حقائق اور غلط فہمیاں
تحریر:مفتی محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں 8446393682
اس وقت ہمارا موضوع ’’ایک سے زائد شادی‘‘ ہے، جس کے متعلق عام خیال یہ ہے کہ یہ بس اسلام کا حصہ ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایک سے زائد شادی کی اجازت تنہا اسلام نے ہرگز نہیں دی،بلکہ ایک مرد کے لئے کئی بیویاں رکھنا اسلام سے پہلے بھی تقریباً دنیا کے تمام مذاہب میں درست سمجھاجاتا تھا، عرب، ہندوستان، ایران، مصر، بابل وغیرہ ممالک کی ہر قوم میں کثرت ازدواج کی رسم بغیر کسی تحدید کے جاری تھی، اور کسی مذہب اور قانون نے اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی تھی، نہ یہود و نصاریٰ نے نہ ہندوؤں ،آریوں اورپارسیوں نے، نتیجہ یہ تھا کہ لوگ بہت سے نکاح کرلیتے تھے اور پھر عورتوں کے حقوق ادا نہیں کر پاتے تھے، اسی طرح عدل و مساوات کا بھی کہیں نام ونشان نہ تھا، جس بیوی سے محبت زیادہ ہوتی اس کوخوب نوازا جاتا اور جس سے رخ پھر گیا اس کے کسی حق کی پرواہ نہیں کی جاتی، اسلام نے اس ظلم عظیم کو روکا اور تعدد ازدواج کی کثرت پر پابندی لگائی، اور ایک وقت میں چار سے زائد عورتوں کو نکاح میں جمع کرنا حرام قرار دیا، ابوداؤد شریف کی روایت ہے کہ حضرت حارث ابن قیس اسدی ؓ فرماتے ہیں کہ میں جب مسلمان ہوا تو میرے نکا ح میں آٹھ عورتیں تھیں، میں نے رسول کریم ﷺ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ ان میں سے چار رکھ لو ، اور باقی کو آزاد کر دو۔
بہت سارے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اسلام نے ایک سے زائد شادی کی اجازت کیوں دی، اور اس پر پوری طرح پابندی عائد کیوں نہیں کی؟آخر تعدد ازدواج کے کیا فائدے اور مصالح ہیں؟کیاواقعی تعدد ازدواج ایک ناگزیر سماجی ضرورت ہے؟
ان سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
پہلی بات تو یہ کہ پیدائش کے لحاظ سے تو عام طور پر مردوں اور عورتوں کی تعداد برابر ہوتی ہے، لیکن قدرتی طور پر ایسے حالات اور آفا ت و حواد ث پیش آتے رہتے ہیں،جن کی بنا پر مردوں اور عورتوں کے درمیان تعداد کاتناسب برقرار نہیں رہتا، عام حالات میں مردوں کی تعداد گھٹ جاتی ہے، اور عورتوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے،
اس کے مختلف اسباب ہیں، مثلاً جنگ ،جرائم، اور حادثات،چنانچہ دوسری جنگ عظیم میں 80؍لاکھ سپاہیوں کی اموات ہوئیں، نتیجہ یہ ہوا کہ ایک تہائی مردوں کے مقابلے میں عورتیں دو تہائی رہ گئیں، یعنی ایک لاکھ مردوں کے مقابلے میں دو لاکھ عورتیں، اسی طرح عراق اورایران کی جنگ میں دس لاکھ سپاہی مارے گئے، آج بھی مختلف ممالک میں خانہ جنگی کے حالات ہیں، اسی طرح سڑکوں اور کارخانوں میں آئے دن پیش آنے والے حادثات میں عموماً مردوں کی اموات زیادہ ہوتی ہیں، جرائم کے نتیجے میں بھی زیادہ تر مردوں کو سزائے موت دی جاتی ہے، اب ان تمام ہلاک شدگان مردوں کی بیواؤں کے سامنے دو ہی راستے رہ جاتے ہیں،یا تو وہ کسی کے نکاح میں آکر باعزت زندگی بسرکریں، یا پھر اپنی عفت اور ناموس کی حفاظت کی خاطر دردر کی ٹھوکریں کھائیں،اور اپنی ضروریات زندگی کی تکمیل کے لئے مختلف غلط اور ناجائز راستوں کواختیار کریں چنانچہ عورتوں کی زائد تعداد کو ایڈجسٹ کرنے کے لئے اسلام کا یہ قانون رحمت ثابت ہوتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ کسی شخص کی بیوی اگر نکاح کے بعد کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہوجائے جس کے ہوتے ہوئے شوہر کے لئے ازدواجی تعلق قائم کرنے کی اجازت نہ ہو، تواب شوہر کے سامنے اپنی جنسی ضرورت کی تسکین اور اخلاق کے تحفظ کے لئے دو راستے ہیں:
(1) شوہر اپنی بیمار بیوی کوطلاق دیدے تا کہ دوسرا نکاح کر کے اپنی فطری ضرورت کی تکمیل کر سکے،ظاہر ہے کہ یہ صورت عورت کے لئے نقصان دہ ہے کہ ایسے وقت میں جب اسے شوہر کے سہارے اور رفاقت کی ضرورت ہو ،شوہر اسے طلاق دے کر رخصت کر دے ، نیز یہ چیز انسانی ہمدردی اور مروت کے بھی خلاف ہے۔
(2) شوہر اس بیمار بیوی کو اپنے نکاح میں باقی رکھتے ہوئے ایک اور نکاح کر لے اس طرح نہ صرف یہ کہ اس کی جنسی ضرورت کی بھی تکمیل ہوجائے گی بلکہ اس بیمار بیوی کی تیمارداری اور اس کی دیکھ ریکھ ممکن ہوگی۔
(3) اسی طرح اولاد کاحصول بھی نکاح کا ایک بڑا مقصد ہے،لیکن اگر کسی کی بیوی بانجھ ہو تو شوہر اولاد کی نعمت سے محروم رہتا ہے، اب اگر تعدد ازدواج کی اجازت قانوناً نہ ہو تو لا محالہ شوہر کو اس بانجھ بیوی کوطلاق دینی ہوگی،تا کہ وہ دوسرا نکاح کر کے اولاد کی نعمت سے بہرہ ور ہوسکے،چونکہ عورت کے بانجھ پن اور بیماری میں اس کاذاتی کوئی قصور نہیں ہوتا کہ اسے طلاق کی سزا دی جائے اور شوہر کی ہمدردانہ رفاقت ،معاشی اعانت اورامداد سے محروم کر دیاجائے،اس سے بہتر شکل یہ ہے کہ شوہر کسی اورخاتون سے نکاح کر کے اولاد کی نعمت حاصل کر لے اور دونوں ہی بیویوں کے حقوق برابر ادا کرتا رہے۔
(4) یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر سماج میں بیوہ ، مطلقہ، غریب، یتیم، اور شکل و صورت کے لحاظ سے ادنیٰ درجے کی لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے، جن کے لئے کنوارے مردوں کا ملنا دشوار ہوتا ہے،لہٰذا اگر ان کی شادی کا کوئی نظم نہ کیا جائے تو ان کی بے راہ روی کا شدید خطرہ ہوتا ہے، ان عمومی اور سماجی و اخلاقی مصلحتوں کے پیش نظر اسلام نے تعدد ازدواج پر پورے طور پر پابندی عائد نہیں کی، بلکہ عدل ومساوات کی کڑی شرائط کے ساتھ چار بیویوں کو ایک وقت میں نکاح میں رکھنے کی اجازت دی۔
غور کیا جائے تو محسوس ہوگا کہ تعدد ازدواج کا یہ قانون اگر مردوں کے حق میں بہتر ہے تو بلا شبہ عورتوں کے حق میں بہترین ہے۔جن ملکوں میں یک زوجگی کاقانون نافذ ہے وہاں قانونی طور پر تو ایک ہی بیوی ہوتی ہے، لیکن غیر قانونی تعلقات کی کوئی انتہا نہیں ہوتی، مغربی ممالک اس کی واضح مثال ہیں، خود وطن عزیز بھارت میں ایک بیوی کے رہتے ہوئے دیگر عورتوں سے مستقل ناجائز تعلق کوقانونی حیثیت دی گئی ہے، جسے ’’لیو اِن ریلیشن شپ ‘‘ Live In Relation Shipکامہذب نام دیاگیا ہے،جو عورتوں کی عفت و عصمت کی پامالی اور اُن کے جنسی استحصال کاذریعہ ہے۔
فطری طور پر بعض مردوں میں خواہش زیادہ ہوتی ہے، اور وہ مزید نکاح کے متمنی ہوتے ہیں لیکن بہت ساری عورتیں اپنے شوہروں کو دوسرے نکاح کی اجازت نہیں دیتیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگ غلط راہ پر نکل جاتے ہیں اور دنیا کے ساتھ آخرت بھی تباہ کرلیتے ہیں۔ ظاہر ہے اس گناہ کی ذمہ دار مخالفت کرنے والی بیویاں بھی ہوں گی جو ان کو حلال نکاح سے روکتی ہیں۔
اسی طرح برسوں تنہا رہنے والی بعض عورتوں کو جب ازدواجی زندگی اور سنگل رشتہ میسر نہیں آتا تو اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ بھی بے راہ روی کا شکار ہوجائیں، آئے دن پیش آنے والے واقعات اس کے گواہ ہیں، جو عورتیں پاکدامنی کے ساتھ زندگی گزارتی ہیں ان کے سامنے بھی معاشی مسائل ہوتے ہیں، ایسی عورتیں اگر کسی کی دوسری بیوی بن جائیں تو نکاح کی صورت میں ان عورتوں کو قانونی طور پر شوہر کی طرف سے روٹی کپڑا اور مکان بھی ملتا ہے اورسماج میں عزت کا مقام بھی ، جب کہ تنہا رہنے یا آزادانہ تعلقات کے نتیجہ میں طرح طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، سماج میں فحاشی اور بے حیائی پھیلتی ہے، مجبور عورتوں کا استحصال کیا جاتا ہے، ناجائز بچوں میں اضافہ ہوتاہے جو تمام پدری حقوق سے محروم ہوتے ہیں ،لہٰذا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ تعدد ازدواج ایک ناگزیر سماجی ضرورت ہے اور بہت سارے ذاتی سماجی اور اخلاقی مسائل کاحل بھی…!
شرط یہی ہے کہ مرد دوسرا نکاح کرنے کے بعد انصاف کرے، جو عورتیں ایک ہی وقت میں نکاح میں ہوں ان کے درمیان عدل وانصاف او ر حقوق کی ادائیگی میں برابری کی کڑی تاکید کی گئی ہے،قرآن کریم میں اللہ پاک نے چار بیویوں سے نکاح کی اجازت دے کر فرمایا: ’’اگر تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم انصاف نہیں کرسکو گے تو ایک ہی بیوی پر اکتفا کرو ۔‘‘
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر آدمی کے پاس دو بیویاں ہوں اور وہ ان کے درمیان انصاف نہ کرے تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کاایک پہلو جھکا ہوا (مفلوج) ہوگا۔ (مشکوٰۃ المصابیح)
آج اس سلسلے میں پائی جارہی غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کی سب سے بڑی وجہ بیویوں کے درمیان مردوں کی ناانصافی اور ظلم ہے، ورنہ خدا کے دین کا کوئی قانون اور نظام ناانصافی اور ظلم پر مبنی ہو ، ایسا ناممکن ہے۔ یہ میرا اور ہر صاحب ایمان مرد و عورت کا ایمان و عقیدہ ہے۔ کمی کوتاہی مسلمانوں کے اعمال اور کردار میں ہوسکتی ہے، اسلام میں ہرگز نہیں۔
نوٹ: اس مضمون کا مقصد لوگوں کو ایک سے زائد نکاح کی ترغیب دینا نہیں ہے، بلکہ ایک سے زائد شادی کے اسلامی نظام سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنا اور جو لوگ ایک سے زائد بیویاں رکھتے ہوں ان کو عدل و انصاف کی تاکید کرنا ہے۔ فافھم و تدبر
نوٹ : اس موضوع پر ایک آڈیو بیان بھی جاری کیا گیا ہے،جسے نیچے دی گئی لنک پر کلک کر کے ہمارے یوٹیوب چینل پر سناجاسکتا ہے۔
0 تبصرے