پیغام جمعہ
ترتیب و پیشکش : مفتی محمد عامر یاسین ملی
محترم قارئین! آج شہر مالیگاؤں سمیت ملک بھر کی سینکڑوں مساجد میں نماز جمعہ سے قبل ائمہ مساجد اور علمائے کرام نے گلشن خطابت گروپ کے طے شدہ عنوان
*نئے سال کی آمد، جشن یا محاسبہ*
کے عنوان پر مشترکہ طور پر جو خطاب کیا اس کا خلاصہ آپ کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے، خود بھی پڑھیں اور بطور خاص اپنے گھر کی خواتین کو بھی پڑھ کر سنائیں ، جو خطاب جمعہ سننے سے محروم رہتی ہیں۔
(1) انسان کو اللہ پاک نے بہت مختصر زندگی عطا فرمائی ہے، کب یہ زندگی ختم ہو جائے کہا نہیں جاسکتا۔ اس لیے ہر بندہ مومن کو چاہیے کہ اس مختصر سی زندگی میں آخرت کے لیے زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کا ذخیرہ جمع کرے۔
(2) اسلام میں نئے سال کے موقع پر یا اپنے یوم پیدائش کے دن خوشی منانے یا ایک دوسرے کو مبارکباد دینے کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا ، یہ فضول اور گناہ کا کام ہے جس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہیے ۔
(3) نئے سال کا آغاز ہم سب کے لئے جائزہ لینے کا ہے کہ اب تک ہم نے اپنی زندگی میں اور گزرے سال میں دینی و دنیاوی لحاظ سے کیا کھویا اور کیا پایا ؟
(4) سال پورا ہونے پر یا تاریخ پیدائش کے موقع پر بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ عمر بڑھ رہی ہے حالانکہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ انسان کی عمر گھٹ رہی ہے اور وہ دنیا سے دور ہو رہا ہے۔
(5) وقت انتہائی تیزی کے ساتھ گزر رہا ہے اور یہ قرب قیامت کی علامت ہے۔ لہذا ہم لوگوں کو چاہیے کہ وقت کی قدر کریں، فضول کاموں میں وقت ضائع نہ کریں اور ایک نظام الاوقات کے تحت اپنی زندگی بسر کریں۔
(6) آج جب دنیا کی ایک بڑی آبادی نئے سال کا جشن منانے میں مصروف ہے، ہم غور کریں کہ ہم نے پورے سال میں کتنے نیک اعمال کیے اور ہم سے نافرمانی اور گناہ کے کتنے کام صادر ہوئے؟
(7) ہم ارادہ کریں کہ سال 2022 ء میں ہم لوگ ایمان، نیک اعمال ، موت کی تیاری، آخرت کی فکر اور بندوں کے حقوق اور ان کی خدمت نیز اسلام کی سربلندی کے لیے گزشتہ سال کے مقابلے زیادہ کوشش کریں گے۔
(8) زندگی چند دنوں کی ہے اور آخرت کی منزل بہت کھٹن ہے ، لہذا ہر دن کو اپنی زندگی کا آخری دن سمجھ کر آخرت کی تیاری کے ساتھ بسر کریں، ہو سکتا ہے کہ آنے والا یہ سال ہماری زندگی کا آخری سال ہو۔
قبر کےچوکٹھے خالی ہیں انہیں مت بھولو
جانے کب کونسی تصویر لگا دی جائے
(9) جو لوگ گزشتہ سال 31 دسمبر کو نئے سال کا جشن منا رہے تھے ان میں سے بہت سارے افراد آج قبر کے گڑھے میں تنہا بے ، یارومددگار پڑے ہوئے ہیں۔ ہم ان سے عبرت حاصل کریں۔
(10) دعا کا اہتمام کرے کہ اللہ تعالیٰ سارے عالم کے مسلمانوں کو خیر و عافیت نصیب فرمائے اور اسلام کو پورے عالم میں سربلندی نصیب کرے۔آمین
1 تبصرے
اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزاخیر آتا فرمائے
جواب دیںحذف کریںدعا کا اہتمام کرے کہ اللہ تعالیٰ سارے عالم کے مسلمانوں کو خیر و عافیت نصیب فرمائے اور اسلام کو پورے عالم میں سربلندی نصیب کرے۔آمین