Ticker

6/recent/ticker-posts

خاندان میں رشتہ نکاح طے کرنا

خاندان میں نکاح کرنا کیسا ہے؟

     اسلامی نقطہ نظر سے چچازاد، پھوپھی زاد ،ماموں زاد اور خالہ زاد بھائی اور بہن سے نکاح کرنا جائز ہے، ہمارے معاشرے میں اس سلسلے میں دو طرح کی سوچ پائی جاتی ہے، پہلی یہ ہے کہ کسی اجنبی اور پرائے رشتے کے بجائے کیوں نہ اپنے خاندان ہی سے رشتہ منتخب کر لیا جائے،جسے ہم اچھی طرح جانتے اور پہچانتے ہیں، بلکہ بعض والدین تو اس سلسلے میں اتنے سخت ہوتے ہیں کہ وہ اولاد کی مرضی نہ ہو تب بھی انہیں خاندان میں نکاح کرنے پر مجبور کرتے ہیں ، جو کہ شرعا درست نہیں۔ 

     دوسری سوچ یہ ہے کہ اگر خاندان میں رشتہ کیا گیا اور خدانخواستہ نکاح کے بعد کوئی پیچیدگی پیدا ہوئی (جو عام گھرانوں میں ہوتی رہتی ہے) تو ایک کے بجائے دو رشتے خراب ہوں گے۔

    بعض لوگ اسے طبی نقطہ نظر سے بھی نقصان دہ سمجھتے ہیں۔وہ یہ روایت بھی بیان کرتے ہیں کہ قریبی رشتہ داروں میں نکاح نہ کرو کیونکہ اس سے اولاد کمزور پیدا ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ روایت موضوع ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ اس سلسلے میں شرعی نقطہ نظر یہ ہے کہ رشتہ دار سے نکاح جائز ہے، اسلام کے پیش نظر دینداری اور اچھی سیرت ہے، اب دین دار رشتہ خواہ خاندان ہی میں مل جائے یا خاندان سے باہر، اسے منتخب کرلینا چاہیے ۔نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا اس پر عمل رہا ہے، کہ وہ قریبی رشتہ داروں میں بھی نکاح کیا کرتے تھے اور غیر رشتے داروں میں بھی ! خود حضور اکرمﷺ نے اپنی پھوپھی امیمہ بنت عبدالمطلب کی بیٹی حضرت زینب بنت جحش سے نکاح کیا، اور اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح اپنے چچازاد بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کروایا۔

دارالعلوم دیوبند سے بھی اس سلسلے میں کسی نے فتویٰ طلب کیا تھا ، ذیل میں سوال اور اس کا جواب ملاحظہ فرمائیں:

سوال:حضرت امام غزالی کی کتاب احیاء العلوم میں ایک حدیث ہے جس میں خاندان میں نکاح سے منع کیا گیا ہے ۔ حافظ عراقی کہتے ہیں کے یہ حدیث نہیں ہے بلکہ حضرت عمر فاروق کا قول ہے ۔جو کہ انہوں نے ایک آدمی کو منع کیا تھا کہ وہ خاندان سے باہر شادی کرے ۔ سعودی عربی میں خاندان میں نکاح سے پہلے میڈیکل ٹیسٹ لیا جاتا کہ مستقبل میں پیدائشی نقائص والے بچے کم ہوں۔

جواب نمبر: 60974

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 190-190/Sd=4/1437-U

 خاندان میں شادی کرنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بہت سے صحابہ اور صحابیات کی شادیاں آپس میں خاندان میں کی گئی ہیں،خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا آپ کی پھوپی زاد بہن تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی کی تھی، خاندان میں نکاح کے حوالے سے جو بات مشہور ہے کہ اس سے بچے میں عیب رہتا ہے، یہ بے اصل بات ہے، ایسا ہونا ضروری نہیں ہے،عیب دار بچے تو اجنبی گھرانوں میں شادی کرنے سے بھی پیدا ہوجاتے ہیں اور جہاں تک مذکورہ حدیث کا تعلق ہے، تو یہ بات صحیح ہے کہ محدثین نے اس حدیث پر کلام کیا ہے ، بعض محدثین نے اس کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا ہے، جو آپ نے ایک مخصوص قبیلے والوں سے کسی خاص وجہہ سے فرمایا تھا اور بعض نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف بھی اس قول کی نسبت کو ضعیف قرار دیا ہے اور اس کو عربوں کا مقولہ قرار دیاہے۔ 

٭…٭…٭

ایک تبصرہ شائع کریں

3 تبصرے