Ticker

6/recent/ticker-posts

میراث کی تقسیم میں تاخیر بدترین گناہ

میراث کی تقسیم میں تاخیر بدترین گناہ

تحریر : مفتی محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں
8446393682

    چند ہفتے قبل کی بات ہے، مسجد یحییٰ زبیر میں نماز مغرب سے فارغ ہو کر باہر نکل رہاتھا ،کسی نے پیچھے سے آواز دی ،پلٹ کر دیکھاتو تقریباً ستر سال کے ایک ضعیف شخص ،نحیف ونزار جسم، پیشانی پر رنج و پریشانی کے آثار اور آنکھوں میں نمی لیے فرمارہے تھے:مفتی صاحب !مجھ آپ سے کچھ بات کہنی ہے،وقت میں گنجائش نہ ہوتے ہوئے بھی ان کی بزرگی نے مجھے رکنے اور ان کا قصہ درد سننے پر مجبور کر دیا، آپ بھی سنیں! کہنے لگے :
    ’’میری اہلیہ نے مجھے بھیجا ہے او ر یہ سوال پوچھا ہے کہ ان کے والد کوفوت ہوئے تقریباً 26 سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔مرحوم باپ نے ترکے میں بڑی جائیداد چھوڑی ،جسے آج تقسیم کیا جائے تو کم از کم تمام بیٹیوں کے حصے میں فی نفردس لاکھ روپئے کی خطیر رقم آئے گی۔لیکن اس جائیداد پر بھائیوں کاقبضہ ہے اور اب تک انہوں نے سے شرعی طور پر تقسیم نہیں کیا ہے،مطالبہ کرنے پر بہنوں سے کہتے ہیں : آپ کو جوضرور ت ہو ہم سے کہو ہم پوری کر دیں گے۔‘‘
پھر وہ بزرگ کہنے لگے :
    آپ ہمیں مشورہ دیں کہ مرحوم باپ کا ترکہ پانے کے لیے میری اہلیہ کونسا راستہ اختیار کرے؟  اگروہ رقم ہمیں مل جائے تو معاشی تکلیف دور ہو جائے اور قرض وغیرہ کی بھی ادائیگی ہو جائے۔
    میں نے پوچھا کیاآپ کے بچے آپ میاں بیوی کی کفالت نہیں کرتے؟کہنے لگے : تمام بچے علیحدہ رہتے ہیں اور ہر ہفتہ محض ایک ہزار روپیہ ہم لوگوں کو دیتے ہیں، اسی رقم پر ہمارا گزربسر ہوتاہے۔میں نے انہیں کچھ مفید مشورہ دیا،اور پھر وہ چلے گئے۔ وہ تو چلے گئے لیکن حقیقت کے آئینے میں مسلم معاشرے کی اندرونی اور حقیقی صورت حال دکھا گئے، جس کاظاہر تو انتہائی خوش نما ہے لیکن باطن انتہا مکروہ اور بھدّا!
    قارئین ! یہ صورت حال ہمیں بتاتی ہے کہ مسجدوں میں نمازیوں کی بھیڑ،مکہ اورمدینہ میں عازمین حج و عمرہ کااژدحام ،دینی جلسوں اور اجتماعات میں عام مسلمان مردوخواتین کا ہجوم، راہ خدا میں ہزاروں لاکھوں روپیہ خرچ کرنے والے مالداروں کی سخاوت کو دیکھ کر ہرگز دھوکہ نہ کھائیں ،اور یہ یقین یہ کریں کہ ’’یہ سچے پکے مسلمان ہیں اور اپنی عبادات اور نیکیوں کی بدولت جنت کے حقدار ہوچکے ہیں‘‘۔جب تک یہ تحقیق نہ کر لیں کہ ان مسلمانوں میں عبادات کی ادائیگی کے ساتھ معاملات کی صفائی کا اہتمام ہے یا نہیں ؟ معلوم کریں کہ کہیں ایساتو نہیں کہ حج پر حج اور عمرہ پر عمرہ کرنے والوں نے اب تک باپ کے ترکے پر قبضہ کر کے چھوٹے بھائی بہنوں کو ان کے حصے سے محروم کر رکھا ہے،اوراسی مال سے حج اور عمرہ کر رہے ہیں؟ اگر ایساہے تو یاد رکھیں ان لوگوں کاحج اور عمرہ بارگاہ خداوندی میں ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔ہاں ہاں یہ بھی دیکھ لیں کہ مسجدوں اور مدرسوں کی تعمیروتوسیع اور فلاحی و سماجی کاموں کی انجام دہی میں بڑا بڑا حصہ لینے والوں نے کسی یتیم او ر بیوہ کی زمین اور جائیداد پرناجائز قبضہ تونہیں کر رکھا ہے؟رمضان المبارک میں بڑے پیمانے پر زکوٰۃ اور خیرات تقسیم کرنے والوں کے رشتہ داروں کا حال بھی معلوم کر لیں،کہیں وہ نان شبینہ سے محروم در در کی ٹھوکریں تو نہیں کھارہے ہیں؟

   قارئین!مذکورہ تلخ حقائق کسی دل جلے کی داستان اور کسی ستم رسیدہ انسان کی آپ بیتی نہیں ہے بلکہ ہر دوسرے تیسرے مسلم گھرانہ کی اندرونی صورت حال کی عکاس ہے۔قوم مسلم اجتماعی طور پر جن گناہوں کاارتکاب کر رہی ہے اور مسلم معاشرے میں جو گناہ وبائی امراض کے مانند پھیل چکے ہیں، ان میں سرفہرست میراث کی شرعی تقسیم میں تاخیر اور یتیموں اوربیواؤں کو ان کے حصے سے محروم کرنا ہے۔بات جتنی سخت ہے اتنی ہی حقیقت اور سچائی پر مبنی بھی کہ کئی کئی نسلیں گزر جاتی ہیں لیکن دولت کے چند حریص اور لالچی لوگوں کی وجہ سے شرعی طور پر میراث تقسیم نہیں کی جاتی، آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس گناہ اور ظلم کا ارتکاب کرنے والے محض بے پڑھے لکھے اور بے دین مسلمان نہیں بلکہ بہت سارے شرفاء ، صاحبان فضل و کمال اور اصحاب جبہ و دستاربھی ہیں، جن کی بہنیں اپناحصہ پانے کے انتظارمیں بوڑھی ہوچکی ہیں، اور جن کے بھائی فقر و فاقہ کی وجہ سے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہیں، ایسے افرادکو خدا سے ڈرناچاہئے اور قرآن کریم کی یہ آیت پڑھ کر کانپ جاناچاہئے۔
  ترجمہ :جو لوگ ناجائز طورپر یتیموں کا مال کھاتے ہیں،وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں۔(سورۂ نساء)
  نبی کریم ﷺ نے فرمایا : میں تم کو خاص طور پر دو کمزوروں کے مال سے بچنے کی تنبیہ کرتاہوں، ایک بیوہ اور دوسرے یتیم ۔
واضح ہو کہ میرا ث کا مال محض لڑکوں کاآپس میں تقسیم کر لینا اور لڑکیوں کواس سے محروم کر دیناحرام ہے، یہ بہنوں پر کیا جانے والا بدترین ظلم ہے اورقانون خداوندی سے بغاوت ہے۔ بعض لوگ یہ کہہ کر بہنوں کاحصہ ہڑپ کر جاتے ہیں کہ بہنیں حصہ لیتی ہی نہیں ،یا انہوں نے معاف کردیا ہے۔ عموماً یہ اس وقت ہوتاہے جب بہنیں بالکل مایوس ہو جاتی ہیں اور سوچتی ہیں کہ اگر انہوں نے اپنے حصے کاتقاضہ کیا تو بھائی برا مان جائے گا، اور پھربھائی بہن کے تعلقات بھی ختم ہو جائیں گے۔معلوم ہوناچاہئے کہ ایسی معافی کا کوئی اعتبارنہیں ہے۔
    اخیر میں ایک مختصر اور پر اثر واقعہ کا ذکر کرکے مضمون مکمل کرتاہوں، جسے مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ نے معارف القرآن میں نقل کیا ہے۔ایک بزر گ ایک مسلمان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے،تھوڑی دیرمریض کے پاس بیٹھے تھے کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔اس موقع پر جو چراغ چل رہا تھا ،بزرگ نے اسے فوراً بجھا دیا، او ر اپنے پاس سے تیل منگا کر روشنی کی ،لوگوں نے اس کاسبب دریافت کیا تو فرمایا : 
   جب تک یہ شخص زندہ تھا یہ چراغ اس کی ملکیت تھا، اور اس کا جلانا درست تھا، اب یہ اس دنیاسے رخصت ہوگیا ہے، لہذا اس کی ہر چیز میں وارثوں کا حق طے ہوگیا، لہٰذا سب وارثوں کی اجازت ہی سے ہم یہ چراغ جلا سکتے ہیں، اور وہ سب یہاں موجود نہیں ہیں اس لیے میں نے اپنے پیسوں سے تیل منگا کر روشنی کی۔( معار ف القرآن جلد ۲ صفحہ ۳۱۷)
   یہ واقعہ ان حضرات کے لئے درس عبرت ہے جو مال میراث پر برسوں قابض رہتے ہیں اوربلاتکلف تمام وارثین کی اجازت کے بغیر اس مشترک مال سے نفع اٹھاتے رہتے ہیں، اپنے بچوں کی شادی کرتے ہیں ، حج عمرہ کرتے ہیں اور صرف اپنے اہل خانہ کی کفالت کرتے ہیں، جو کہ ان کے لیے کسی بھی طرح جائز اور درست نہیں ہے۔ تو ہے کوئی جو اللہ سے ڈرکر میراث کو شرعی طور پر تقسیم کرے ؟
           *-*-*-* 

ایک تبصرہ شائع کریں

2 تبصرے

  1. السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔۔۔۔۔
    خوب۔بہت خوب۔۔۔۔۔جناب ایک درخواست ہے۔۔۔
    اکثر نکاح کی تقریب میں نکاح سے قبل کسی عالم کا بیان ہوتا ہے۔۔۔۔نکاح کے تعلق سے۔۔۔اسی تقریب میں اگر تقسیم میراث کی بھی تلقین کی جائے کسی عنوان سے۔۔۔جیسے
    مجھے جہیز نہیں میراث میں میرا حق دیں۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. محترم مفتی محمد عامر صاحب.
    السلام علیکم. ایسی پوسٹ کا بغور مطالعہ کرنا اور ذہن نشین کرنا ہم سب کے لیے گناہوں سے بچنے اور صحیح راہ پر چلنے کا سبب بن سکتا ہے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ امت مسلمہ میں بیداری اور عملی زندگی گزارنا آسان فرمائے آمین

    جواب دیںحذف کریں