Ticker

6/recent/ticker-posts

عالمہ اور عالم دین کا رشتہ


عالم دین اور عالمہ کے رشتہ نکاح سے انکار کیوں؟

تحریر: مفتی محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں
8446393682

   دین کے بنیادی احکام کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان مردوعورت پر فرض ہے اور اگر مکمل طور پر دینی علوم کو حاصل کرلیا جائے تو قرآن و احادیث میں اس کے بڑے فضائل وارد ہوئے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دینی علوم کے حاملین ( مرد ہوں یا خواتین ) کی رہنمائی اور خدمت کے نتیجے میں ہی یہ امت اپنے دین پر باقی ہے، حدیث شریف میں علماء کرام کو جہاں انبیاء کرام کا وارث کہاگیاہے، وہیں انہیں آسمان کے روشن ستاروں کے مانند بھی قرار دیا گیا ہے، جن سے زمین اور سمندر کے راستوں میں رہبری حاصل کی جاتی ہے۔
   قارئین! مذکورہ باتوں سے اہل علم کی اہمیت اور ضرورت واضح ہوتی ہے ، اس کے باوجود بعض لوگ کسی عالم دین یا عالمہ اور دینی علوم سے آراستہ لڑکیوں کا رشتہ پسند نہیں کرتے، بعض لڑکیاں بلا جھجک کہہ دیتی ہیں کہ میں کسی مولانا سے نکاح نہیں کروں گی، اسی طرح بعض نوجوان بھی عالمہ لڑکی کے متعلق ایسا ہی خیال رکھتے ہیں۔ خدا جانے اس کا سبب کیا ہے؟ اگر مالی ومعاشی لحاظ سے ان کی کمزوری ہے تو ہمیں تو مالداری کو بنیاد بنانے سے منع کیا گیا ہے، اس وقت تعجب ہوتا ہے جب کسی دین سے دور لیکن مالدار لڑکے کا رشتہ سامنے آئے تو یہ کہہ کر قبول کرلیا جاتا ہے کہ اللہ پاک ہدایت دینے والا ہے، اور جب کسی دیندار یا عالم اور حافظ کا رشتہ پیش کیا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ کیا کمائے گا اور ہماری بیٹی کو کیا کھلائے گا؟ سوال یہ ہے کہ جو خدا ہدایت دینے والا ہے کیا وہ رزق دینے والا نہیں ہے؟
    اسی طرح عالمہ لڑکیوں کے متعلق یہ سوچ عام ہے کہ  لڑکیاں امور خانہ داری سے نابلد ہوتی ہیں اور بات بات پر شرعی احکام کا حوالہ دیتی ہیں، اس بات کے غلط ہونے کے لئے یہی دلیل کافی ہے کہ الحمدللہ ! آج صرف ہمارے شہر مالیگاؤں میں سینکڑوں اور ہزاروں معلمات کامیاب اور خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہی ہیں ۔ دوسری بات کا جواب یہ ہے کہ ہم سب قدم قدم پر احکام شریعت کے پابند ہیں، اگر عالمہ لڑکیاں غیر شرعی باتوں اور بےجا رسوم پر نکیر کرتی ہیں اور خود بھی ان سے بچنے کی کوشش کرتی ہیں تو یہ تو ان کے علم کا تقاضہ ہے، اگر وہ بھی عام بہوؤں کی طرح خاموش رہیں تو پھر ان کے دینی علوم حاصل کرنے کا کیا فائدہ ؟ ممکن ہے کسی عالم یا عالمہ سے ازدواجی زندگی کے سلسلے میں ایسی لغزش سرزد ہوئی ہوجو نہیں ہونی چاہیے، لیکن سوال یہ ہے کہ غلطیاں تو ڈاکٹرز اور ٹیچرز لڑکوں اور لڑکیوں سے بھی سرزد ہوتی ہیں، طلاق ان کے بھی ہوتے ہیں، رشتے ان کے بھی کشیدگی کا شکار ہوتے ہیں، پھر کیوں نہیں کہا جاتا کہ ڈاکٹرز، ٹیچرز اورعصری تعلیم یافتہ لڑکوں اور لڑکیوں کا رشتہ ہمیں پسند نہیں؟ کیا صرف اس وجہ سے کہ ان کا پیشہ پیسے والا ہوتا ہے اور پیسہ انسان کے سارے عیوب پر پردہ ڈال دیتا ہے۔
     بہرحال سبب جو بھی ہو، ہمیں کسی بھی طبقے کے چند افراد کے نامناسب عمل کو بنیاد بنا کر اس پورے طبقے کو متہم اور بدنام کرنے کا حق نہیں ہے،خصوصا اہل علم(علماء) کے طبقے سے نفرت اور بغض تو انتہائی نقصان دہ ہے،اور انجام کار کے لحاظ سے ہلاکت خیز بھی! اور کسی عالمہ کے رشتہ نکاح کو حقیر سمجھنا یا اسے صرف عالمہ ہونے کی بنیاد پر ٹھکرانا اسی کا حصہ ہے۔
اس سلسلے میں دارالعلوم دیوبند کا ایک فتویٰ بھی ملاحظہ فرمائیں
سوال:مولانا ہمارے کچھ ساتھی لوگ کہتے ہیں کہ عالمہ لڑکی سے شادی نہیں کرنا چاہئے وغیرہ ، اس لیے کہ وہ اپنے حقوق جھاڑتی ہے ، لہذا میں کشمکش میں مبتلا ہوں۔ براہ کرم، رہنمائِی فرمائیں۔
بسم الله الرحمن الرحيم
     اچھے اخلاق کی حامل عالمہ لڑکی سے شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے؛ بلکہ اچھا ہے، اس طرح کی لڑکی سے شادی کرنے سے گھر کا ماحول دینی رہنے کی زیادہ توقع ہے، نیز بچوں کی دینی تربیت بھی آسان ہو جاتی ہے۔ رہے حقوق تو اگر شوہر بیوی کے حقوق اچھے سے ادا کرے گا تو پھر بیوی کو حقوق جھاڑنے کا موقع ہی کہاں ملے گا، نیز اگر وہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرے گی تو شوہر کے حقوق بھی تو ادا کرے گی۔ بہرحال اگر کسی مناسب عالمہ لڑکی سے رشتہ مل رہا ہے تو اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اقدام نکاح کرلیں، تردد میں نہ پڑیں ۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

  یاد رکھیں! رشتہ نکاح طے کرنے میں دین داری بنیادی شرط ہے اور جس انسان کے پاس جس قدر دین کا علم ہوگا وہ اسی لحاظ سے دین پر عمل بھی کرسکے گا اور دوسروں کو خصوصا اپنی اولاد اور اہل خانہ کو دین پر قائم رکھنے کی کوشش کرسکے گا نیز اپنے شریکِ حیات کے حقوق بھی ادا کرے گا، اور یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی ہی دنیا و آخرت میں نجات اور سرخروئی کا ضامن ہے۔
                   ٭…٭…٭

ایک تبصرہ شائع کریں

4 تبصرے

  1. ماشاءاللہ جزاک اللہ بڑی پیاری باتیں ہیں جزاک اللہ

    جواب دیںحذف کریں
  2. وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اسی کے متعلق مضامین ارسال ہوتے رہیں تومقررین کیلئے بہت مفید ہوگا

    جواب دیںحذف کریں
  3. الحمدللہ ۔۔۔آپ نے مضمون میں جو بات کہیں بالکل درست ہے لیکن کچھ حقوق لازماً ہوتے ہیں جو مرد کیلۓ لازم ہے کہ ان حقوق کو ادا کرے ۔۔۔لیکن کچھ حقوق بیوی ادباً عائد ہوتے ہیں۔۔
    عالمہ جو ہوتی ہیں وہ ادبا عائد ہونے والے حقوق میں اپنا مقام جھاڑتی ہے۔۔۔

    یہ مشاہدات کے پیشِ نظر لکھا گیا ہے۔

    الفاظ کی تلخی کیلۓ معذرت خواہ ہوں۔

    جواب دیںحذف کریں