Ticker

6/recent/ticker-posts

استخارہ کا غلط سہارا

جھوٹ کے لئے استخارہ کا سہارا ایک سنگین گناہ

از: مفتی محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں

     زندگی کے اہم معاملات مثلاً سفر ،نکاح ،ملازمت اور تجارتی امور وغیرہ میں استخارہ کر لینا چاہئے۔استخارہ کے معنی ہیں خیر اور بھلائی طلب کر نا، جن اہم اور جائز کاموں میں آپ پر خیر کا پہلو واضح نہ ہو،ان میں استخارہ کرنا اور پھر جس جانب کا قلب میں میلان محسوس ہو اس کو قضائے الہی سمجھ کر اختیارکرنے سے انسان بہت ساری پریشانیوں اور نقصانات سے محفوظ رہتاہے اور کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے۔استخارہ کاطریقہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی غیر معمولی کام در پیش ہوتو مکروہ اور حرام اوقات کے علاوہ جب بھی چاہیں دو رکعت نفل ادا کریں اور پھر استخارے کی دعا پڑھیں ۔ جضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے فر مایا :’’خدا سے استخارہ کرنا اولاد آدم کی سعادت ہے اور قضاء الہی پر راضی ہوجانا بھی اولاد آدم کی سعادت ہے اور اولاد آدم کی بد بختی یہ ہے کہ وہ خدا سے استخارہ نہ کرے اور خدا کی قضا (فیصلہ) پر ناخوش ہو۔‘‘ (مسند احمد)
     آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا :’’استخارہ کرنے والا کبھی نامراد نہیں ہوتا اور مشورہ کرنے والا کبھی نادم نہیں ہوتا اور کفایت سے کام لینے والا کبھی کسی کا محتاج نہیں ہوتا ۔‘‘ (طبرانی)
     حضرت جابرؓکا بیان ہے کہ نبی کریم ﷺ جس طرح ہمیں قرآن پڑھایا کرتے تھے ،اسی طرح ہر کام میں استخارہ کرنے کی بھی تعلیم دیتے تھے ۔فر ماتے’’جب تم میں سے کوئی کسی اہم معاملے میں فکر مند ہو تو دو رکعت نفل پڑھے اور پھر استخارہ کی دعا پڑھے،استخارہ کی دعا ذیل میں نقل کی جارہی ہے :

اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ أَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ، وَ أَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ ، فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَ لاَ أَقْدِرُ، وَ تَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ، وَ أَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ اَللّٰهُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَ مَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ وَ عَاجِلِهٖ وَ اٰجِلِهٖ ، فَاقْدِرْهُ لِیْ ، وَ یَسِّرْهُ لِیْ ، ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْهِ وَ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ شَرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ وَ عَاجِلِهٖ وَ اٰجِلِهٖ ، فَاصْرِفْهُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْهُ ، وَاقْدِرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ اَرْضِنِیْ بِهٖ

جو لوگ عربی میں استخارہ کی دعا نہ پڑھ سکتے ہوں وہ اردو میں بھی دعا کر سکتے ہیں۔

    استخارہ کی دعا کا ترجمہ درج ذیل ہے:
’’خدایا!میں تجھ سے تیرے علم کے واسطے سے خیر کا طلب گار ہوں،اور تیری قدرت کے ذریعے تجھ سے تیرے عظیم فضل کا سوال کرتا ہوں ،اس لئے کہ تو قدرت والا ہے ،اور مجھے ذرا قدرت نہیں ۔تو علم والا ہے اور مجھے علم نہیں اور تو غیب کی ساری باتوں کو خوب جانتا ہے۔
خدایا !اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لئے بہتر ہے میرے دین و دنیا کے لحاظ سے اور انجام کے لحاظ سے تو میرے لیے اسے مقدر فر ما اور میرے لئے اس کو آسان کر، اور میرے لئے اس کو مبار ک بنادے ۔اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لئے برا ہے ،میرے دین اور دنیا کے لحاظ سے اور انجام کے لحاظ سے تو اس کام کو مجھ سے دور رکھ اور مجھے اس سے بچائے رکھ اور میرے لئے خیر اور بھلائی مقدر فر ما جہاں کہیں بھی ہو، اور پھر مجھے اس پر راضی ویکسو بھی فرمادے۔‘‘                          
     مذکورہ بالا تحریر سے استخارہ کی اہمیت اور اس کا طریقہ معلوم ہوتاہے، ہمارے معاشرے میں بہت سارے افراد کو استخارہ کے بارے میں ٹھیک ٹھیک معلومات نہیں ہوتی، لہٰذا انہیں جب کوئی اہم کام پیش آتا ہے تووہ دوسروں سے استخارہ کراتے ہیں، حالانکہ صاحب معاملہ خود استخارہ کرے، یہ زیادہ بہتر ہے، اسی کے ساتھ یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ استخارہ کوئی حرف آخر نہیں ہے ،کوئی معاملہ ہمارے لئے خیر ہے یاشر ، اس کا یقینی علم ہماری دسترس میں نہیں ہے، اور استخارہ بھی ہمیں اس نتیجے تک نہیں پہونچاتا، استخارہ کالفظی معنیٰ خیر اور بھلائی طلب کرنے کے ہیں، اس لئے بعض اکابر نے لکھا ہے کہ انسان کو استخارہ کے ساتھ استشارہ ( مشورہ) بھی کر لیناچاہئے ، یعنی معاملے کے اچھے اور برے پہلوؤں پر غور وخوض کرنا ،جانکاروں سے مشورہ لینا اور اس کے بعد کرنے یا نہ کرنے کافیصلہ کرنا۔
     بعض لوگ بغیر غوروفکر اور رائے مشورہ کے محض استخارہ کی بنیاد پر کوئی اہم فیصلہ کر لیتے ہیں اوراس کے بعد غوروفکر کے نتیجے میں جب معاملہ کے دوسرے پہلوسامنے آتے ہیں تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

    مثلاً:بعض عورتیں اپنے لڑکے کے لئے لڑکی دیکھ کر فوراً پسند کرلیتی ہیں اور استخارہ کر کے رشتہ منظور بھی کر لیتی ہیں، لیکن جب کچھ دنوں کے بعد دوسرے پہلو سامنے آتے ہیں تو یہ کہہ کر رشتہ نا منظور کرتی ہیں کہ ’’استخارہ میں سمجھ میں نہیں آیا‘‘۔یہ بھی دیکھا گیاہے کہ بعض لوگ اپناجھوٹ یا عذر چھپانے کے لئے بھی استخارہ کا سہارا لے کر برسوں سے طے کئے گئے رشتوں کو نا منظور کر دیتے ہیں۔
    آنکھوں دیکھا واقعہ ہے ،ایک جگہ لڑکے والوں نے لڑکی کو دیکھنے کے بعد رشتہ منظور کر لیا، کافی دنوںت تک دونوں خاندانوں کا ایک دوسرے کے یہاں آناجانا جاری رہا،اور تحفے تحائف کا تبادلہ بھی ہوتا رہا، یہاں تک کہ نکاح کے لئے تاریخ طے کرنے کا موقع آیا ،جس وقت تاریخ طے کرنے کے لئے دونوں خاندان کے افراد اکٹھا ہونے والے تھے،اس سے کچھ دیر پہلے لڑکے والوں نے یہ کہہ کر رشتہ نا منظور کردیا کہ ’’ہم نے پانچ لوگوں سے استخارہ کروایا ،کہیں بھی اس رشتے کے لئے مثبت جواب نہیں ملا‘‘۔
     اس طرح جھوٹ کے لئے استخارہ کا سہارا لینا جہاں گناہ کبیرہ کا ارتکاب ہے وہیں ایک بہترین شرعی عمل کاغلط استعمال بھی! اس کے نتیجے میں جس لڑکی کا رشتہ ٹھکرایا جاتا ہے کیا وہ سونچتی نہیں ہوگی کہ مجھ میں ایسی کیا کمی ہے کہ استخارہ میں بھی میرا رشتہ رد کر دیاگیا، لہٰذا اولاً کسی بھی معاملہ میں استخارہ کرنے اور اچھی طرح غوروفکر اور مشورہ کرنے کے بعد فیصلہ کریں، اوربہتر یہی ہے کہ صاحب معاملہ بذات خود استخارہ کرے، پھر اس کے بعد کوئی فیصلہ لے تو امید کی جاسکتی ہے کہ خیراور کامیابی حاصل ہوگی ! 
    اگر کسی کام میں استخارہ کرنے کے بعد بھی خیراور کامیابی حاصل نہ ہو توافسو س نہ کریں، نہ ہی مایوس ہوں ، اس لئے کہ اﷲ وہی فیصلہ کرتا ہے جو بہتر ہو، کبھی وہ چھوٹے نقصان کے ذریعہ ہمیں بڑے نقصان سے بچالیتا ہے، لیکن ہمیں اس کا علم نہیں ہوتا،اور ہم افسوس کرتے ہیں ، قرآن کریم میں ہے:وَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْاشَیْئًا وَّ ھُوَخَیْرٌ لَّکُمْ وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ ھُوَشَرٌّلَّکُمْ وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (سورۂ بقرہ۲۱۶)
ترجمہ:ممکن ہے کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ تمہارے حق میں مفیدہو، اورممکن ہے کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمہارے لئے مضر ہو ،اوران باتوں کو خدا ہی جانتاہے اور تم نہیں جانتے۔
٭…٭…٭

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے