Ticker

6/recent/ticker-posts

پیشہ ور فقیری ایک سماجی ناسور

 پیشہ ور فقیری ایک سماجی ناسور
غیر مستحق کودے کر مستحق کو محروم نہ کریں

تحریر : مفتی محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں
8446393682

     نبی کریم ﷺ سے لوگوں نے ایک بار پوچھا :یارسول اللہ! سب سے بہتر کمائی کون سی ہے؟ فرمایا: اپنے ہاتھ کی کمائی اور ہر وہ کاروبار، جس میں جھوٹ اور خیانت نہ ہو۔ حضرت ابوقلابہؒ فرمایا کرتے تھے: بازار میں جم کر کاروبار کرو، تم دین پر مضبوطی کے ساتھ جم سکو گے اور لوگوں سے بے نیاز رہو گے۔اپنے دست وبازو کی کمائی او ر محنت ومشقت کے ذریعے حاصل ہونے والی روزی خدائے پاک کی بیش بہا نعمت ہے، جو انسا ن کو دوسرے انسانوں سے بے نیاز رکھتی ہیں، یوں بھی خدائے بے نیاز کے علاوہ کسی اور کے آگے ہاتھ پھیلانے سے کچھ اور ملے یا نہ ملے ،رسوائی ضرور ملتی ہے۔ 
خدا سے مانگ جو مانگنا ہے اے اکبر
یہی وہ در ہے جہاں آبرو نہیں جاتی
    مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے:’’جو بے نیاز کا بندہ ہے ،’’بےنیاز‘‘رہے ‘‘۔افسوس !مسلمانوں کے ایک طبقے نے بے نیازی کی اس صفت کو چھوڑ کر محتاج بنے رہنے کو اپنالیا ہے ،اور محنت ومشقت سے جی چرا کر ہر کس و ناکس کے سامنے دست سوال دراز کرنے کو اپنا پیشہ بنا لیاہے۔جس کے نتیجے میں بھیک مانگنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتاجا رہاہے، جو قوم مسلم کے لیے ایک المیہ اور بدنامی کا باعث ہے۔آج بھیک مانگنا ایک ضرورت اور مجبوری نہیں بلکہ ایک نفع بخش پیشہ بن چکا ہے۔جسے مردو عورت ،بچے بوڑھے اور جوان ،صحت مند اور بیمار ہر طرح کے افراد اختیارکر رہے ہیں، مردوں سے زیادہ تواب برقعہ پوش نوجوان عورتیں اس پیشے کو اختیار کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں، جوصبح تاشام ہوٹلوں پر بیٹھنے والوں اور راہ چلنے والوں کے سامنے انتہائی ڈھٹائی سے سوال کرتی ہیں۔ بلاضرورت بھیک مانگنا نہ صرف شرعاً ناجائز و حرام ہے بلکہ قانوناًجرم بھی ہے۔لیکن مذہبی قائدین اور قانون کے رکھوالوں کی عدم توجہ کے سبب معاشرے میں بھیک مانگنے والوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔
     ایک دفعہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک انصاری آئے اور انہوں نے آپ ﷺ سے کچھ سوال کیا، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: تمہارے گھر میں کچھ سامان بھی ہے؟ صحابی نے کہا: یارسول اللہ ! صرف دوچیزیں ہیں: ایک ٹاٹ کا بچھونا ہے، جس کو ہم اوڑھتے بھی ہیں اور بچھاتے بھی ہیں اور ایک پانی پینے کا پیالہ ہے۔ آپ ﷺ نے وہ دونوں چیزیں دو درہم میں نیلام کردیں اور دونوں درہم ان کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا:جائو ایک درہم میں تو کچھ کھانے پینے کا سامان خریدکر گھر والوں کو دے آؤ۔ ایک درہم میں کلہاڑی خرید کر لاؤ، پھر کلہاڑی میں آپ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے دستہ لگایا اور فرمایا:جاؤ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کاٹ کر لاؤ اور بازار میں فروخت کرو۔ پندرہ دن کے بعد ہمارے پاس آکر روداد سنانا۔ پندرہ روز کے بعد جب وہ صحابی حاضر ہوئے تو انہوں نے دس درہم جمع کرلیے تھے۔ آپ ﷺ خوش ہوئے اور فرمایا: یہ محنت کی کمائی تمہارے لئے اس سے کہیں بہتر ہے کہ تم لوگوں سے مانگتے پھرو اور قیامت کے روز تمہارے چہرے پر بھیک مانگنے کا داغ ہو۔ 
بھیک مانگنے کی بڑھتی ہوئی وباء پر قابو پانے کے سلسلے میں عوام پر بھی بڑی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ یہ کہ اگر سوال کرنے والا مستحق اور ضرورت مند نہ ہو تو اسے ہر گز بھیک نہ دی جائے ۔اس لئے کہ غیر مستحق شخص کو بلاتحقیق اگر زکوۃ یا واجب صدقات کی رقم وغیرہ دے دی جائے تو شرعاً ادائیگی درست نہیں ہوتی،اور دینے والے کے ذمہ فریضہ باقی رہتا ہے ،البتہ نفلی صدقات بہر حال ادا ہوجاتے ہیں لیکن غیر مستحق کو دینے سے اصل مستحق محروم رہ جاتا ہے ۔جب کہ اس طرح پیشہ ور گدا گروں کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے ،نیز ہر کس و نا کس کا تعاون کرنے کے نتیجے میں پیشہ ور بھکاریوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ،اس سلسلے میں گھر کی خواتین کو بھی آگاہ کرنے کی ضرورت ہے جو پیشہ ور فقیروں کے ظاہری حلیے کو دیکھ کر اور بناوٹی فر یاد کو سن کر پگھل جاتی ہے ۔
        عوام کی دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بلا ضرورت بھیک مانگنے والوں کو اچھے انداز میں سمجھائیں ۔           تیسری بات یہ کہ ایسے گدا گروں کو صلاحیت و قابلیت کے لحاظ سے انہیں کسی مناسب روز گار اور ذریعہ معاش سے جوڑنے کی کوشش کی جائے ،سماجی و فلاحی تنظیمیں اس سلسلے میں غور و فکر کریں تو مناسب حل نکل سکتا ہے ۔ 
   ہم لوگ چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والوں سے بہت زیادہ بھاؤ تاؤ کرنے کے بجائے ان سے چیزیں خریدیں بلکہ کچھ روپیہ بڑھاکر دیں تاکہ محنت سے کمانے والوں کی حوصلہ افزائی ہوسکے۔ افسوس بعض لوگ ہر چیز میں روپیہ دو روپیہ کم کرواتے ہیں اور ہٹے کھٹے بھکاریوں کو یوں ہی پانچ دس روپیہ دے دیتے ہیں جس سے ان غیر مستحق بھکاریوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

    یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ سوال کرنے والوں سے پیش آنے میں ہمارا رویہ تحقیر و تذلیل یا تکبر اور غصے والا نہ ہو،نہ ہم کسی سوالی کو دھتکارنے کی کوشش کریں، اس لئے کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اس سے منع فر مایا ہے :و اما السائل فلا تنھر(اور جو سوال کرنے والا ہو اسے نہ جھڑکو!)
       ٭…٭…٭

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے