Ticker

6/recent/ticker-posts

مولانا عبد الحمید ازہری

حضرت مولانا عبدالحمید ازہری کی رحلت غم انگیز سانحہ
مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی کا اظہار تعزیت
مالیگاؤں کے رہنے والے مشہور عالم دین، جامع ازہر کے فاضل، معہدملت کے سابق قدیم استاذ اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن مولانا عبدالحمید ازہری سنیچر کی شب دورہ قلب کی وجہ سے اللہ کو پیارے ہوگئے. انا للہ وانا الیہ راجعون
    محترم مولانا عبدالحمید ازہری رحمۃ اللہ علیہ معہدملت مالیگاؤں (مہاراشٹر) کے اولین فضلاء میں سے تھے،اللہ پاک نے انہیں گوناگوں خوبیوں سے نوازا تھا، وہ عربی زبان و ادب پر اچھی دسترس رکھتے تھے، اسی طرح ملی مسائل میں انہیں خصوصی دلچسپی تھی، اپنی جوانی کے زمانے میں سیاسی کاموں سے بھی متعلق رہے اور اپنے استاذ محترم حضرت مولانا عبدالحمید نعمانی رحمۃ اللہ علیہ (بانی مدرسہ معہدملت،مالیگاؤں) کے ساتھ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام کے وقت سے بورڈ کی تحریکات میں حصہ لیتے رہے، انہوں نے دسمبر 1972ء میں بمبئی میں منعقد ہونے والے مسلم پرسنل لا کنونشن میں بھی شرکت کی تھی، یہ ان کے عنفوان شباب کا زمانہ تھا، انہوں نے طویل عرصہ سعودی عرب میں بھی بغرض ملازمت گزارا، وہاں بھی دینی و ملی کام انجام دیتے رہے، چند برس قبل انہیں مسلم پرسنل لا بورڈ کا ممبر نامزد کیا گیا، اس سے پہلے وہ مدعو خصوصی کی حیثیت سے بورڈ کے اجلاس میں شرکت کیا کرتے تھے۔ بورڈ کا ممبر بنائے جانے کے بعد انہوں نے زیادہ دلچسپی کے ساتھ بورڈ کے مختلف کاموں میں حصہ لیا اور اس کی تحریکات میں  شریک رہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے چلائی جانے والی’’ دین دستور بچاؤ تحریک‘‘ میں بھی ان کا سرگرم حصہ رہا ۔ مالیگاؤں کی سطح پر مختلف مسالک و مکاتب فکر کی نمائندہ شخصیات پر مشتمل کل جماعتی تنظیم کے کاموں میں وہ تادم زیست پیش پیش رہےاور اس پلیٹ فارم سے انہوں نے مسلمانوں کےتحفظ کی گرانقدر خدمت انجام دی۔
   مولانا محترم کو زبان و بیان کے ساتھ قلم پر بھی دسترس حاصل تھی، مضمون نگاری کا انہیں خاص سلیقہ تھا، انہوں نے تقریر و تحریر کے ذریعے ملت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔ ان کے فکرانگیز مضامین مختلف اخبارات ورسائل میں شائع ہوتے تھے ۔مالیگاؤں سے تعلق رکھنے والے اکابر علماء اور شخصیات کے حالات زندگی پربھی انہوں نے مضامین لکھے، ان ہی مضامین کا مجموعہ کتابی شکل میں شائع ہوکر منظر عام پر آیا جس کا نام حضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی نور اللہ مرقدہ نے’’ قطرہ سے گہرہونے تک‘‘ تجویز فرمایا تھا۔  
  مولانا مرحوم تادم زیست ملی کاموں میں مصروف رہے، بڑھاپے اور کمزوری کے باوجود ابھی چند دن پہلے ہونے والے بورڈ کے ستائیسویں اجلاس (منعقدہ کانپور) میں بھی انہوں نے شرکت کی، اسی موقع پر ان سے آخری ملاقات ہوئی۔ گزشتہ کل اچانک ان کی رحلت کی خبر موصول ہوئی اور دل کو غمزدہ کرگئی۔ ان کی رحلت بورڈ کے لیے اور صوبہ مہاراشٹر کے دینی و ملی کاموں کے لیے بڑا خلا ہے. ان کی اچانک رحلت پر ہم اظہار افسوس کرتے ہیں اور ان کے اہل خانہ کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہیں. اللہ تعالیٰ حضرت مولانا کی مغفرت فرمائے، اعلیٰ علیین میں انہیں جگہ عطا فرمائے اور ان کے اگلے مرحلوں کو آسان کرےآمین۔

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے