پورے کرکے رمضان کے روزے شروع کرتے۔)
ماہ شعبان کی فضیلت کے بارے میںحضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
     ’’شَعْبَانُ بَیْنَ رَجَبَ وَشَھْرِ رَمَضَانَ تَغْفُلُ النَّاسُ عَنْہُ تُرْفَعُ فِیْہِ اَعْمَالُ الْعِبَادِ فَاُحِبُّ اَنْ لاَّ یُرْفَعَ عَمَلِیْ اِلاَّ وَاَنَا صَائِمٌ ‘‘۔(شعب الایمان للبیہقی)
     (شعبان؛ ماہِ رجب اور ماہِ رمضان کے درمیان ایک ایسا مہینہ ہے کہ جس سے لوگ غافل رہتے ہیں،حالانکہ اس میں لوگوں کے اعمال اوپر اٹھائے جاتے ہیں اور میں یہ بات پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں اوپر اٹھائے جائیں کہ میں روزے کی حالت میں ہوں۔)
     شعبان کی پندرھویں رات ’’شب برأت‘‘کے نام سے مشہور ومعروف ہے۔حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:یَطَّلِعُ اللّہُ اِلٰی خَلْقِہٖ لَیْلَۃَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَیَغْفِرُ لِجَمِیْعِ خَلْقِہٖ اِلاَّ لِمُشْرِکٍ اَوْ لِشَاحِنٍ‘‘۔
    (حضرت معاذ بن جبلؓ اللہ کے رسولﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو اپنی تمام مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں‘پس اللہ تعا لیٰ اپنی تمام مخلوق کو بخش دیتے ہیں سوائے مشرک اور کینہ پرور کے۔)(صحیح ابن حبان)
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:’’اِذَا کَانَ لَیْلَۃَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ اِطَّلَعَ اللّٰہُ اِلٰی خَلْقِہٖ فَیَغْفِرُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَیُمْلِیْ لِلْکَافِرِیْنَ وَیَدَعُ اَھْلَ الْحِقْدِ بِحِقْدِھِمْ حَتّٰی یَدَعُوْہُ‘‘۔(شعب الایمان للبیہقی)
    (جب نصف شعبان کی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں‘پس تمام مخلوق کو بخش دیتے ہیں اور کافروں کو ڈھیل دیتے ہیں اور بغض رکھنے والوں کو ان کے بغض کے ساتھ چھوڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس کو ترک کر دیں۔)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے