Ticker

6/recent/ticker-posts

سفید داغ

 سفید داغ کی بیماری

کیا اس کی وجہ سے رشتہ نکاح ختم کیا جاسکتا ہے؟؟

از: مفتی محمد عامر یاسین ملی

( 8446393682)

       سفید داغ ایک بیماری ہے، جس کو برص بھی کہتے ہیں، بہت سارے افراد اسے متعدی( پھیلنے والی ) بیماری سمجھتے ہیں۔ یعنی کسی خاندان میں اگر کسی فرد کو یہ بیماری لاحق ہو اور ہم نے اس خاندان کے کسی فرد سے نکاح کرلیا تو یہ بیماری ہمارے خاندان میں بھی سرایت کر سکتی ہے۔ اس سوچ کا نتیجہ یہ ہے کہ کسی خاندان کے محض ایک فرد کو یہ بیماری ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں پورے خاندان کے لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے مناسب رشتہ نکاح کا ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس سلسلے میں اسلام کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ بیماریوں کے متعدی ہونے کا قائل نہیں ہے، البتہ خود لڑکے یا لڑکی کو یہ بیماری لاحق ہو تو چونکہ اس سے دوسرے فریق( شوہر یا بیوی) کو ذہنی طور پر کوفت اور تکلیف ہو سکتی ہے، اس لئے ایسے لڑکا یا لڑکی(جس کو یہ بیماری لاحق ہے) سے رشتہ نکاح کرنے سے اگر کوئی احتیاط کرے تو اس کی گنجائش ہے۔ لیکن اگر لڑکا یا لڑکی کو خود یہ بیماری لاحق نہ ہو، بلکہ ان کے کسی رشتے دار مثلا باپ ،دادا ، چچا، پھوپھی وغیرہ کو یہ بیماری ہو تو یہ سوچنا کہ اس خاندان کے ہر لڑکا یا لڑکی میں بھی اس کے جراثیم ہوسکتے ہیں،جو نکاح کے بعد ہمارے خاندان میں بھی سرایت کرجائیں گے ، یقینا یہ بات ایمان و یقین اور توکل علی اللہ کے منافی ہے۔

    کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی لڑکی یا لڑکے کو جسم کے کسی حصے پر معمولی سفید داغ ہوتا ہے، جسے رشتہ نکاح طے کرنے کے وقت چھپا لیا جاتا ہے، بعد میں جب یہ چیز سامنے آتی ہے تو پیچیدگی پیدا ہوتی ہے، اور نوبت طلاق تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ سچائی کا تقاضا یہ ہے کہ رشتہ نکاح طے کرنے کے وقت اس کی وضاحت کردی جائے تاکہ فریق ثانی کو بعد میں اعتراض کا موقع نہ رہے ۔ البتہ کسی مرد یا عورت کو نکاح کے بعد علم ہو کہ اس کے شریک حیات کو سفید داغ ہے تو اب اس سے درگزر کردینا ہی بہتر ہے۔ اس چیز کو بنیاد بنا کر رشتہ نکاح ختم کرنا اور معاملہ طلاق تک لے جانا صحیح نہیں ہے۔ دارالعلوم دیوبند سے اس سلسلے میں سوال کیا گیا تو یہی فتویٰ دیا گیا تھا۔ ذیل میں سوال و جواب ملاحظہ فرمائیں:

سوال : عبداللہ نے ایک لڑکی سے شادی کی ، شادی کے بعد پتا چلا کہ اس لڑکی کو سفید داغ کی بیماري ہے ، اوریہ بات شادی سے پہلے نہیں بتائی گئی تھی ، تو کیا اس بنیاد پر طلاق دی جا سکتی ہے ؟

جواب 

بسم الله الرحمن الرحيم 

    صرف اس بنیاد پر عبد اللہ کا اپنی بیوی کو طلاق دینا جائز نہیں۔ اگر عبد اللہ کو سفید داغ ہوجائے اور بیوی طلاق لینا چاہے تو کیا عبد اللہ پسند کریں گے؟ واللہ تعالیٰ اعلم

     کسی نے اس سلسلے میں یہ سوال بھی کیا تھا کہ مجھے برص (جلد میں سفید داغ) کی بیماری بہت دنوں سے ہے۔ براہ کرم اس کے لیے کوئی قرآنی دعا یا وظیفہ بتادی ۔اس کا جواب بھی ملاحظہ فرمائیں

بسم الله الرحمن الرحيم

     حدیث شریف میں ایک دعا آتی ہے آپ اسے روزانہ سات دفعہ پڑھ کر اپنے دونوں ہاتھ پر دم کرکے پورے جسم پر ہاتھ پھیر لیں وہ دعا یہ ہے : أَسْأَلُ اللہَ الْعَظِیمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، أَنْ یَشْفِیَنی اور یا سلام روزانہ کثرت سے پڑھتے رہیں یہ دونوں دعائیں بہت مجرب ہیں، خوب اخلاص کے ساتھ پڑھتے رہیں، اللہ تعالی آپ کو شفاء کامل عطا فرمائے ۔ آمین

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء

دارالعلوم دیوبند

ایک تبصرہ شائع کریں

2 تبصرے