Ticker

6/recent/ticker-posts

اچھے پڑوسی کی تلاش

از: مفتی محمد عامر یاسین ملی

راہ چلتے ہوئے ایک بورڈ پر نظر پڑی جس پر لکھا ہوا جملہ دل کو چھو گیا ۔ آ پ بھی پڑھیں : آج ہر شخص اچھے پڑوسی کی تلاش میں ہے ، آپ اچھا پڑوسی تلاش نہ کریں بلکہ خود ایک اچھے پڑوسی بن جائیں تاکہ کسی دوسرے کی تلاش پوری ہوسکے ۔
قارئین ! ہم جانتے ہیں کہ آج کے دور میں پرسکون مکان خریدنا کا قدر مشکل کام ہے لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مکان کے آس پاس اچھے پڑوسی کا مل جانا اس سے کہیں زیادہ مشکل کام ہے ۔احسان وحسن سلوک، ہمدردی و غم خوای، اور عفوودرگزر ،یہ ساری صفات پہلے اکثر پڑوسیوں میں پائی جاتی تھیں ،اب ان کی جگہ خود غرضی و مفاد پرستی ،ظلم وزیادتی ،ایذارسانی وبدسلوکی اور انتقام جیسی صفات نے لے لی ہیں ،نتیجہ یہ ہے کہ آج بہت سارے لوگ اچھا مکان ہوتے ہوئے اچھے پڑوسی سے محروم ہیں بلکہ اپنے پڑوسی کی شرارتوں سے پریشان ہیں ،پڑوسی کو مختلف طرح سے پریشان کرنا اور تکلیف دینا آج گویا گناہ ہی نہیں سمجھا جاتا ،پڑوسی کے گھر کے سامنے کچرا ڈال دینا ،سواری لگا کر اس کا راستہ تنگ کردینا ،تیز آواز سے ٹیپ بجانا کہ اس کی نیند اچٹ ہو جائے ، پڑوسی کی غیبت اور عیب جوئی کرنا خصوصاً اس کے بچوں کے رشتہ ٔ نکاح میں رکاوٹ ڈالنا ،یہ وہ خرابیاں ہیں جس نے مسلم معاشرے کے ماحول کو انتہائی پراگندہ کردیا ہے ،کل تک جو پڑوسی رشتے داروں سے زیادہ عزیز اور خیر خواہ ہوا کرتا تھا آج وہی پڑوسی تکلیف اور عداوت کا دوسرا نام بن چکا ہے ،جس کی وجہ سے بعض لوگوں کو اپنا مکان فروخت کرنے کی نوبت آجاتی ہے ۔تعجب تو اس بات پر ہے کہ پڑوسی کو تکلیف دینے والے مسلمان ہیں جو اس حدیث سے بخوبی واقف ہیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا کہ ’’قسم بخدا وہ مومن نہیں جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔ (بخاری)
قرآن پاک اور احادیث میں پڑوسی کے حقوق بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں، جن کی ادائیگی کو ایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے ، اگر پڑوسی کے حقوق(اس کی مدد کرنا، اس کی خوشی اور غم میں شریک رہنا، اس کو راحت پہنچانے کی کوشش کرنا اور تکلیف نہ دیناوغیرہ) کی رعایت کی جائے تو معاشرے میں نہ صرف میل محبت کی فضا قائم ہوسکتی ہے بلکہ اگر ہمارا پڑوسی غیر مسلم ہو تو یہ چیز اس کو اسلام سے قریب کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ 
ضرورت اس بات کی ہے کہ پڑوسی کے حقوق سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے ، خوشی کی بات ہے کہ اس سلسلے میں بیداری لانے کی غرض سے جماعت اسلامی ہند کی جانب سے ان دنوں ملک بھر میں حقوق ہمسایہ کے عنوان سے مہم جاری ہے۔ مقامی سطح پر جناب عبد العظیم فلاحی صاحب کی نگرانی میں یہ مہم چلائی جارہی ہے ، ہر خاص و عام کو اس مہم کا کسی نہ کسی صورت میں حصہ بننا چاہئے، آخری درجہ میں اپنا جائزہ لے کر خود کو ایک اچھا پڑوسی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ کسی کی تلاش پوری ہوسکے، یہی اس مہم کا بنیادی مقصد ہے۔
اللہ پاک ہمیں ایک اچھا اور مثالی پڑوسی بننے کی توفیق عطا فرمائے اور پڑوسیوں کے شر سے ہم سب کی حفاظت فرمائے آمین!
                                            ٭ ٭ ٭

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے