Ticker

6/recent/ticker-posts

رشتہ نکاح ایک آسان عمل

رشتہ نکاح کا انتخاب ایک آسان عمل
 جسے ہم نے مشکل بنادیا!

از : مفتی محمد اسماعیل قاسمی
صدر جمعیت علماء مالیگاؤں

    دنیا کے دیگر مذاہب کے مقابلے میں مذہب اسلام میں نکاح بالکل سادہ اور آسان عمل ہے جو دراصل اسلام کا امتیاز ہے، مگر افسوس مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے نے غیروں کی دیکھا دیکھی نکاح کو مشکلات بھری چیز بنادیا ہے،ان مشکلات کا آغاز رشتہ نکاح کی تلاش ہی کے وقت سے شروع ہوجاتا ہے جب لوگ اسلامی ہدایات کو چھوڑ کر اپنے معیار کے مطابق رشتہ تلاش کرنے نکلتے ہیں، جس میں مہینوں بلکہ سالوں صرف ہوجاتے ہیں،اور پھر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے نکاح میں تاخیر کے سبب اخلاقی و سماجی برائیاں جنم لینے لگتی ہیں، حقیقت یہ ہے کہ دین داری و پرہیز گاری اور سیرت و کردار کی بنیاد پر رشتہ تلاش کیا جائے تو نہ صرف مناسب اور بہتر رشتہ جلد مل جاتاہے بلکہ آئندہ کی ازدواجی زندگی بھی خوشگوار ہوتی ہے۔
    نوجوان عالم دین مفتی محمد عامر یاسین ملی صاحب نے ایک اہم کتاب بنام رشتہ نکاح طے کرنے کا آسان طریقہ ، تالیف کی ہے،جس میں رشتہ نکاح سے متعلق اسلامی ہدایات اور اس سلسلے میں ہورہی بے اعتدالیوں اور کوتاہیوں پر آسان اور مؤثر انداز میں روشنی ڈالی ہے، الحمد للہ! آج بھی مسلمانوں میں اطاعت کا یہ جذبہ باقی ہے کہ وہ اسلامی ہدایات سامنے آنے کے بعد اپنی غلطیوں کی اصلاح کے لیے تیار ہوجاتے ہیں ۔ مجھے امید ہے کہ اس کتاب کا مطالعہ رشتہ نکاح کے سلسلے میں ہورہی بے اعتدالیوں اور کوتاہیوں کے ازالے کا ذریعہ بنے گا! وما ذلك علی اللہ بعزیز
      معاشرے کے ایک سلگتے ہوئے موضوع پر تالیف کی گئی اس کتاب کو میں ایک اہم ضرورت کی تکمیل سمجھتا ہوں، کتاب کے مؤلف عزیزم مفتی محمد عامر یاسین ملی ہمارے دیرینہ رفیق قاری محمد یاسین شمسی مرحوم کے لائق وفائق فرزند اور معہد ملت کے ممتاز فاضل ہیں۔ موصوف حالات حاضرہ کے عنوان پر نماز جمعہ سے قبل شہر کی مساجد میں اپنی تقریروں اور اخبارات ورسائل میں فکر انگیز تحریروں کے ذریعے اصلاح معاشرہ کی جدوجہد میں مشغول رہتے ہیں، اس کتاب کی تالیف ان کے اسی جذبہ کی ترجمان ہے اور لائق تحسین عمل بھی! 
    دعا گو ہوں کہ اللہ پاک اس کتاب کو اصلاح معاشرہ کا ذریعہ بنائے اور مؤلف کتاب کو استقامت اور حوصلہ سے نواز کر اجر جزیل مرحمت فرمائے ۔ربنا تقبل منا انك انت السمیع العلیم
نوٹ : چند سال قبل رشتہ نکاح نامی کتاب کی تالیف کے موقع پر مفتی صاحب نے اپنے مذکورہ تاثرات تحریر فرمائے تھے جنہیں تقریظ کی شکل میں کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔
                  ***

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے