Ticker

6/recent/ticker-posts

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے

مسجد تو بنادی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے 
تحریر: مفتی محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں 8446393682
      
    مسجد روئے زمین کا سب سے پسندیدہ حصہ ہے، مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، مسجد اسلام کا شعار ہے، مسجد اسلامی معاشرہ کی روح ہے، مسجد مسلمانوں کا دینی وملی مرکز ہے، اور سب سے بڑھ کر مسجد خدا کا گھر ہے، یہی وجہ ہے کہ سرکار ذی وقار ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ پہنچے، تو اپنا مکان بعد میں بنایا، خدا کا گھر پہلے تعمیر کیا، اور پیغام دیا اپنی امت کو، کہ تمہارا گھر آباد ہو نہ ہو، خدا کا گھر ضرور آباد رکھنا!!

   خدا کا شکر ہے، امت نے اپنی نبی کے اس پیغام کو ہمیشہ یاد رکھا، اور ہر زمانے میں ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت، وسیع و عریض، شاندار و پروقار اور فن تعمیر کا شاہکار مسجدیں تعمیر کیں، جن کے ظاہر سے آنکھیں ٹھنڈک پاجائیں اور باطن سے دلوں کو قرار مل جائے! حرمین شریفین ہوں، یا مسجد اقصی ، اسپین کی مسجد قرطبہ ہو یا لاہور کی بادشاہی مسجد ، دہلی کی جامع مسجد ہو یا ایودھیا کی بابری مسجد ،ابو ظہبی کی شیخ زائد مسجد ہویا مالیگاوں کی لال مسجد ، روئے زمین کی ساری مسجدیں،مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کا مظہر ہیں، مگر افسوس! اب زمانہ بدل گیا، پہلے مسلمان مسجدوں کی ظاہری تعمیر سے زیادہ ان کی باطنی تعمیر کی فکر کیا کرتے تھے، اور اب حال یہ ہے کہ ؂

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہے

یا اقبال کی زبانی یہ کہا جاسکتا ہے ؂

مسجد تو بنادی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی تھا برسوں میں نمازی بن نہ سکا

     قارئین! یہ وہ تکلیف دہ صورتحال ہے، جس کے نتیجہ میں آج ملک بھر میں ایک نہیں، سینکڑوں ہزاروں بابری مسجدیں ویران ہیں، کسی مسجد پر غیروں نے قبضہ کر لیا ہے تو کسی مسجد کو اصطبل بنادیا گیا ہے، کسی مسجد پر محکمہ آثار قدیمہ قابض ہے تو کوئی مسجد بدمعاشوں کا ٹھکانہ بن چکی ہے، یہ ساری مسجدیں اپنی بربادی پر آنسو بہا رہی ہیں، اور مسلمانوں سے پوچھ رہی ہے، کہ تمہیں اگر بابری مسجد کے چھن جانے کا غم کیوں ہے، تو اپنے محلے کی مسجد کو آباد کرنے کی فکر کیوں نہیں؟ تمہیں مسجدوں کی تعمیر و توسیع کا شوق ہے، تو نمازیوں میں اضافہ کی تڑپ کیوں نہیں؟ تم مسجدوں کو شیشے اور ماربل سے مزین کرتے ہو تو اپنی جبین نیاز خم کرکے اسے آراستہ کیوں نہیں کرتے؟
    6 دسمبر کو برادران اسلام بابری مسجد کی بازیابی کیلئے احتجاج کرتے رہے، اور سڑکوں پر اذان دیتے رہے، لیکن بہت سارے مسلمان ایسے بھی ہیں جو محلے کی مسجد کی اذان سن کر نماز نہیں پڑھتے تو کیا بابری مسجد ان سے یہ شکوہ نہیں کرتی ہوگی ؂

نماز عشق اقامت کی منتظر ہے ابھی
اذاں پکار کے تم سو گئے کہاں آخر

      اس لئے اگر بابری مسجد کے چھن جانے کا غم ہے، اور خدا کے گھر سے سچا لگاؤ ہے تو اٹھو، اور اپنی بستی اور محلے کی مسجدوں کو آباد کرو، سجدوں سے، تلاوت قرآن سے، ذکر الہی،اعتکاف سے، مکاتب قرآنیہ سے، دینی اجتماعات سے، دعوت و تبلیغ کی محنت سے، ایک مہم چلاو مسجدوں کو آباد کرنے کی، تاکہ پھر کوئی مسجد بابری مسجد نہ بن سکے!!
     یاد رکھیں! بابری مسجد خدا کا گھر ہے، جن بد بختوں نے بابری مسجد کو شہید کیا، خدا ان سے ضرور انتقام لے گا، لیکن وہ بے نمازی بھی خدا کے عذاب سے نہیں بچ سکتے، جو محلے کی مسجد کو ویران کرتے ہیں،اس لیے میرا یہ پیغام ہے؂

آواز اذاں سن لے تو ہوشیار ہو مسلم
مسجد کی طرف مائل رفتارہومسلم
*-*-*

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے