از: مفتی محمد عامر یاسین ملی
(امام و خطیب مسجد یحییٰ زبیر9028393682)
اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے جو شریعت نازل کی ہے،اس میں جہاں باہمی یگانگت ، محبت اور موافقت کی صورتوں کے احکام بتائے گئے ہیں، وہیں باہمی نزاع و اختلاف اور تصادم کے مواقع کے لئے بھی احکام دیئے گئے ہیں، اختلاف اور نزاع کو فیصل کرنے کے لئے دوباتیں ضروری ہیں، ایک یہ کہ حقیقی صورت حال کو سمجھاجائے ، جھوٹ اورسچ کے درمیان امتیازپیدا کیا جائے اور صحیح صورت واقعہ سامنے لائی جائے، پھر جو صورت حال سامنے آتی ہے، اس پر احکام شرعیہ کو مرتب کیا جائے اور دونوںفریق کو ان احکام پر عمل کرنے کا پابند بنایاجائے۔اسی مقصد کے لیے شریعت میں قضاء کا نظام رکھا گیا ہے۔اس لئے کہ عدل و انصاف ایک سماجی ضرورت ہی نہیں بلکہ عبادت بھی ہے اور اسلام کے نظام عدل سے استفادہ اور اسے اپنی زندگی میں بسانے کے لیے دارالقضاء کا قیام انتہائی ضروری ہے۔ جس شخص کو قضاء کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے ، اسے قاضی کہاجاتا ہے، قرآن مجید میں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہماالسلام کے فصل خصومات کا ذکر موجود ہے، رسول اللہ ﷺنے خودفیصلے فرمائے ہیں، او ر بعض صحابہ کو بھی یہ ذمہ داری سونپی ہے، حضرت ابو بکر ؓخود فیصلہ فرمایاکرتے تھے ،اور حضرت عمر کو بھی آپ ؓ نے قاضی مقرر فرمایا تھا، حضرت عمرؓ کے عہد میں حضرت زید بن ثابتؓ اور حضرت ابی بن کعب ؓ نے قضا کا فریضہ انجام دیاہے، اسی عہد میں اسلامی تاریخ کے مشہورقاضی ’’قاضی شریح‘‘ عہدۂ وقضا پر فائز کئے گئے، جنہوں نے پوری خلافت راشدہ کے دوران قضا کا فریضہ انجام دیا، پھر اسلامی تاریخ کاایک خوشگوار پہلویہ ہے کہ قضاۃان مسلمان حکومتوں میں بھی پوری غیر جانبداری اور عدل وانصاف کے ساتھ فریضۂ قضاء انجام دیتے رہے۔جو بہت زیادہ احکام شریعت کی پابندنہیں تھیں۔ خودمغلیہ دور تک ہندوستان میں مسلمانوں کے مقدمات شرعی عدالتوں میں فیصل ہوتے رہے۔غرض کہ اسلام میں قضاء کی ایک روشن اورتابناک تاریخ ہے، جس میں حاکم اور محکوم ، بادشاہ اور رعایا، طاقت ور اور کمزور ،دولت مند اورغریب اور مسلمان اور غیر مسلم کے درمیان کوئی امتیاز نہیںبرتا گیا۔
مشہور واقعہ ہے حضرت علی ؓ بن ابی طالب کی ایک زرہ گم ہو گئی، انہوں نے وہ زرہ ایک یہودی کے ہاتھ میں دیکھی ، وہ اسے کوفہ کے بازار میں فروخت کر رہاتھا، حضرت علی ؓ نے کہا: ’’یہ زرہ میری ہے ، نہ میں نے کسی کو دی ہے اور نہ کسی کے ہاتھ فروخت کی ہے ۔‘‘یہودی نے کہا ’’زرہ میری ہے اور میرے قبضہ میں ہے۔‘‘حضرت علی ؓ نے کہا کہ پھر قاضی کے پاس چلو۔چنانچہ دونوں ہی قاضی شریح کی عدالت میں حاضر ہوئے۔حضرت علی ؓ نے دعویٰ کیا،یہودی نے جواب دیا، قاضی شریح نے حضرت علی ؓ سے ثبوت طلب کیا ، حضرت علی ؓؓ نے دو گواہ پیش کئے ، ایک اپنے بیٹے سید ناحسن ؓ کو اوردوسرے اپنے آزاد کردہ غلام قنبر کو۔
قاضی شریح نے کہا : امیرالمومنین ! بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں مقبول نہیں! حضرت علی ؓ نے حیرت کے ساتھ فرمایا:’’سبحان اللہ!جنتی شخص کی شہادت بھی قبول نہیں کی جائے گی ؟ میں نے حضورﷺ سے سنا ہے کہ حسن وحسین اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔بہر حال قاضی نے حضرت علی ؓ کے پاس گواہ نہ ہونے کے سبب یہودی کے حق میں فیصلہ کر دیا۔یہودی نے اسلامی عدالت کے اس حیرت انگیز عدل وانصاف کو دیکھ کر کہا: امیرالمومنین مجھے اپنے قاضی کے پاس لائے، اورقاضی امیرالمومنین کے خلاف فیصلہ دے رہے ہیں، میں گواہی دیتاہوں کہ یہ دین’’دین برحق ‘‘ہے اورشہادت دیتاہوں کہ اﷲ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اﷲ کے بندے اور رسول ہیں۔
یہ اسلامی تاریخ کا ایک روشن اور تابناک پہلو ہے جو اسلام کے نظام عدل و انصاف اور منصب قضاء پر فائز افراد کے کردار کو واضح کرتا ہے۔ الحمد للّٰہ! آج بھی ملک بھر میں سینکڑوں مقامات پر دارالقضاء قائم ہیں جن سے مسلمان رجوع کرتے ہیں۔ ہمارے اپنے شہرعزیز مالیگاؤں میں بھی 1973سے دارالقضاء قائم ہے جو معروف دینی درسگاہ معہد ملت گولڈن نگر میں واقع ہے۔اب تک یہاں پر ہزاروں مقدمات فیصل ہو چکے ہیں۔ فی الوقت منصب قضاء کی ذمہ داریاں حضرت مولانا مفتی حسنین محفوظ نعمانی صاحب نبھا رہے ہیں۔شہر عزیزمالیگاؤں پورے ملک میں علماء ،مساجد ومدارس اور دیندار افراد کا شہر کہلاتا ہے۔لیکن یہ دیکھ کرافسوس ہوتا ہے کہ اسی شہرکے بہت سارے افراداپنے خاندانی اور گھریلو مسائل کے حل کے لئے شرعی عدالت (دارالقضاء)کے بجائےعدالتوں کارخ کررہے ہیں۔شہرکی عدالت ،پولس اسٹیشن اور مہیلا منڈل میں آپ کو مسلمان مرداوربرقعہ پوش خواتین کی اچھی خاصی تعداد دکھائی دیں گی جو اپنے معاملات کے حل کے لیے اسلامی قوانین کے بجائے ملکی قوانین کا سہارا لیتی ہیں، حالانکہ خود ملک کا آئین ہمیں اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہم اپنے عائلی معاملات کو اپنے پرسنل لا کی روشنی میں حل کر سکتے ہیں۔
اسلام کا نظام عدل انسانی نفسیات سے زیادہ قریب ہے اور کم وقت اور کم خرچ والا بھی ہے۔اگر ایمان زندہ ہے اور اسلامی غیرت و حمیت باقی ہے تو اپنے معاملات ومسائل کے سلسلے میں دارالافتاء و دارالقضاء سے رجوع ہو کر شریعت کی روشنی میں فیصلہ کروانا اور اسے نافذکرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ عدالتوں میں اپنے خاندانی مسائل لے جانے سے گھر کی عزت باہر آتی ہے، روپیہ پیسہ بھی خوب خرچ ہوتا ہے اور پھر اب تو شاذو نادر ہی مظلومین کو مکمل انصاف مل پاتاہے۔اس لیے کہ آئین کے لچکدار رویوں اورقوت نافذہ کی بددیانتی کے سبب موجودہ نظام عدل دن بہ دن مشکلات کی جانب بڑھ رہا ہے۔آج بے شمار ملزمین سماعت نہ ہونے کے سبب جیلوں میں بند ہیں اور بہت سارے خطرناک مجرمین ضمانت پرآزاد گھوم رہے ہیں۔ اس لیے جہاں جہاں دارالقضاء قائم ہے وہاں کے مسلمانوں کی بنیادی دینی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے خاندانی مسائل (نکاح، طلاق، وراثت، اور ہبہ وغیرہ)میں دارالقضاء سے رجوع کریں اور اس کے فیصلوں کو اپنی زندگی میں نافذ کریں۔ نیز عدالتوں کارخ کرنے سے پہلے ایک مرتبہ یہ ضرور دیکھ لیں کہ ان کے پاس یہ تین چیزیں ہیں یا نہیں ؟
(1) حضرت نوح ؑکی عمر
(2) حضرت ایوب ؑ کاصبر
(3) قارون کی دولت !
عقلمند کے لیے اشارہ کافی ہے۔
٭٭٭
1 تبصرے
بہت خوب
جواب دیںحذف کریں💐