Ticker

6/recent/ticker-posts

ازدواجی جوڑوں کے لیے تربیتی ورکشاپ، ضرورت اور فوائد

از: مفتی محمد عامر یاسین ملی 

موجودہ زمانے میں میاں بیوی کے اختلافات اور افراد خاندان کے درمیان پیدا ہونے والی دوریاں اس حد تک بڑھ ہوچکی ہیں کہ اب معاملات گھر کی دہلیز سے نکل کر پولیس اسٹیشن اور عدالتوں تک پہنچ رہے ہیں ۔ نکاح کو زیادہ عرصہ نہیں ہوتا کہ بعض مرتبہ نوبت طلاق اور جدائیگی تک پہنچ جاتی ہے۔ غور کیا جائے تو ان تمام تر تنازعات اور جھگڑوں کی بنیادی وجہ میاں بیوی اور افراد خاندان کا ایک دوسرے کے حقوق اور اپنی ذمہ داریوں سے ناواقف ہونا اور ان کی ادائیگی میں کوتاہی برتنا ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ میاں بیوی اور افراد خاندان کو ایک دوسرے کے مقام و مرتبہ ، حقوق اور اسی طرح اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا جائے۔ سوچنے کی بات ہے کہ ہم لوگ چھوٹے سے چھوٹا کام (مثلا ڈرائیونگ تیراکی اور تجارت) بھی بغیر سیکھے نہیں کرتے اور نہ بچوں کو کرنے دیتے ہیں ، لیکن نوجوان مرد و خواتین اپنی ازدواجی زندگی کا سفر بغیر سیکھے ہی شروع کر دیتے ہیں۔ سرپرست حضرات بھی اپنے بیٹے بیٹیوں کے نکاح کے لیے ظاہری تیاری کا خوب اہتمام کرتے ہیں لیکن اپنے علم اور تجربے کی روشنی میں ان کو ازدواجی زندگی کے اصول و آداب اور نزاکتوں سے واقف نہیں کراتے۔ حالانکہ دیگر تمام چیزوں کی طرح ازدواجی زندگی کے اصول و آداب معلوم کرنا اور کامیاب ازدواجی زندگی گزارنے کے لیے اہل علم اور تجربہ کار افراد سے تربیت حاصل کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ شہر مالیگاؤں کے ایک معروف عالم دین مولانا عبدالکریم ملی صاحب گوا میں مقیم ہیں، انہوں نے مجھے بتایا کہ یہاں کی عیسائی کمیونٹی کا ضابطہ یہ ہے کہ جب تک ان کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں فادر کی جانب سے طے شدہ میرج کورس پورا نہیں کر لیتے اور تمام تربیتی کلاسز اٹینڈ نہیں کرتے، اس وقت تک فادر ان کی شادی نہیں کراتا، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کی شادیاں بڑی حد تک کامیاب ثابت ہوتی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم معاشرے میں بھی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے پری میرج کورس یا شادی کے بعد ازدواجی زندگی کے اصول و آداب کے عنوان سے تربیتی کورس کو لازم قرار دیا جائے اور اس کے بعد ہی ان کا نکاح کیا جائے۔
 اسی غرض سے صفا فاؤنڈیشن کی جانب سے 14 دسمبر بروز اتوار بعد نماز عشاء حج کمیٹی ہال (اسکول نمبر ایک) قدوائی روڈ میں ایک تربیتی ورکشاپ رکھا گیا ہے، جس میں منظم انداز میں نئے ازدواجی جوڑوں اور نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی تربیت کی جائے گی۔اہلکار سوسائٹی مالیگاؤں کے صدر جناب الحاج نورانی درگاہی صاحب کی صدارت میں منعقد ہونے والے اس ورکشاپ میں حیدرآباد کے معروف عالم دین مفتی ابوبکر جابر قاسمی صاحب، مفتی محمد حسنین محفوظ نعمانی صاحب (قاضی شریعت دارالقضاء مالیگاؤں) اور ممبئی ہائی کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ مومن مصدق صاحب اپنا قیمتی لیکچر پیش کریں گے اور الگ الگ عنوان سے شرکاء کی رہنمائی فرمائیں گے۔
واضح ہوکہ اس ورکشاپ میں شریک ہونے والے افراد کے ناموں کا پہلے سے اندراج کیا جائے گا اور ورکشاپ میں ان کو قلم ، نوٹ بک، ازدواجی زندگی کے عنوان سے ایک مفید کتاب کے علاوہ سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے گا ۔چونکہ ورکشاپ کے انعقاد اور نظم و انتظام پر اچھا خاصا خرچ آئے گا، اس لیے فی نفر 100 روپیہ فیس بھی رکھی گئی ہے،تاکہ اخراجات کی تکمیل میں آسانی ہو اور ورکشاپ کی اہمیت بھی برقرار رہے۔
جن نوجوان بھائیوں اور بہنوں کا نکاح ہو چکا ہے اور جن کا نکاح عنقریب ہونے والا ہے، ایسے تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ اس تربیتی ورکشاپ کو غنیمت سمجھیں اور شریک ہو کر اس سے فائدہ اٹھائیں۔ گھر اور خاندان کے سرپرست حضرات سے بھی درخواست ہے کہ وہ اپنے نوجوان بیٹے بیٹیوں اسی طرح اپنی بہو اور داماد کو بھی اس تربیتی پروگرام میں شرکت کی ترغیب دیں۔
اللہ پاک کی ذات سے امید ہے کہ اس ورکشاپ کے ذریعے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں بطور خاص ازدواجی جوڑوں کی اچھی تربیت اور رہنمائی ہوسکے گی، وہ اپنے فرائض اور حقوق جان سکیں گے، اور عمل کے نتیجے میں ان کی ازدواجی زندگی میں خوشگوار تبدیلی آئے گی !
نوٹ: جو حضرات اس تربیتی ورکشاپ میں شریک ہونا چاہتے ہیں وہ اس وہاٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں : 
8446393682
                                 *-*-*

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے